جنرل باجوہ سلپ نہیں ہوئے بلکہ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے فیملی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ باتھ روم میں سلپ ہو کر نہیں گرے تھے بلکہ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا جس کے باعث وہ بے ہوش ہو کر گرے اور ان کے سر میں تین فریکچر آئے۔ یاد رہے کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی افواہیں چل رہی تھیں اور یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا تھا کہ شاید جنرل باجوہ کے سر پر آنے والے زخم کسی حملے کا نتیجہ ہیں۔

فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ باتھ روم میں پھسلے نہیں تھے بلکہ دل کے برقی نظام میں خرابی پیدا ہونے کے باعث خون کی گردش میں اچانک خلل آیا، جس سے وہ بے ہوش ہو گئے اور گرنے کے نتیجے میں انکے سر پر چوٹیں آئیں۔ ذرائع کے مطابق ان پر حملے کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے جو کچھ کہا ہے وہ سراسر غلط ہے۔

اس وقت کمبائنڈ ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں سابق آرمی چیف کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹرز کی ٹیم انکی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

جنرل باجوہ گھر میں گر کر زخمی ہوئے یا ان پر حملہ کیا گیا؟

فیملی ذرائع نے بتایا کہ سابق آرمی چیف بارے سوشل میڈیا پر بہت سی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ عمران خان کی جانب سے میر جعفر اور میر صادق کے القاب پانے والے جنرل باجوہ کے فیملی ذرائع نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور ان کی طبی رازداری کا احترام کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیر کی شام 9 فروری کو جنرل باجوہ طبیعت ناساز محسوس کر رہے تھے، تاہم اس کے باوجود وہ اپنی معمول کی سیر کے لیے گئے۔ اس دوران رات کے وقت انہیں متلی محسوس ہوئی جس پر وہ واش روم گئے۔ لیکن قے کرنے کے بعد وہ اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے جس کے بعد ان کے کانوں سے خون بہنا شروع ہو گیا۔

انہیں تقریباً 15 منٹ کے اندر کمبائنڈ ملٹری اسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیاجہاں طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی کھوپڑی میں تین باریک فریکچر آئے ہیں، تاہم خوش قسمتی سے دماغ میں خون کے لوتھڑے نہیں بنے جو جان لیوا ثابت ہو سکتے تھے۔ انہیں فوری امداد فراہم کی گئی اور اب بھی ان کا علاج جاری ہے۔
دوسری جانب اس سے قبل فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ سابق آرمی چیف گھر میں پھسل کر زخمی ہوئے۔ تاہم وزیراعظم کے مشیر اور سابق وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر کسی حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہوں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ابتدائی شبہات کی بنیاد پر یہ بات کر رہے ہیں اور اصل حقائق جاننے کے لیے مزید تحقیقات ضروری ہیں۔

ISPR نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی طبیعت سے متعلق اپڈیٹ جاری کر دی

اس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل باجوہ صبح ساڑھے چار بجے اپنے گھر کے باتھ روم میں پھسل گئے تھے، جسکے نتیجے میں ان کے سر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ سر پر شدید چوٹ لگنے سے انہیں دماغی ضرب اور اندرونی بلیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق چوٹ کافی گہری تھی اور وہ تقریباً 18 گھنٹے تک بے ہوش رہے۔ ایک مرحلے پر ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو نازک قرار دیا، جس کے بعد اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ دار بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے۔ بعد ازاں انہیں ہوش آ گیا اور انہوں نے اپنے اہلِ خانہ کو پہچان لیا، تاہم وہ تاحال مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں اور مسلسل مانیٹرنگ میں رکھے گئے ہیں۔

ہسپتال میں داخل کروائے جانے کے بعد سابق آرمی چیف کے بہنوئی نعیم گھمن نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ قمر باجوہ ننگے پاؤں تھے اور اسی وجہ سے پھسل گئے جس سے ان کے سر پر چوٹ آئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ضروری طبی معائنے اور ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے سو فیصد باہر ہے، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر انہیں آئی سی سی یو میں رکھا گیا ہے۔ تاہم فیملی ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ طبی نوعیت کا تھا اور عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

Back to top button