جماعت اسلامی اور JUI افغان سیاست سے کیسے آؤٹ ہوئیں؟

پاکستانی مذہبی جماعتیں خصوصاً جماعتِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں دھڑے ماضی میں افغانستان کے اندرونی معاملات میں کافی اثر رسوخ رکھتے تھے مگر اب ان جماعتوں کا افغانستان میں کردار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔
سوویت یونین کے خلاف افغان گروہوں کی مزاحمت کے دوران ہی پاکستانی مذہبی جماعتوں نے افغانستان کے معاملات میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ تب سے پاکستان کی مذہبی اور پشتون قوم پرست جماعتوں کا افغانستان کے معاملات میں کردار اہم رہا۔ اس کی بڑی وجہ ان کا افغان سیاسی گروہوں اور افراد کے ساتھ کئی برسوں پر محیط تعلق ہے۔ لیکن افغان جہادی اور سیاسی گروہوں کے بننے والے ‘پشاور سیون’ اتحاد کے بعد پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا افغانستان میں اثر و نفوس ذیادہ بڑھ گیا۔ ‘پشاور سیون’ دراصل پاکستانی ریاست کی حمایت سے پشاور میں 1988 میں افغانستان میں فعال سنی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے سات جہادی اور سیاسی گروہوں کے بننے والے اتحاد کا نام تھا جسے اسلامی اتحاد بھی کہا جاتا تھا۔ ان گروہوں میں گلبدین حکمت یار کی حزبِ اسلامی، مولوی یونس خالص کی حزبِ اسلامی، برہان الدین ربانی کی جمعیت اسلامی افغانستان، احمد شاہ مسعود کی شوریٰ نظر، عبدالرسول سیاف کی اتحادِ اسلامی، احمد گیلانی کی محاذ ملی اسلامی، صبغت اللہ مجددی کی جبی نجات ملی اور مولانا محمد نبی محمدی کی حرکتِ انقلابی اسلامی شامل تھے۔
لیکن اسی اور نوے کی دہائی میں افغانستان کے معاملات میں اہم کردار ادا کرنے والی جماعتِ اسلامی کا موجودہ افغانستان میں کردار انتہائی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی تعلقات کے استاد اور نام ور محقق ولی نصر جماعتِ اسلامی پاکستان پر اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ 1980 سے 1990 تک کے عرصے کے دوران جماعتِ اسلامی کے لگ بھگ 72 طلبہ رہنما افغانستان میں سوویت فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے اور ان میں جماعتِ اسلامی کے سینئر رہنماؤں کے بیٹے بھی شامل تھے۔ پاک افغان امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کا 80 اور 90 کی دہائی میں افغانستان میں کلیدی کردار تھا اور ان کے افغانستان کے جہادی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے۔ جنگ کے نتیجے میں جب پناہ گزین لاکھوں کی تعداد میں پاکستان آئے تو جماعتِ اسلامی نے ان کے کیمپوں میں ان کی فلاح وبہبود کے لیے منصوبے بھی شروع کیے۔ لیکن ایک جانب جماعتِ اسلامی کا یہ کردار بھی افغان طالبان کی تشکیل کے بعد ختم ہوتا گیا تو دوسری جانب 80 اور 90 کی دہائی کے رہنما بشمول گلبدین حکمت یار کا گروہ حزبِ اسلامی بھی اُس طرح مضبوط نہ رہ سکا۔
فروری 2014 میں افغانستان کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی نے امیرِ جماعت اسلامی سراج الحق کو ٹیلی فون کر کے دورۂ افغانستان کی دعوت دی تھی مگر یہ دورہ نہیں ہو سکا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 1996 میں افغان طالبان کی جانب سے کابل میں حکومت تشکیل دینے کے بعد جماعتِ اسلامی کا کردار اختتام پذیر ہو گیا تھا اور اس کی جگہ دیو بندی مکتبۂ فکر کی پاکستانی مذہبی جماعتوں خصوصاً جمعیت علمائے اسلام کے دونوں دھڑوں (فضل الرحمن اور سمیع الحق) نے لے لی تھی۔اگرچہ جماعتِ اسلامی نے افغان طالبان کی اخلاقی مدد کی اور افغانستان میں جنگ کی مخالفت کی، لیکن اس نے افغانستان میں امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد کے خلاف جنگ لڑنے والوں سے اپنا فاصلہ برقرار رکھا۔
افغانستان کے جنوبی صوبے جہاں پشتون آباد ہیں، کے غیر منقسم ہندوستان کے وقت ہی سے دیو بندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں سے قریبی روابط تھے اور وہ ہندوستان کے مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھی آتے رہتے تھے۔پاکستان میں فعال دیو بندی مکتبۂ فکر کی اہم جماعت جے یو آئی کے دونوں دھڑوں سے افغانستان کے سنی جہادی گروہوں اور بعد میں افغان طالبان کے روابط جاری رہے۔البتہ مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی (ف) سے وابستہ کراچی کے ایک مذہبی رہنما کا کہنا ہے کہ شروع ہی سے جے یو آئی (ف) میں افغان جنگ یا افغان طالبان کے حوالے سے دو آرا پائی جاتی ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ "جے یو آئی (ف) کے ایک حلقے کا دعویٰ یے کہ افغان جہاد کے بانی یا محرک ان ہی کی جماعت ہے۔ کیوں کہ پارٹی کے مرکزی رہنما مولانا فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود نے جہاد کا فتویٰ دیا جب کہ دوسرے حلقے کا نکتۂ نظر یہ تھا کہ یہ افغانستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس میں جماعت کو ملوث نہیں ہونا چاہیے۔”انہوں نے کہا کہ افغان طالبان سے قبل جے یو آئی کے رہنما و کارکن افغانستان میں دیو بندی نظریات کے حامل افراد یا جہادی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتے رہتے تھے۔
