جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے عمران کے خواب کیسے بھسم ہوئے؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ پہلے عمران خان اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کے شوق میں حکومت گنوا بیٹھے، اور پھر اسی شوقینی میں اپنی سیاست دائو پر لگا لی۔ تاہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے 22 نومبر کو ریٹائرمنٹ لے کر گھر جانے کا واضح اعلان ان پر بجلی بن کر گرا ہے جس نے ان کے تمام تر خواب بھسم کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران نے حال ہی میں یہ انوکھی تجویز پیش کی تھی کہ اگلے آرمی چیف کا انتخاب آئندہ حکومت کے قیام تک ملتوی کر دیا جائے اور تب تک جنرل باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں۔ خان صاحب نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کو نیا آرمی چیف لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پر موصوف نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ قانون و آئین کی کون سی کتاب میں لکھا ہے؟ حماد کہتے ہیں کہ اب جنرل باجوہ کی جانب سے اپنے وعدے پر قائم رہتے ہوئے نومبر میں ریٹائر ہونے کے عزم کے اظہار نے خان صاحب کے تمام غیر آئینی مطالبات پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے، چنانچہ اب کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچتےہوئے موصوف فرماتے ہیں کہ ‘آرمی چیف کوئی بھی آجائے، مجھے کیا فرق پڑتا ہے’۔

حماد غزنوی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں الطاف گوہر کی معروف کتاب ’ایوب خان‘ کا حوالہ دیتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ فروری 1959 میں انتخاب ہونے جا رہے تھے، اور ایوب خان اپریل 1958میں امریکا کے دورے پر چلے گئے جہاں انہوں نے امریکیوں کو قائل کر لیا کہ نئے الیکشن کے نتیجے میں ملک میں امریکا مخالف حکومت قائم ہو جائے گی اور نتیجتاً امریکا ایوبی مارشل لا کی حمایت پر آمادہ ہو گیا۔ لیکن حماد کہتے ہیں کہ الحمداللہ، جنرل باجوہ جنرل ایوب خان سے یک سر مختلف آدمی نکلے ہیں، وہ مارشل لا تو کجا ایکسٹینشن لینے سے بھی انکاری ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ آئین کے تحت پاکستان ایک پارلیمانی جمہوریت ہے، یعنی پارلیمنٹ ہماراسب سے محترم اور طاقت ور ادارہ ہے، جب کہ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ پچھلے چار سال پارلیمنٹ کو ایک 18ویں گریڈ کا باوردی آئی ایس آئی کا کرنل چلاتا رہا جس کو خان صاحب نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں باقاعدہ دفتر دے رکھا تھا، عمران خان خود بتا چکے ہیں کہ اگر انہیں قومی اسمبلی سے کوئی بل پاس کرانا ہوتا تھا، یا کسی ممبر کی حاضری یقینی بنانا ہوتی تھی، تو ایجنسی ہی ان کے لیے یہ ’ملی فریضہ‘ انجام دیتی تھیں۔ بس اسی ایک مثال سے پوری بات سمجھ آجاتی ہے، یہ تھی آئین کے تقدس کی مختصر کہانی خان صاحب کے ‘جمہوری’ دور میں۔ حماد کہتے ہیں کہ اب ایک نظر نئے آرمی چیف کی تقرری پر بھی ڈال لیجیے۔ بات ذرا پیچھے سے شروع کرنا چاہوں گا۔ ہر ملک میں آرمی چیف کی تقرری کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ ایک پروٹوکول ہوتا ہے جس کے تحت ریاست کے سول اور ملٹری عہدیداران کی تقابلی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے، اسی پروٹوکول لسٹ کے تحت ان سول اور ملٹری عہدے داران کو حکومتی تقریبات میں نشستیں دی جاتی ہیں۔ پاکستان میں جب 1950میں وزارت داخلہ نے پہلی پروٹوکول لسٹ جاری کی تو اس میں سپہ سالار کی کیٹیگری نمبر 15 تھی، لیکن 1970 میں سپہ سالار یعنی آرمی چیف کیٹیگری نمبر چھ تک چڑھ آیا اور آج بھی اسی نمبر پر براجمان ہے۔ لیکن اس پروٹوکول کو کسی سویلین حکمران نے شاید ہی کبھی بدلنے کی کوشش کی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کے کیٹیگری نمبر چھ میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان کے حفظِ مراتب کے اعتبار سے چیف آف آرمی اسٹاف تقریباً ایک سو افراد کے بعد آتے ہیں، یعنی سرکاری مرتبے کی رُو سے ان سے اوپر جو عہدیدار آتے ہیں ان میں تمام وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، اسپیشل اسسٹنٹس ٹو پرائم منسٹرز، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، تمام صوبائی گورنرز اور وزرائے اعلیٰ، حتیٰ کہ ایمبیسیڈرز ایٹ لارج بھی شامل ہیں۔ بے شک یہ نمائش سراب کی سی ہے۔ آئینِ پاکستان میں لکھا ہوا کچھ ہے، اور ہو کچھ اور رہا ہے، دریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں، ہم خود کو دھوکا دے کر خود کو چالاک سمجھ رہے ہیں، حماقت کی انتہا غالباً اسی کو کہا جائیگا۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ سرکاری کاغذوں میں حفظِ مراتب کے اعتبار سے تقریباً سوویں نمبر کے ایک صاحب کی تعیناتی نے پورے ملک کو لگ بھگ پچھلے ایک سال سے گرداب میں لپیٹ رکھا ہے، ہر طرف یہی گفتگو ہو رہی ہے، عوام کو بھی پاک فوج کی سینیارٹی لسٹ ازبر ہو چکی ہے، آدھے درجن جرنیلوں کے نام اور سنیارٹی تو خوانچہ فروشوں کو بھی یاد ہیں، ایک دوست ابھی کچھ دیر پہلے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے تیرہویں نمبر پر براجمان جنرل صاحب کا ذکرِ خیر کر رہے تھے، حتیٰ کہ حکومتیں بھی اسی تعیناتی کے پس منظر میں آ جا رہی ہیں، سیاست بھی اس محور پر گھوم رہی ہے، جماعتوں کے اپنے اپنے فیورٹس ہیں، بلکہ یہ ساری بحث ہی سابق وزیرِ اعظم اور انکے فیورٹ سے شروع ہوئی تھی اور عمرانڈو قوم کے امام نے وارننگ دی تھی کہ وہ موجودہ حکومت کو نیا آرمی چیف تعینات نہیں کرنے دیں گے۔ سوشل میڈیا پر اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں مہم جوئی کی جا رہی ہے، منظر کچھ یوں ہے کہ جیسے سپہ سالار کی سلیکشن نہیں بلکہ الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ اب جس لانگ مارچ کی دھمکی خان صاحب دے رہے ہیں اس کا تعلق بھی براہ راست نومبر کی تعیناتی سے بتایا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بات قوم یوتھ کے سربراہ کو سمجھا دی گئی ہے کہ فوری الیکشن ممکن نہیں ہیں، لہٰذا اگر فوری انتخاب کا انعقاد ممکن نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ عمران کے مجوزہ لانگ مارچ کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟ اس حکومت کے وجود میں آنے کی سب سے بڑی وجہ نیا سپہ سالار لگانا بتائی جاتی ہے، عمران خان اپنی مرضی کا چیف لگانے کے شوق میں اپنی حکومت گنوا بیٹھے، اور اسی شوقینی میں اب اپنی سیاست دائو پر لگانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے اس شوق کا اگلا نتیجہ کب سامنے آتا ہے؟

Back to top button