جنرل باجوہ کے مؤقف نے اسٹیبلشمنٹ کو ننگا کر دیا


ایک مرتبہ پھر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے فوجی قیادت کو کھری کھری سنائی ہیں اور کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ بیان نے ڈان لیکس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ میں نے جو بیانیہ آج سے کئی برس پہلے اپنایا تھا وہ ملکی مفاد میں تھا اور اس پر مجھے غدار قرار دینے والے جرنیل آج وہی بیانیہ لے کر آگے بڑھ رہے ہے اور خود کو حب الوطنی کا چیمپئن ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
21 فروری کو مسلم لیگ یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘جب بطور وزیر اعظم میں نے کہا کہ اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے تو جرنیلوں نے میری بات کو ڈان لیکس بنا دیا، میری حب الوطنی پر سوال اٹھا کر مجھے غدار بنادیا، اور پھر منتخب وزیراعظم کے خلاف فوج کے ادارے سے ایک جرنیل نے لکھ دیا کہ میری ٹوئٹ ریجیکٹڈ اور اس کو پاؤں تلے روندا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ‘آج اندازہ کریں کیا ہور ہا ہے، کہتے ہیں جیسا کروگے ویسا بھرو گے، جیسی کرنی ویسی بھرنی اور جیسا بوو گے ویسا کاٹو گے، آج پاکستانی فوجی قیادت خود اپنے گھر کی خبر لینے کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کیا کہا تھا؟یہی نا کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے، میں وہی چاہتا تھا جو محمد علی جناح نے چاہا تھا اور پاکستان کا آئین بنانے والے ہمارے بڑوں نے چاہا تھا، میں وہی چاہتا تھا جو پاکستان کے آئین میں لکھا ہوا ہے اور میں وہی چاہتا تھا جو ہر مہذب اور جمہوری ملک کے عوام چاہتے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ جب بھی جمہوری حکومتیں ملک کو ترقی کی طرف لے جاتی ہیں تو ان کو فوجی اسٹیبلشمینٹ کی سازشوں سے ناکام کر دیا جاتا ہے۔ انہون نے کہا کہ اب انکی زندگی کا مقصد انہی داغ دار چہروں کو بے نقاب کرنا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘آج چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ وہی الفاظ دہرا رہے ہیں جو میں نے آج سے کئی سال پہلے دہرائے تھے، اور مجھے غدار قرار دے دیا گیا تھا لیکن آج وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کی پہلے ہمیں اہنے گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر میری سچائی اورمیرے نظریے پر مہر ثبت کردی گئی اور جس بات پر مجھے غدار کہا گیا تھا آج وہی بات مجھے غدار کہنے والے بھی کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 برسوں سے یہ ثابت کرنے پر محنت ہوتی رہی ہے کہ عوامی رائے غلطی پر ہوتی مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ عوامی رائے کبھی غلطی پر نہیں ہوتی’۔
لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی یوتھ ونگ کے کنوینشن سے ورچوئل خطاب میں نواز شریف نے کہا پاکستان ایک ٹھوس نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا، لیکن 73 سال گزرنے کے باوجود ملک آج بھی قائداعظم کی منزل کا متلاشی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘کتنے افسوس کی بات ہے کہ 73 سال گزرنے کے باوجود ہم اپنی منزل تلاش ہی نہیں کرسکے کہ ہمیں کس راستے پر جانا ہے، اس کا تعین نہیں کرسکے، ابھی تک اپنی منزل اور راستے کا پتا نہیں ہے، دنیا چاند سے آگے مریخ پر پہنچ گئی لیکن ہم اس دنیا میں اپنے ملک پاکستان کا راستہ تلاش نہیں کرسکے’۔ نوازشریف نے کہا کہ ‘جو ملک ہمارے بعد آزاد ہوئے اور ہم سے بہت پیچھے تھے لیکن آج ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں، ان کے ملک میں ووٹ کا احترام کیا جاتا ہے اور ووٹ کو عزت ملتی ہے، ملک کو آئین، قانون اور دستور کےمطابق چلایا جاتا ہے’۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘وہ ملک کسی قانون کے تحت چلتے ہیں، وہاں عدالتیں انصاف کرتی ہیں، وہاں انصاف نہیں بکتا، وہاں کی فوج اور جرنیل شب خون نہیں مارتے اور وہاں کے جرنیل امریکا میں جا کر پاپاجونز نہیں بناتے ہیں بلکہ آئین کی پاسداری کرتے ہیں، اپنے ملک کی رکھوالی کرتے ہیں، اپنے آئین، قانون، عدالتوں، سیاست دانوں، اپنی پارلیمنٹ اور قانون کی بالادستی کا احترام کرتے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے ملک میں کیا ہوتا ہے، یہاں آئین اور قانون کی بار بار دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور عوام کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے، ووٹ چوری ہوتا ہے، الیکشن مسلم لیگ (ن) میں کامیاب ہوئی ہے لیکن آر ٹی ایس بند کرکے، رات کے اندھیرے میں بکسے بدل کر ایک سلیکٹڈ کو بیٹھا دیا جاتا ہے، کئی دن نتائج نہیں آتے اور اعلان کسی اور کا کیا جاتا ہے’۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘یہی وجہ ہے ہم دن بدن معاشی بدحالی کی دلدل میں پھنستے اور دھنستے چلے جا رہے ہیں، جب بھی پاکستان کے اندر کسی جمہوری حکومت نے ملک کو ترقی کی راہ ڈالا تو رکاؤٹیں کھڑی کر دی گئیں’۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘ایسا کیوں کیا جاتا ہے، کیا آپ کو ایک ترقی کرتا ہوا پاکستان برداشت نہیں ہے، کیوں اس کے خلاف سازشیں شروع ہوجاتی ہیں، اس کھیل نے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، خدا کا خوف کرو’۔ انہوں نے کہا کہ’ آپ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ آپ کر کیا رہے ہیں، یہ سب کچھ پاکستان کو کدھر لے کر جارہا ہے، یہاں آئے دن نئے نئے پلاٹ اپنے لیے الاٹ کیے جاتے ہیں، یہ پاکستان کی سرزمین کسی کی جاگیر نہیں، یہ اگر کسی کی جاگیر ہے تو 22 کروڑ عوام کی جاگیر ہے اوراگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے پلاٹس اپنے لیے حاصل کروں تو پاکستان کے عوام ایسا نہیں ہوں گے دیں گے لیکن ایسا ہو رہا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘چند لوگ اپنی جیبیں اور تجوریاں بھر رہے ہیں اورسب کچھ اکٹھا کرکے اپنے لیے لے کر جا رہا ہے، کوئی امریکا اور کوئی آسٹریلیا لے کر جا رہا ہے، عوام کے خون پسینے کی کمائی سے وہاں کوئی اپنی جائیدادیں اور پاپا جونز ریسٹورانٹ بنا رہا ہے اور وہ پاکستان کی دولت لوٹ کر ادھر لے کر جا رہاہے’۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اس لیے نکال دیا گیا کہ میں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی لیکن یہاں پاپاجونز بنائے جارہے ہیں کیا ان کا بھی احتساب ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں ملک آگے بڑھ رہا تھا، بجلی، گیس سستی تھی، ہمارا جانا تھا کہ چند آئین شکن کرداروں نے پاکستان کا یہ حشر کردیا ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں، ایک نالائق اور سلیکٹڈ وزیراعظم کو لاکر بیٹھا دیا گیا ہے اور قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غربت، بے روزگاری اور افلاس کے سائے گہرے ہو رہے ہیں، پوری دنیا میں آج پاکستان تماشا بنا دیا گیا ہے، ہر طبقہ مایوس ہے اور موجودہ حکومت کو بد دعائیں دے رہا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘ہم نے برسوں پہلے کہا تھا کہ بلکہ 1999 سے مسلسل بڑی دل سوزی سے یہ بات کرتا آیا ہوں کہ ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے، اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے اور اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چاہیے اور آج دیکھیں کیا ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو اگر حقیقی جمہوریت کے راستے پر ڈالنا ہے، آئین کی حکمرانی ہونی ہے تو پھر دستور کے مطابق چلنا پڑے گا ورنہ یہی پسماندگی، غربت اور دوسری غلامی مقدر رہے گی لیکن ہم نے اپنے مستقبل کو ماضی سے مختلف بنانا ہے’۔
نواز شریف نے کہا کہ میرا نظریہ، بیانیہ اور جدوجہد عوام اورپاکستان کی آنے والی نسلوں کے لیے ہے، میں یہ جدوجہد کرکے پاکستان کے مستقبل کی نسلوں کو وہ پاکستان دینا چاہتا ہوں جس کی دنیا میں عزت اور احترام ہو اور پاکستان سرفخر سے بلند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جدوجہد والہانہ جذبہ اور قدم کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی، اس لیے اپنے ملک و قوم کے لیے تھوڑی سی قربانی دیں، جس شخص میں کامیابی سے زیادہ ناکامی کا خوف ہوتا ہے وہ کبھی کامیابی نہیں پاتا اس لیے میں، مریم اور آپ اور ہم سب نے بلاخوف حق اور سچ کا ساتھ دینا، حق اورسچ کی جنگ لڑنی ہے، حق اور سچ کا چراغ روشن کرنا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ غیرآئینی طاقتوں کے داغ دار چہروں کو بے نقاب کرنا ہے، یہ میرا، آپ کا اور 22 کروڑ عوام کا پاکستان ہے، 22 کروڑ عوام کو کچھ نہیں ملتا لیکن صرف 2 سے 4 لاکھ لوگ جو اوپر بیٹھے ہیں سب کچھ لوٹ کر جاتے ہیں، عوام کے پاس بجلی کا بل دینے، بچوں کی فیس اور کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کچھ نہیں ملتا لیکن یہ چند لوگ سرکاری فنڈ اورسرکاری اخراجات پر تنخواہیں بھی لاکھوں میں لیتے ہیں، گاڑیاں بھی سرکاری، ریٹائر ہونے کے بعد پنشن بھی لاکھوں میں، پلاٹ بے شمار دیے جاتے ہیں جبکہ غریب لوگ بھوکے پیٹ کے ساتھ سوتے ہیں، اس سب کو ہم نے تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کو تبدیل کرکے رہیں گے، اس کے لیے میدان میں نکلیں گے، حق اور سچ کو بلند کریں گے، قربانی دیں گے اور ملک کو بدلیں گے اور ووٹ کو چوری ہونے سے روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں جدوجہد کروں گا، مریم بھی آپ کے شانہ بشانہ ہوگی، اسی لیے کہتے ہیں کہ مریم کو ختم کردیں گے، ہمارا اللہ پر مان ہے کہ یہ ہم میں سے کسی کو ختم نہیں کرسکتے مگر یہ خود ختم ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button