جماعت احمدیہ کا پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے کا اعلان

جماعت احمدیہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کا تحفظ کرنے والے پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے والے لوگ ہیں لیکن آئین کی صرف اس شق کو ماننے سے انکاری ہیں جس کے تحت انھیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ پاکستان نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اقلیتی کمیشن میں ان کے نمائندے کی شمولیت کے حوالے سے نہ تو انھوں نے کوئی مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی حکومت کا ان سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے مرکزی ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کو شامل کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے جاری بحث سے وہ پاکستان میں مزید غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔جماعت احمدیہ کی جانب سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل احمدی برادری کو اقلیتی کمشین میں شامل کرنے سے متعلق تجویز کابینہ کے ایک اجلاس میں سامنے آئی تھی۔ خیال رہے کہ پاکستان کے آئین میں احمدیوں کو ایک ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے احمدی برادری کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے اس کمیشن میں شامل کئے جانے کی نہ ہماری جانب سے کوئی خواہش تھی اور نہ ہی شامل نہ کئے جانے پر کوئی افسوس ہے۔ ویسے بھی اگر ہم اقلیتی کمیشن میں شامل ہوجائے تو ہم اس بات کو تسلیم کرلیں گے کہ ہم پاکستان میں ایک غیر مسلم اقلیت ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہم احمدی مسلمان ہیں، اقلیت نہیں۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بحث کے دوران حکومتی عہدیداروں کے بیانات سے پاکستان میں موجود احمدیوں کو مزید امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی پارلیمان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کے ایمان کا فیصلہ کریں کیونکہ یہ انسان اور اس کے خدا کے درمیان کا معاملہ ہے۔ان کے مطابق ملک میں اقلیتی کمیشن کے اتنے اختیارات نہیں ہیں جتنے کہ ہونے چاہییں۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس آئینِ پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں جو مذہبی آزادی دیتا ہے لیکن اس میں ترامیم کر کے احمدی برادری کو اقلیت قرار دیے جانے کووہ بالکل ماننے کو تیار نہیں۔ ہم لوگ اپنے آپ کو اقلیت تسیلم نہیں کرتے اور ہمیں پارلیمان نے ناجائز طور پر 1974 میں ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا تھا۔’
سلیم الدین نے مزید کہا کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں احمدیوں کے بارے میں کیا بات کی گئی اور پھر ٹیلی ویژن پر آکر وزیر نے کیا بات کی۔ اس سے انھیں تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ تاہم ہمارے لوگ پہلے ہی غیر محفوظ ہیں اور اس معاملے کے بعد ہم مزید غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے خلاف پاکستان میں پہلے ہی نفرت اور اشتعال انگیزی پائی جاتی ہے اور حکومتی عہدیداروں کی تازہ باتوں کی وجہ سے ان کو مزید ہوا مل گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے مسائل صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اٹھائے جاتے ہیں۔ ‘آئین کی جس شق کے مطابق ہمیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہم اقلیت ہونے کا اعلان کریں۔ اس لیے ہم اس بات کو تسیلم ہی نہیں کرتے۔’
احمدی برادری کی رضامندی اور اجازت کے بغیر انھیں بطور رکن اقلیتی کمیشن میں شامل کئے جانے کے حوالے سے ایڈووکیٹ اسد جمال کا کہنا ہے کہ ‘آئین پاکستان میں موجود ہر شخص کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ تاہم چند حکومتی وزرا کا مؤقف ہے کہ احمدی آئین کو نہیں مانتے، اس لیے انھیں وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو آئین کے تحت اقلیتوں سمیت تمام پاکستانیوں کو حاصل ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ‘آئین کو نہ ماننے والے لوگوں کے بھی بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں جو پورے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی آئین کی شقوں سے اختلاف کرتا ہے تو پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔’
دوسری طرف تاریخ دان یعقوب بنگش کے مطابق پاکستان میں سنہ 1990 سے کئی ایڈ ہاک اقلیتی کمیشنز کام کر رہے تھے تاکہ غیر مسلم آبادی کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔ جس اقلیتی کمیشن پر یہ ساری بحث کی جا رہی ہے، وہ ایک نام نہاد کمیشن ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور کمیشن صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے۔ یہ کمیشن 1990 میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بنا تھا۔۔۔ اقلیتی برادری کی بات یا مسائل آگے وزارت مذہبی امور تک پہچانے کے لیے یہ کمیشن بنایا گیا تھا۔ یہ قانونی بنیادوں پر بنا ہوا ادارہ نہیں ہے۔ انسانی حقوق کے قومی کمیشن کی قانونی حیثیت ہے لیکن اقلیتی کمیشن کی نہیں ہے۔ 2016 میں انسانی حقوق کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومتِ پاکستان نے اقوام متحدہ سے معاہدہ کیا تھا کہ اقلیتی کمیشن کو قانون کے تحت قائم کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘اختلاف رائے کی آزادی، مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی کا بنیادی حق جو آئین پاکستان ہر شہری کو دیتا ہے اس کی بنیاد پر احمدی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم صرف خود کو غیر مسلم قرار دینے والی شق کو نہیں مانتے اور باقی آئین کو مانتے ہیں۔ کیونکہ قانونی طور پر اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کی شقوں پر بحث کی جاسکتی ہے۔ اصولی طور پر جب ریاست پاکستان انھیں غیر مسلم قرار دیتی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں سے جڑے ہر معاملے پر احمدیوں کو دعوت دیں۔‘
دوسری طرف صدر لاہور بار ایسوسی ایشن جی اے خان طارق کا ماننا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری آئین کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ ’آئین پاکستان نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے اس لیے جو اقلتیوں کے حقوق ہیں وہ انھیں ملنے چاہییں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بھی خود کو اقلیت مانیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اقلیت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تو وہ کیسے اقلتیوں کی کسی سیٹ پر آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احمدی آئین کی شق میں مذہبی آزادی کی بات کرتے ہیں ہے تو انھیں یہ بھی یاد ہونا چاہیے کہ جب انھیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا تو آئین میں ہی ان کی مذہبی رسومات کے حوالے سے کوڈ آف کنڈکٹ بھی بتایا گیا تھا۔ جس میں یہ باتیں شامل تھیں کہ یہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ان کا عبادت کا طریقہ کار مسلمانوں سے ملتا جلتا ہوگا لیکن اس کے باوجود بھی یہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘جب تک احمدی آئین کے مطابق اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں مانتے تب تک وہ کیسے اسی آئین کے تحت حقوق مانگ سکتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button