جنرل باجوہ کا ٹیکس ڈیٹا لیک کرنے والاصحافی زیر عتاب

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کا ٹیکس ڈیٹا لیک کرنے والے ایف بی آر کے زیر تفتیش افسران کے اقبالی بیانات کی بنیاد پر لاہور کے ایک صحافی شاہد اسلم کو گرفتاری کے بعد دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کر دیا ہے کیونکہ اس نے اپنے موبائل فون کا پاس ورڈ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے تین صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کے مطابق ’تفتیشی افسر کی جانب سے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر کے مطابق ’سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا ٹیکس ڈیٹا لیک کرنے والے ملزمان نے بار بار صحافی شاہد اسلم کا نام لیا جس کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا۔‘

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے شاہد اسلم کو 14 جنوری کی شب لاہور سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں ایف آئی اے نے شاہد اسلم کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ’صحافی شاہد اسلم کو ایف بی آر سے معلومات مل رہی تھیں جو کہ بیرون ملک مقیم سینئر صحافی احمد نورانی نے اپنی ویب سائٹ فیکٹ فوکس پر بریک کیں۔ خیال رہے کہ احمد نورانی نے سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کی ملازمت کے آخری ہفتے میں ان کے خاندان کے اثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیل پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ باجوہ کے خاندان کے ٹیکس ریکارڈ، اثاثوں اور جائیداد کے لیک ہونے پر وزیر خزانہ کی جانب سے کروائی جانے والی انکوائری کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دو سینیئر افسران کو چار ماہ کے لیے معطلی کی سزا سنائی گئی جن پر ڈیٹا لیگ کرنے کا الزام ثابت ہوا۔ ایف بی آر کی ایڈمنسٹریشن ونگ سے تعلق رکھنے والے سیکرٹری کے عہدے پر تعینات دو افسران ظہور احمد اور عاطف نواز وڑائچ کو ملازمت کے رولز اینڈ ریگولیشنز کی خلاف ورزی پر 120 روز کے لیے معطل کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ گریڈ 18 کے ان دونوں افسران کا لاہور کارپوریٹ آفس سے ایف بی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں تبادلہ کیا گیا تھا جہاں وہ بطور ڈپٹی کمشنرز تعینات تھے، دونوں پر جنرل باجوہ کے خاندان کا ٹیکس ڈیٹا ایک صحافی کو لیک کرنے کا الزام ثابت ہوا۔ اس صحافی کا نام شاہد اسلم بتایا جاتا ہے جسے ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق ٹیکس معلومات کو غیر قانونی اور بغیر اجازت افشا کرنے پر ایک سال کی قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ ایف بی آر کی انکوائری میں یہ ثابت ہوا ہے کہ سینئیر صحافی احمد نورانی نے جنرل باجوہ کے اثاثوں بارے جو خبر شائع کی وہ مصدقہ دستاویزات کی بنیاد پر تیار کی گئی۔ وزیرخزانہ نے ڈیٹا لیکیج کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی سربراہ کی ٹیکس معلومات کا اس طرح لیک ہونا رازداری کے قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یعنی بلاواسطہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ جو دستاویزات لیک ہوئی ہیں وہ مصدقہ ہیں۔ یاد رہے کہ فیکٹ فوکس نے ایسے نازک موقع پر یہ رپورٹ شائع کی تھی جب حکومت اور فوجی قیادت کے مابین نئی فوجی تقرریوں کے حوالے سے ڈیڈلاک چل رہا تھا اور جنرل قمر باجوہ ایک اور ایکسٹینشن حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چنانچہ اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کہ انکا ٹیکس ڈیٹا حکومت کی مرضی سے لیک ہوا ہوگا، وزیر خزانہ نے فوری طور پر انکوائری کا حکم جاری کیا تھا۔

فیکٹ فوکس‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ٹیکس گوشواروں اور ویلتھ سٹیٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل باجوہ کے خاندان نے گزشتہ 6 برسوں میں 12 ارب روپے سے زائد کی جائیدادیں اور اثاثے بنائے۔ آرمی چیف کے خاندان کے ٹیکس ریکارڈ کے حوالے سے جاری فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اندر اور باہر آرمی چیف کے معلوم اثاثوں اور کاروبار کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 12 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں 2013 سے 2021 تک جنرل باجوہ اور انکے خاندان کی ویلتھ سٹیٹمنٹس بھی شیئر کیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جنرل باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد کے اثاثے جو 2016 میں صفر تھے، وہ بعد کے 6 برسوں میں 2 ارب 20 کروڑ روپے ہو گئے۔ اس رقم میں فوج کی جانب سے ان کے خاوند کو ملنے والے رہائشی پلاٹ، کمرشل پلاٹ اور مکانات شامل نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اکتوبر 2018 کے آخری ہفتے میں جنرل باجوہ کی بہو ماہ نور صابر کے ڈیکلیئرڈ اثاثوں کی کُل مالیت صفر تھی اور ان کی شادی سے صرف ایک ہفتہ قبل ہی یعنی 2 نومبر 2018 کو ان کے اثاثے ایک ارب 27 کروڑ روپے سے زائد ہوگئے۔ اسی طرح فیکٹ فوکس نے دعویٰ کیا کہ ماہ نور کی بہن ہمنا نصیر کے اثاثے 2016 میں صفر تھے جو 2017 تک ’اربوں‘ میں پہنچ گئے۔ رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ ماہ نور کی 3 بہنوں میں سب سے چھوٹی نابالغ بہن کے ٹیکس ریٹرن پہلی بار 2018 میں جمع کرائے گئے جب کہ ابھی وہ صرف 8 سال کی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسکے 2017 کے ریٹرن ظاہر کرتے ہیں کہ اسے پانچ عدد جائیدادیں بطور تحفہ دی گئیں، رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ آرمی چیف کے دوست اور ان کے صاحبزادے کے سسر صابر حمید مٹھو کے ٹیکس گوشوارے 2013 میں 10 لاکھ سے بھی کم تھے، تاہم آنے والے برسوں میں وہ بھی ارب پتی ہوگئے اور لاہور کے طاقتور بزنس ٹائیکون بن گئے اور بیرون ملک اثاثے منتقل کرنے شروع کر دیئے۔

دوسری جانب گرفتاری کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صحافی شاہد اسلم نے کہا کہ میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اور نہ میرے خلاف کوئی ایسے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ میں نے جنرل باجوہ کا کسی قسم کا کوئی ڈیٹا کسی کو مہیا نہیں کیا۔ انکا کہنا تھا کہ میں ایک عزت دار انسان ہوں، بین الاقوامی میڈیا میں کام کر چکا ہوں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ دوسری جانب ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ شاہد اسلم کے لیپ ٹاپ اور موبائل میں ثبوت موجود ہیں لیکن ملزم پاس ورڈ نہیں دے رہا۔ لیکن ملزم کے وکیل نے عدالت میں ایف آئی اے کی استدعا کی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی ایسا ثبوت نہیں کہ شاہد اسلم کو کوئی معلومات ملیں جو انہوں نے کسی اور کو دیں۔ اگر ایف آئی اے کے پاس کوئی ثبوت ہے تو عدالت کے سامنے پیش کرے۔ سب سے پہلے عدالت اس بات کا تعین کرے کہ شاہداسلم کو درست طریقہ کار کے تحت گرفتار کیا بھی گیا یا نہیں۔ تاہم عدالت نے شاہد اسلم کو دو روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

Back to top button