جنرل ضیاء کی کس یکی کا خمیازہ پاکستانی آج بھی بھگت رہے ہیں

پاکستانی ریاست نے سال ہا سال اپنے کوتاہ سیاسی مقاصد کی خاطر معاشرے میں کبھی جہاد اور کبھی اسلام کے نام پر انتہا پسندی کے جس ایجنڈے کو فروغ دیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری مذہبی جماعتوں کی نوے فی صد سیاست ’توہین رسالت‘ کے قانون کے گرد گھومتی ہے، اسلام کے نام پر 10 برس تک پاکستان پر حکمران رہنے والے تیسرے فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی جانب سے پینل کوڈ میں شامل کیے جانے والے توہین رسالت کے ایک قانون کو آج الہامی درجہ دے دیا گیا ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس نے پاکستان کی ساڑھے تین فی صد اقلیتی آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے اور توہین کے نام پر انسانیت کا قتل جاری ہے۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذہب کے نام پر ایسی قانون سازی کی گئی جس کی آڑ میں اقلیتوں کا استحصال یقینی بنایا گیا اور انہیں عملی طور پر دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت دے دی گئی، ’توہین‘ مذہب کے کچھ قوانین کا استعمال تو سو فی صد مذموم مقاصد کے تحت کیا جاتا ہے، اور اس کا نشانہ بننے والے اکثر افراد کا تعلق اقلیتی گروہوں سے ہوتا ہے۔ ایک پیٹرن ہے، جسے سینکڑوں بار دہرایا جا چکا ہے۔ ہزاروں ایسے کیسز ریکارڈ کا حصہ ہیں جن میںکسی غیر مسلم سے کسی مسلمان کا کوئی معاشی، سیاسی یا معاشرتی تنازع ہو جاتا ہے، اور پھر اس غیر مسلم پاکستانی پر توہینِ مذہب کا کوئی الزام لگا دیا جاتا ہے، الزام لگانے میں بھی کسی ’تخلیقی صلاحیت‘ کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا، ہر بار وہی الزام، مقدس اوراق جلائے ہیں یا مقدس ہستیوں کی توہین کی ہے، حتٰی کہ ایک گونگے غیر مسلم پر بھی یہ الزام لگ چکا ہے کہ اس نے مسلمانوں کی مقدس ہستیوں بارے ’بدزبانی‘ کی ہے، ایف آئی آر کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ اس شخص نے یہ ’ بدزبانی‘ اشاروں میں کی تھی۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ توہین کا الزام لگانے کے بعد علاقائی مساجد سے اکثر اعلان بھی کروایا جاتا ہے کہ ’دین کی حرمت‘ کے پروانے گھروں سے نکل آئیں ورنہ قیامت کے روز کیا جواب دیں گے۔ملزم اگر خوش قسمت ہو تو ’پروانوں‘ سے بچ نکلتا ہے ورنہ جہنم واصل کر دیا جاتا ہے، اور قاتل جنت کے پروانے لے کر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔اور اگر ملزم گرفتار ہو جائے تو اس کووکیل نہیں ملتا، اس کا کیس کوئی جج نہیں سننا چاہتا، اور اگر سن لے تو انصاف کرنے سے ڈرتا ہے۔یہ ہر روز کا معمول ہے، ہر کوئی جانتا ہے، مگر سب خاموش ہیں، سب کو جان پیاری ہے۔انسانیت ہار رہی ہے، وحشت کا بول بالا ہے۔قانون کی اصلاح کی بات کی جائے تو تلواریں بے نیام ہونے لگتی ہیں،
لیکن حماد غزنوی کے مطابق یہ غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے کہ توہین رسالت کا الزام فقط غیر مسلموں تک محدود ہے، مسلمان آپس میں بھی یہ ’کھیل‘ کھیلتے ہی رہتے ہیں۔ صرف ایک جنید حفیظ کے کیس سے ساری بات سمجھ میں آ جاتی ہے، جو 2013 سے توہین کے الزام میں جیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہا ہے، عدالت کے سات جج اپنے تبادلے کروا کر نکل لیے، جنید حفیظ کے وکیل کو قتل کر دیا گیا، 2019 میں اسے سزائے موت سنائی گئی اور آج تک کسی اعلیٰ عدالت میں اُس کی اپیل ہی نہیں سنی گئی۔جنید حفیظ کے خلاف کیس ایک مذہبی تنظیم کی تحریک پر بنایا گیا تھا، جس کے پیچھے لیکچرر شپ کی اسامی کا کوئی جھگڑا بتایا جاتا ہے۔ یہ ہے ایک گولڈ میڈلسٹ، فل برائٹ اسکالر، امریکا سے تعلیم یافتہ، بہاالدین ذکریا یونی ورسٹی کے پروفیسر کی دل خراش داستان۔ فضا خون آشام ہے۔
حماد غزنوی یاد دلاتے ہیں کہ پچھلے دنوں اچھرہ لاہور میں کچھ مذہبی جنونی ایک عورت کو اس لیے قتل کرنا چاہتے تھے کہ اُس کے لباس پر اعراب کے ساتھ ’حلوہ‘ لکھا ہوا تھا جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔ اس تحریر کی شانِ نزول پچھلے ہفتے سرگودھا میں ہونے والا ایک واقعہ ہے جس میں ایک مذہبی جماعت کے اکسانے پر ایک ڈنڈا بردار ہجوم نے ایک عیسائی کو شدید زخمی کر دیا ، اور اس کے گھر کو آگ لگا دی۔ اس پر الزام تھا کہ اُس کے گھر کے باہر جلے ہوئے مقدس اوراق ملے ہیں۔ ریاست، اور مذہب کے دکان داروں نے اس بیمار دماغی ساخت کی آبیاری میں دہائیاں خرچ کی ہیں، ہماری نسلیں اس آگ میں جھونک دی گئی ہیں۔ حماد غزنوی سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ آگ بجھانے میں بھی نسلیں لگیں گی؟
