جنرل باجوہ نے شریفوں سے آخری وقت تک ایکسٹینشن مانگی

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینٹر عرفان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے باوجود سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آخری لمحات تک مزید آٹھ ماہ کی ایکسٹینشن کے لیے شریف برادران کیساتھ پیغام رسانی کر رہے تھے لیکن اصولی موقف رکھنے والی قیادت نے انکی شنوائی نہ کی اور موصوف کو گھر جانا پڑا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ 2019 میں حقیقی آزادی کے جری مجاہد عمران خان نے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن طلائی طشتری میں سجا کر پیش کر دی۔ لیکن آج وہ اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ ابھی اکتوبر میں انکا لندن جانا ہوا تو پتہ چلا کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے اعلانات کے باوجود جنرل باجوہ کی مزید آٹھ ماہ کی توسیع کے لئے منہ زور ہوائیں ’ایون فیلڈ‘ کی دیواروں سے سر پھوڑ رہی ہیں۔ لیکن اس کہانی کی تفصیل پھر کبھی سہی۔

 

نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے وقت کو یاد کرتے ہوئے عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ میں میاں صاحب کے سامنے بیٹھا، فائل میں دھرے نوٹس کا پلندہ کھولنے کو تھا کہ وہ بولے: ’’آپ یہ فائل مجھے دے دیں۔ میں پڑھ کر آپ سے بات کرلوں گا۔‘‘ میں نے کچھ کہے بغیر فائل اُن کی طرف بڑھا دی۔ تب تک پانامہ سکینڈل کا آتش فشاں پھٹ چکا تھا اور لاوا تھامے نہیں تھم رہا تھا۔ میں اِسی حوالے سے کچھ باتیں کرنا چاہتا تھا۔ 18مئی 2016 کی رات فون پران سے وقت لینا چاہا تو وزیراعظم کہنے لگے ’’کل مجھے گلگت جانا ہے۔ لیکن آپ صبح نو بجے آجائیں تو پندرہ منٹ بات کرلیں گے۔‘‘ 19 مئی کو میں وقت سے پانچ منٹ پہلے پہنچ گیا۔ میاں صاحب ٹھیک نو بجے آگئے۔ اُن کے چہرے کی روایتی بشاشت قدرے کم ہو چکی تھی۔ خیرعافیت معلوم کرنے کے بعد انہوں نے اپنے ذاتی ملازم عابد کو بلوایا۔ اُسے کافی لانے کو کہا اور ساتھ ہی میرا سیل فون اٹھا کر اُس کے حوالے کردیا۔ پھر انہوں نے اپنی میز پر سجے دو تین رنگا رنگ فون سیٹس کی تاریں نکالیں۔ ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کیا۔ آواز قدرے اونچی کی۔ میں حیرت سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

 

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ نواز شریف بولے جارہے تھے اور میں حیرت کی تصویر بنا سُن رہا تھا۔ آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔ ان کا شائستہ مزاج ’اے۔ڈی۔سی‘ دو بار آ کرسلیوٹ کر چکا تھا۔ کافی کا دوسرا دور بھی ختم ہو رہا تھا اور میاں صاحب ایک عہدِ ناسپاس کی کہانی بیان کئے جارہے تھے۔ انہوں نے دو تین بار مجھ سے رازداری کا عہد لیا۔ ’’میں نے ابھی تک یہ بات کلثوم کے سوا کسی کو نہیں بتائی۔ انہوں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پانامہ کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا ہے؟ انہوں  نے کہا کہ 2014 کے دھرنوں سے ناکام ہو کر ایک بار پھر یہ لوگ عمران خان کو استعمال کررہے ہیں اور فساد کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ یہ عدالتوں پر دباؤ ڈال کر مجھے منظر سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ نشانہ صرف میری ذات ہے۔ اگر میں کرسی پر بیٹھا رہا تو سازش مزید آگے بڑھے گی۔ عین ممکن ہے جمہوری نظام لپیٹ دیا جائے اور ملک ایک بار پھر گرداب میں پھنس جائے۔میاں صاحب نے بتایا کہ میرے پاس مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں کہ ان کی نیت ٹھیک نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں سوچتا ہوں کہ مستعفی ہو جاؤں تاکہ ملک کسی نئے عذاب سے بچ جائے۔

آہنی اعصاب کے مالک نواز شریف کی زبان سے یہ سب کچھ سنتے ہوئے مجھے اپنی سماعت پر شک ہورہا تھا۔ وزیراعظم کے لہجے میں بلا کی شکستگی تھی۔ ’اے۔ڈی۔سی‘ تیسری بار سلیوٹ کرکے پیغام دے گیا تھا کہ ’’سَر ہمیں دیر ہوگئی ہے۔‘‘

