جنرل باجوہ کی اہلیہ عائشہ نے FBR کی انکوائری کیسے بند کرائی؟

معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد نے چار سال تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل جاری رکھا اور سال 2014 اور 2015 کے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اوراپنے اربوں روپوں کے اثاثوں کی آمدن کے ذرائع کے ثبوت دینے سے انکاری رہیں، بالآخر، انکوائری کرنے والے افسر کو ہی تبدیل کر دیا گیا اور فائل بند کر دی گئی جس کے بعد ایف بی آر نے عائشہ امجد کو کلین چٹ دے دی۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ 2016 سے 2020 کے دوران جنرل قمر باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد کے ٹیکس گوشواروں میں ان کے اثاثوں کے حوالے سے ایف بی آر کے ساتھ طویل خط و کتابت ہوئی لیکن اس کے باوجود ایف بی آر عائشہ امجد کو 2014 اور 2015 کے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور اثاثوں کی آمدنی کے ذرائع کے ثبوت فراہم کرنے کے لیے قائل کرنے میں ناکام رہا، بالآخر جنرل باجوہ کو جلال آیا تو ایف بی آر نے مزید سوال کرنا بند کر دیئے کیونکہ یہ واضح ہو چکا تھا کہ دراصل یہ سب کچھ جنرل باجوہ کا ہے۔
سابق آرمی چیف کی اہلیہ کو بھیجے گئے مختلف خطوط میں ایف بی آر نے ان کے ذرائع آمدن، حصول کے طریقہ کار، جائیدادیں چھپانے اور ان کی شریک حیات کی جانب سے تحفے کے طور پر اثاثوں کی منتقلی پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا۔ تاہم ایک روز ایف بی آر نے اپنی کارروائی اچانک بند کر دی اور قرار دیا کہ آرمی چیف کی اہلیہ کی ویلتھ سٹیٹمنٹس میں پائے جانے والے تمام تضادات کو درست طریقے سے طے کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی تسلیم کر لیا گیا کہ ایف بی آر کا ابتدائی نوٹس ایک غلط فہمی پر مبنی تھا جس میں عائشہ امجد سے اپنے شوہر سے تحفہ وصول کرنے کے ثبوت پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ عائشہ امجد کی جانب سے 2016 میں ظاہر کی گئی کچھ جائیدادیں، ان کے شوہر کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ سے ان کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں منتقل کی گئی تھیں اور انھوں نے اسے “تحفہ” ظاہر کیا تھا لیکن ایف بی آر حکام نے اس طرح تحفہ وصول کرنے کے دستاویزی ثبوت بارے پوچھنا شروع کر دیا، مسز باجوہ کو نوٹس بھی جاری کیے گئے جن میں ان سے ٹیکس کٹوتیوں اور نئی خریدی گئی جائیداد ظاہر نہ کرنے بارے وضاحت مانگی گئی تھی۔
فیکٹ فوکس کے مطابق جنرل باجوہ کی اہلیہ نے 10 اگست 2016 کو بطور ٹیکس فائلر پہلی بار رجسٹریشن کروائی۔ 6 دسمبر 2016 کو ایف بی آر نے عائشہ کو دو خط لکھے اور ان سے 2014 اور 2015 کے انکم اور ویلتھ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی درخواست کی گئی۔ 30 جون 2018 کو ایف بی آر کی جانب سے ایک اور خط لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ اپنے 2016 کے انکم ٹیکس گوشواروں میں انہوں نے 6 کروڑ روپیہ سے زائد دکھایا ہے لیکن گزشتہ سال ان کی دولت صفر تھی۔
لہٰذا ان سے آمدنی کے ذرائع مانگے گے جواب میں 3 اپریل 2018 کو عائشہ امجد نے لکھا کہ 2016 سے پہلے ان کی اپنی کوئی آمدنی نہیں تھی اور ان کے تمام اثاثے اور جائیدادیں ان کے شوہر جنرل قمر باجوہ کی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر کر دیئے گئے تھے لہٰذا تمام اثاثے انکے شوہر کی ویلتھ سٹیٹمنٹ سے منتقل کیے گئے۔جواب میں فیڈرل بیورو آف ریونیو نے 12 اپریل 2018 کو دوبارہ عائشہ امجد سے 6 کروڑ روپے کے تحفے میں دیے گئے کراس چیک کی کاپی اور گفٹ کی رقم کی تصدیق کے لیے دونوں میاں بیوی کی بینک سٹیٹمنٹس جمع کرانے کو کہا۔
مسز عائشہ امجد نے 17 اپریل 2018 کو سال 2016 کے لیے اپنے ویلتھ سٹیٹمنٹ پر نظرثانی کی اور 18 اپریل 2018 کو ایف بی آر کو جواب دیا کہ انھوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں غلطی سے اپنے شوہر کے ٹیکس گوشواروں سے منتقل کردہ اثاثوں کو ’’گفٹ‘‘ ظاہر کر دیا تھا لہٰذا، ایک نظرثانی شدہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرائی گئی ہے جس میں درستگی بھینکر دی گئی ہے۔ 14 مئی 2018 کو ایف بی آر نے عائشہ امجد کو ایک نوٹس بھیجا اور یاد دہانی کرائی کہ کافی وقت گزر جانے کے باوجود اس کی تعمیل نہیں کی گئی۔ یہ بھی لکھا گیا کہ جس طرح عائشہ نے پچھلے جواب میں ذکر کیا تھا، انہیں تحفہ دینے والا باقاعدہ ریٹرن فائلر تھا اور اس کی تصدیق ان کے انکم ٹیکس گوشواروں سے کی جا سکتی تھی، لیکن ایسا ایف بی آر کے سسٹم میں ظاہر نہیں ہو رہا۔ عائشہ امجد کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے ڈیڈ لائن دی گئی اور خبردار کیا گیا کہ اگر بروقت تعمیل نہ کی گئی اور انکا جواب ایف بی آر کو مطمئن نہ کر سکا تو قانونی کارروائی کی جائے گی ۔
عائشہ امجد نے ایف بی آر کو جواب میں لکھا کہ وہ تمام تر اعتراضات کے جوابات جمع کروا چکی ہیں لہٰذا نوٹس واپس لیا جائے۔ ایف بی آر نے جواب میں لکھا کہ ان کے جواب میں اثاثوں کی منتقلی سے متعلق کوئی ثبوت نہیں تھا۔ انھیں کہا گیا کہ وہ اپنے تحریری جواب کے ساتھ اثاثوں کی منتقلی کے دستاویزی ثبوت اور اپنے اور اپنے شوہر کے انکم ٹیکس ریٹرن کی کاپی بھی جمع کرائیں۔ سال 2019 میں عائشہ کو ایف بی آر کی جانب سے مسلسل نوٹسز اور وارننگز کی وجہ سے تمام اثاث ظاہر کرنے پڑے۔ جب ایف بی آر نے مسز باجوہ کو ہر برس بڑھتی جائیدادوں کے حوالے سے مزید سوال بھیجے تو طاقتور جرنیل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور 24 دسمبر 2020 کو اچانک ایف بی آر نے انکوائری ختم کر دی۔ یاد رہے کہ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق مسز جنرل باجوہ کی جائیداد اور اثاثوں کی مالیت ساڑھے 12 ارب روپوں سے زائد ہے۔
