جنرل باجوہ نے عمران سے مزید توسیع کیوں ٹھکرائی؟

فوری الیکشن کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی خاطر لانگ مارچ کرنے والے عمران خان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے اپنی حکومت بچانے کے لیے جنرل قمر باجوہ کو بطور وزیر اعظم عہدے میں توسیع کی پیش کش کی تھی لیکن اس آفر کو اس لیے ٹھکرا دیا گیا کہ میری حکومت ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ عمران خان نے اپنی حکومت بچانے کی خاطر جنرل قمر باجوہ کو ان کے عہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کی پیشکش کی تھی لیکن اسے ٹھکرا دیا گیا۔ اب ندیم انجم کے دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے عمران خان نے چینل 92 کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ انھوں نے یہ پیشکش ملک کی بہتری کی خاطر کی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ان کی حکومت ختم کر دی گئی تو پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہو جائے گا۔
یاد رہے یہ پیشکش تب کی گئی جب پی ڈی ایم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کر چکی تھی۔ بقول عمران انہوں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ اگر اصل مسئلہ ایکسٹینشن کا ہے تو آپ پی ڈی ایم سے توسیع لینے کے بجائے میری آفر قبول کر لیں۔ لیکن جب عمران سے پوچھا گیا کہ ان کی آفر کیوں ٹھکرا دی گئی تو انہوں نے کہا کہ میری حکومت ختم کر کے اسکی جگہ امپورٹڈ حکومت لانے کا فیصلہ ہو چکا تھا اس لیے آفر قبول نہیں کی گئی۔
لانگ مارچ کے آغاز کے بعد ایک اور انٹرویو میں عمران خان نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سچ کے نام پر کی جانے والی اس پریس کانفرنس میں آدھے جھوٹ اور آدھے سچ بولے گئے‘ جو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔ جب ان سے جنرل ندیم انجم کے اس دعوے بارے سوال کیا گیا کہ عمران نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو عہدے میں غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی تھی تو سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے سچ کے نام پر جو پریس کانفرنس کی، اس میں آدھے جھوٹ شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر کہانی سنائی گئی کہ میں نے ایکسٹینشن کی آفر کی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کس سائیڈ سے آفر آئی تھی اور کس تناظر میں بات ہو رہی تھی؟ اگر وہ پوری بات بتائیں تو انکے لیے بھی بڑا شرمناک ہو گا۔ عمران کا کہنا تھا کہ ’یہ سب بڑا افسوسناک ہے کیونکہ کبھی آئی ایس آئی چیف اس طرح کی پریس کانفرنس نہیں کرتا۔ میں پوائنٹ بائی پوائنٹ اس کا جواب دے سکتا ہوں جو بڑا شرمندہ کر سکتا ہے فوج کو۔ لیکن میں نہیں چاہتا کہ ہماری فوج کو نقصان پہنچے کیونکہ ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ فوج کمزور ہو تاکہ پاکستان کمزور ہو جائے گا۔ جب عمران خان کو ڈی جی آئی ایس آئی کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ ’اگر آپ کا چیف غدار ہے تو پھر آپ ان کی تعریفیں کیوں کرتے تھے اور رات کی تاریکی میں ملتے کیوں ہیں‘ تو اس پر عمران نے جواب دیا کہ ’جہاں یہ اچھی چیزیں کریں گے، وہاں ہم تعریف تو کریں گے۔ یہ تو بچوں والی بات ہے کہ ہم نے آپ کی تعریف کی تو آپ ہمیشہ ہی اچھے ہیں۔ آپ اپنے بچوں کی بھی تعریف کرتے ہیں لیکن جب وہ بھی برا کام کرتے ہیں تو آپ ان پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت ہی احمقانہ قسم کی پریس کانفرنس تھی۔
اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اور مستقبل کے حوالے سے سوال پر تحریک انصاف چیئرمین نے کہا کہ ’میں اسٹیبلشمنٹ کی منظوری کی وجہ سے حکومت میں نہیں آنا چاہتا۔ 2018 کا الیکشن ہمیں کسی نے نہیں جتایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد ملک میں شفاف الیکشن ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کے اس الزام پر کہ ان پر آئی ایس آئی کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے تشدد کروایا، عمران کا کہنا تھا کہ ’ہم جنرل باجوہ کو کہتے ہیں کہ آپ نے بلاول کے کہنے پر کراچی کا سیکٹر انچارج بدلا تھا کیونکہ وہ ایک واقعے میں ملوث تھا لہذا اب ان لوگوں کو بھی برطرف کیا جائے جنہوں نے اعظم سواتی پر تشدد کیا اور ان کے ساتھ زیادتی کی۔
خیال رہے کہ عمران خان نے اعظم سواتی کی پریس کانفرنس کے بعد آئی ایس آئی کے دو افسران میجر جنرل فیصل نصیر اور بریگیڈیئر فہیم کے نام لے کر انھیں اعظم سواتی پر تشدد کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ تاہم وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناللہ نے گذشتہ روز اعظم سواتی اور عمران خان کے الزامات کی تردید کی اور ایف آئی اے کے اہلکاروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعظم سواتی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کے اہلکاروں نے اپنی حراست میں لیا تھا اور انھیں کسی اور ادارے کے حوالے نہیں کیا گیا۔
