جنرل باجوہ اور فیض کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر کیوں؟

جنرل باجوہ، جنرل فیض اور انکے پیش رئوں نے محض اپنی ملازمت میں توسیع کی خاطر تیرہ چودہ سال تک ہر ادارے میں ایسی اتھل پتھل کی کہ خدا کی پناہ۔ اس کا واحد مقصد عمران خان کی صورت میں ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لانا تھا۔ جو ان کے ’’اینٹی سیاستدان‘‘ ایجنڈے کو آگے بڑھائے اور یہ کرتے کرتے ملک اب زمین پر گر ِ چکا ہے۔ کیا پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا کیا اسیے لوگوں کیلئے کوئی سزا  کیوں نہیں ہے؟

ان خیالات کا اظہار سینئر لکھاری خالد جاوید جان نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے خالد جاوید جان کا مزید کہنا ہے کہ  تاریخ میں ایسی کئی قوموں کا ذکر ملتا ہے جو کبھی آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہی تھیں لیکن جب ان پر زوال آیا تو وہ پہلے آہستہ آہستہ نیچے گرنے لگیں اور پھر زمین سے بھی نیچے چلی گئیں۔ یعنی اپنی قبروں میں اور انکا نام و نشان ہمیشہ کیلئے مٹ گیا۔ آج پاکستان کے حالات بھی اس سے مختلف نہیں۔ آج ہم بھی تنزّلی کی آخری حد تک گِر چکے ہیں اگر ہم اب بھی اپنے پائوں پر کھڑے نہ ہوئے تو یقین جانئے ہم اپنی قبر کے دہانے پر پہنچے ہوئے ہیں ۔ خالد جاوید جان کے مطابق ہمارے ساتھ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ ہم انسانی تاریخ کا وہ واحد بد قسمت ملک ہیں جو اپنے قیام کے صرف 23برس بعد ہی دو لخت ہو گیا۔ حالانکہ عام انسانوں کے ذاتی تعلّقات بھی اس سے زیادہ دیر تک برقرار رہتے ہیں جبکہ ملکوں کی زندگی تو صدیوں پر محیط ہوتی ہے۔ پاکستان سے علیحدہ ہونے کے بعد بنگلہ دیش نے مذہب کو سیاست سے علیحدہ کر دیا اور آج وہ ترقی کی دوڑ میں ہم سے بھی آگے نکل گیا ہے۔

خالد جاوید جان کا مزید کہنا ہے کہ جوچیز خاندانوں اور ملکوں کو توڑ دیتی ہے وہ ناانصافی ہے۔ چاہے وہ معاشی نا انصافی ہو، سماجی نا انصافی یا سیاسی نا انصافی۔ اور اسی ناانصافی کو ختم کرنے کیلئے سیاسی دانشوروں نے جمہوری نظام متعارف کروایا ۔ جس کے تحت تمام افراد اور اداروں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کا رمیں رہیں اور کسی دوسرے کے اختیارات میں دخل نہ دیں۔ جہاں ہم نے مذہب اور ریاست یا سیاست کو ملانے کا خوفناک تجربہ کیا وہیں ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس ملک میں جمہوریت پنپنے نہ پائے۔ اس میں سب سے بڑا کردار اس ملک کے فوجی ڈکٹیٹروں، مذہبی انتہا پسندوں اور بیوروکریسی نے ادا کیا جن کا قیامِ پاکستان میں سرِے سے ہی کوئی کردار نہیں تھا۔ بلکہ وہ انگریزوں کی ملازمت انجوائے کر رہے تھے۔ سیاستدانوں کو بدنام کرنے، انہیں طرح طرح کی اذیّتیں دینے، ان پر پابندیاں لگانے، پاپند ِ سلاسل کرنے اور پھانسیاں دینے کے عمل نے اس ملک میں نئی قیادت اور نئی سوچ کو نہ صرف روک دیا بلکہ سیاست کو ایک گالی بنا دیا۔ فوجی ڈکٹیٹروں نے پاکستان بنانے والے سیاستدانوں اور بابائے قوم کی ہمشیرہ تک کو غدّار قرار دیدیا۔ ڈکٹیٹروں نے عوام کی بجائے اپنی کٹھ پتلیوں کو عوام پر مسلّط کیا اور جب ان کٹھ پتلیوں نے اپنے دماغ سے سوچنے کی کوشش کی تو انکا سر قلم کر دیا گیا۔ پہلے جب امریکی مفادات پورا کرنے کے صلے میں ، ڈالروں کی بارش ہوتی تھی تو ان حریص لوگوں نے اپنے تمام مفادات انکی جھولی میں ڈال دئیے اور ملک تباہی کی دلد ل میں دھنستا چلاگیا۔ اقتدار پر قابض فوجی ڈکٹیٹروں کے بعد آنے والے سیاسی جرنیلوں نے پسِ پردہ رہ کر جو جرائم کئے ہیں وہ فوجی ڈکٹیٹروں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اگر اب بھی ہمیں پاکستان کو بچانا ہے تو تمام اسٹیک ہولڈر ز کو مل جل کر مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا اور ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کرنا ہوگی۔ کیونکہ جہاں تک ہم گرِ چکے ہیں اس سے نیچے صرف قبر ہے۔

Back to top button