اُن کے بقول "ان گروہوں میں سب سے قریبی تعلق جلال الدین حقانی اور کمانڈر ارسلان رحمانی سے رہا جو 1992 میں کراچی کے نشتر پارک میں جے یو آئی (ف) سندھ کے جلسے میں بھی شریک ہوئے تھے۔”ان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی سے وابستہ افراد کے افغانستان کے دیگر جہادی و سیاسی گروہوں کے رہنماؤں احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی اور محمد نبی محمدی کے ساتھ بھی روابط تھے۔
اپریل 2001 میں جے یو آئی کے تحت نوشہرہ میں منعقدہ عالمی دیو بند کانفرنس میں افغان طالبان کے امیر ملا عمر کو بھی دعوت دی گئی تھی جس پر طالبان کے وزیرِ اعظم کے طور معروف ملا محمد ربانی کی قیادت میں طالبان وفد نے شرکت کی تھی اور ملا عمر کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا تھا۔
جے یو آئی (ف) نے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے پلیٹ فارم سے 2002 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کامیابی حاصل کی تھی۔ چند ہی برسوں میں جے یو آئی (ف) نے افغانستان کے معاملات اور طالبان کی حمایت کے بجائے پاکستان میں پارلیمانی سیاست پر اپنی توجہ مرکوز کر لی تھی۔
افغانستان کے اس وقت کے صدر حامد کرزئی کی دعوت پر 2013 میں مولانا فضل الرحمٰن نے کابل کا دورہ بھی کیا تھا جو 90 کی دہائی کے اواخر کے بعد ان کا افغانستان کا پہلا دورہ تھا۔ البتہ جے یو آئی (ف) کے گڑھ سمجھے جانے والے صوبۂ بلوچستان کے پشتون اضلاع میں جماعت کے اندر ہی افغان طالبان کی حمایت اور مخالفت کے معاملے پر دھڑے بندی تھی۔
جے یو آئی (ف) کے مرکزی نائب امیر مولانا عبدالغنی افغان طالبان کے سرپرست سمجھے جاتے تھے اور ان کا افغان طالبان کے حلقوں میں بے حد احترام تھا۔جے یو آئی (ف) سے وابستہ مذہبی رہنما کے مطابق "مولانا عبدالغنی کے کہنے پر افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی دعوت پر مولانا فضل الرحمٰن نے طالبان کے دورِ حکومت میں افغانستان کا دورہ کیا تھا اور انہیں بھرپور پروٹوکول دیا گیا تھا۔”اکتوبر 2011 میں مولانا عبدالغنی چمن کے علاقے میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوئے تو افغان طالبان کا ایک وفد جنازے میں بھی شریک ہوا۔
دوسری جانب اس وقت جے یو آئی (ف) بلوچستان کے امیر مولانا محمد خان شیرانی اور ان کے ہم خیال رہنما شروع سے لے کر آج تک افغان جنگ میں جے یو آئی کے کردار کے خلاف رہے اور کھل کر طالبان کی مخالفت کرتے رہے۔افغان طالبان کے خلاف سخت گیر مؤقف پر مولانا محمد خان شیرانی پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملے بھی ہوئے جب کہ 2004 میں ایک حملے کے بعد انہوں نے افغان طالبان کے کمانڈر ملا داد اللہ پر الزام بھی عائد کیا تھا۔مولانا شیرانی کی افغان طالبان کی مخالفت کے سبب بلوچستان کے طالبان حامی رہنماؤں نے جے یو آئی (نظریاتی) نامی دھڑا تشکیل دیا اور 2008 کے انتخابات میں کئی نشستیں بھی حاصل کیں۔
خیال رہے کہ جے یو آئی (نظریاتی) دھڑا حال ہی میں دوبارہ جے یو آئی (ف) میں شامل ہوا ہے جب کہ مولانا شیرانی کو کچھ عرصہ قبل مرکزی قیادت نے پارٹی سے نکال دیا تھا۔
خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے تعلق کی وجہ سے مولانا سمیع الحق افغان جہاد کے پر زور حامی اور بعد میں طالبان کی سرپرستی کرتے رہے۔ افغان طالبان کے متعدد رہنما اور کمانڈرز دارالعلوم حقانیہ کے فاضل یا پڑھے ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے افغانستان میں جب اپنی حکومت تشکیل دی تو کابینہ کے آٹھ وزرا دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل تھے جب کہ کئی طلبہ، طالبان دورِ حکومت میں مختلف صوبوں کے گورنر، شریعہ عدالتوں کے جج اور کمانڈرز کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
افغانستان کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مذہبی اور پشتون قوم پرست جماعتیں افغانستان میں عوامی سطح پر غیر مقبول ہیں۔کابل میں مقیم سیاسی تجزیہ کار احمد خان نورزئی کا کہنا ہے کہ 80 اور 90 کی دہائی کے حالات سے واقف افغان عوام پاکستان کی مذہبی جماعتوں خصوصاً جماعتِ اسلامی اور جے یو آئی (ف) کے کردار کی سخت ناقد ہے۔ انہوں نے کہا کہ "افغانستان کے پشتون اکثریتی صوبوں میں مذہبی رجحانات کے سبب پاکستان میں دیو بندی مکتبۂ فکر کے مدارس کی وجہ سے جے یو آئی (ف) کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے۔
