جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ حتمی کیوں نہیں ہے؟

جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے نومبر میں ریٹائر ہونے کے اعلان کو غیر حتمی قرار دیتے ہوئے معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ آرمی چیف تو دوسری توسیع سے پہلے بھی یہی کہتے تھے کہ وہ ایکسٹینشن نہیں لیں گے مگر پھر حالات ایسے بن گے کہ عمران خان کو انہیں توسیع دینا پڑ گئی۔ چنانچہ اگر عمران خان کے لانگ مارچ کے نیتجے میں حالات خراب ہو جاتے ہیں تو جنرل باجوہ چپ کر کے نہیں بیٹھے رہیں گے، انہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔ لہٰذا ابھی حتمی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ جنرل قمر باجوہ نومبر میں واقعی ریٹائر ہو کر گھر چلے جائیں گے۔
نیا دور کے ٹی وی ٹاک شو میں نجم سیٹھی نے کہا کہ جنرل باجوہ کے حوالے سے کہا جا رہا یے کہ انہیں امریکہ میں الوداعی ڈنر دیا گیا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اگر یہ الوداعی ڈنر ہوتا تو پاکستان میں ہی دیا جاتا، لہٰذا مجھے باجوہ کا امریکی ڈنر الوداعی نہیں بلکہ ویلکم ڈنر لگتا ہے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ بقول وزیر دفاع خواجہ آصف، نئے آرمی چیف کے لیے انکے پاس پانچ نام آنے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب جنرل باجوہ خود بھی اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں تو وہ نیا آرمی چیف تعینات کر کیوں نہیں دیتے؟ سیٹھی کا کہنا تھا کہ ایک طرف عمران کہتے ہیں کہ ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ انکی لیک آڈیوز جعلی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر عمران اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں اور آڈیوز کی صداقت کو چیلنج کرتے ہیں تو حکومت انکا فرانزک بھی کروا سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی سوال یہ ہے کہ کیا خان صاحب کے یوتھیے سپورٹر یہ بات تسلیم کر لیں گے کہ ان کا لیڈر جھوٹا ہے، یا فراڈیا ہے؟ اصل معاملہ یہ ہے کہ کون اس بات کو مانتا ہے اور کون نہیں۔ اگر یہ آڈیوز عمران کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچا رہیں تو پھر ہمیں پریشانی ہونی چاہئیے اور اگر نقصان پہنچا رہی ہیں تو پھر ہمیں اس بارے کوئی کارروائی کرنی چاہئیے۔
نجم سیٹھی نے کہاکہ شہباز شریف کی وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیک ہونے کے بعد جوابی طور پر جس طرح عمران کی آڈیوز مسلسل لیک ہو رہی ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی جاسوسی کی گئی ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں دنیا میں ہر جگہ جاسوسی کرتی ہیں اور وہ فیصلہ سازی اور تجزیے کے لیے ریکارڈ کی جاتی ہیں مگر کہیں بھی ایسی آڈیوز لیک نہیں ہوتیں۔سیٹھی کا کہنا تھا کہ چاہے ہارس ٹریڈنگ ہو یا کچھ اور، عمران خان شروع سے اپنی جیت کے لیے ہر ہتھکنڈہ ستعمال کرتے آئے ہیں لیکن حیرانی یہ ہے کہ بار بار ایکسپوز ہونے کے باوجود ان کے سپورٹرز اب تک کسی بھی الزام کو سچ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ عمران کے ووٹرز ملکی مفاد کی بجائے جذبات کو دیکھتے ہیں۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ عمران خان کے پونے چار سالہ دور کی ناکامیوں اور نااہلیوں کے نتیجے میں آج معیشت تباہ حال ہے، اور عوام پس رہے ہیں لیکن عمران خان کا شوق اب بھی پورا نہیں ہوا اور وہ ایک ایسے وقت میں کہ جب ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، مسلسل انتشار کی سیاست کر رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ عمران کے لانگ مارچ سے حکومت نہیں گر سکتی مگر سسٹم ضرور ملیا میٹ ہو سکتا یے۔ سوقل یہ ہے کہ اگر عمران نے کوئی ایسا کام کیا جس سے اسلام آباد میں لاشیں گر گئیں تو کیا جنرل باجوہ چپ کر کے بیٹھے رہیں گے؟ پہلے بھی جب ریٹائرڈ فوجی افسران نے مستی کرنے کی کوشش کی تھی تو انہیں شٹ اپ کال دے دی گئی تھی۔ اب بھی عمران کے لانگ مارچ میں ریٹائرڈ لوگ نکلیں گے مگر اس مرتبہ تھوڑی تعداد میں ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں نجم کا کہنا تھا کہ عمران خان آخر تک آگے بڑھتے ہیں اور آخری وقت پہ یوٹرن لے لیتے ہیں۔ اب بھی لانگ مارچ بارے ان کی یہی کوشش ہے۔ یہ ویسا لانگ مارچ نہیں ہوگا کہ انہوں نے ایک دن کال دی تو اگلے دن انکے حامی اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ یہ ویسا لانگ مارچ ہوگا کہ کسی بھی وقت واپس جایا جا سکے۔ خان صاحب صرف پارلیمنٹ میں واپس جانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت ملک میں 1993 والی صورت حال بنا رہے ہیں جب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کبھی نواز شریف کے پاس جا رہے تھے اور کبھی صدر غلام اسحاق خان کے پاس جا رہے تھے اور بالآخر آرمی چیف جنرک کاکڑ نے صدر غکام اسحاق خان اور وزیراعظم نوازشریف دونوں سے استعفے کے کیا تھا۔ ایسے میں عمران خان جو چاہتے ہیں اگر ویسا ہونے دیا گیا تو اس کے بہت خوفناک نتائج سامنے آئیں گے۔