 

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا ’’میاں صاحب انہیں آپ کی ذات سے ایسا کیا مسئلہ ہے؟ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟‘‘ وزیر اعظم نواز شریف اپنی کرسی سے اٹھے۔ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کے انداز میں بولے۔ ’’ایکسٹینشن‘‘۔

 

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ’’ایکسٹینشن‘‘ انگریزی زبان کا ہونے کے باوجود ہماری روزمرہ بول چال میں استعمال ہونے والا سب سے کثیرالاستعمال لفظ ہے۔ اردو میں ’’توسیع‘‘، اِس کا ہم معنی لفظ موجود ہے جس کی ادائیگی کچھ مشکل نہیں لیکن اِس میں عجیب سی کم مائیگی پائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایکسٹینشن میں ایک خاص نوع کا رُعب اور دَبدبہ پایاجاتا ہے۔ ’’توسیع‘‘ بولنے سے یوں لگتا ہے جیسے کوئی شے بڑے عجز وانکسار، بڑی لجاجت سے مانگی جارہی ہو اور دینے والا صوابدیدی اختیار کا تاج سر پر سجائے، شاہانہ تمکنت کے ساتھ کچھ عطا کررہا ہو۔ ’’ایکسٹینشن‘‘ میں دینے والے کی کمزوری اور لینے والے کی بالا دستی کا تاثر نمایاں ہے، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ایکسٹینشن دینے والا اسے اپنا اعزاز وافتخار سمجھتا ہے اور لینے والا احسان اور نوازش کے احساسات کے ساتھ اسے شرف قبولیت بخشتا ہے۔ گویا توسیع دی جاتی ہے اور ’’ایکسٹینشن‘‘ لی جاتی ہے۔ ایک بہ منت وسماجت، دوسری بزوربازو۔

 

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ایکسٹینشن کا جام پینے والے کے ہاتھ میں جنبش نہ رہے تو بھی آنکھوں میں دَم ضرور رہتا ہے اور وہ ساغرومینا سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔ 1971 میں جب ایوب خان اور یحییٰ ڈاکٹرائن کے سبب پاکستان دولخت ہوا، مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بنا، سرِبازار ہم نے جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالے، ہمارے ہزاروں فوجی بھارتی قیدی ہوگئے تو لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ، لیفٹیننٹ جنرل ہی کے طورپر ریٹائر ہوگیا۔ بھارت کی کلغی میں سرخاب کا پَر ٹانکنے والے آرمی چیف، فیلڈ مارشل ’ مانک شا‘ کا سینہ تمغوں سے بھر دیا گیا۔ حکومتی سفارش پر بھارتی صدر نے سپہ سالار کی میعاد ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کردی۔ ’مانک شا‘ نے معذرت کرنا چاہی لیکن یہ کہہ کر 6 ماہ کی توسیع قبول کرلی کہ میں اپنے سپریم کمانڈر کا حکم رَد نہیں کر سکتا۔ بھارت کے برعکس، پاکستان میں ایکسٹینشن کی درخشاں روایت، جنرل ایوب خان سے چلی اور حال ہی میں رخصت ہونے والے آخری آرمی چیف، جنرل قمر باجوہ تک طمطراق کے ساتھ جاری رہی۔ ایوب خان، اُنکے زیر سایہ موسیٰ خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف مجموعی طورپر 36 برس فوج کے سربراہ رہے۔ بارہ آرمی چیفس کا عرصہ، ’ایکسٹینشن‘ کے فیضان سے صرف چار نفوس مقدسہ تک محدود ہوگیا۔

2013 میں چھ برس بعد بھی جنرل کیانی کے دل میں تیسری ایکسٹینشن کی آرزو زِندہ تھی لیکن تب نوازشریف وزیراعظم بن چکے تھے جنہیں ایکسٹینشن کے نام سے چِڑ ہے۔ راحیل شریف ہزار جتن کرنے کے باوجود بے ثمر رہے۔ جنوری 2016 میں اعلان کردیا کہ میں توسیع کی خواہش نہیں رکھتا لیکن آخری لمحے تک اسی آتش آرزو میں جلتے رہے۔ 2019 میں حقیقی آزادی کے جری مجاہد نے قمر باجوہ کو ایکسٹینشن طلائی طشتری میں سجا کر پیش کردی۔ لیکن آج وہ اسے اپنی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دے رہے ہیں۔

Back to top button