جنرل فیض حمیدکے وکیل کا لائسنس کس نے اور کیوں معطل کیا؟

 

پنجاب بار کونسل دوران ہڑتال عدالتی پیشی پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید اور معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کا وکالت کا لائسنس معطل کرتے ہوئے انہیں آئندہ عدالتوں میں پیش ہونے سے روک دیا ہے جبکہ میاں علی اشفاق کے لائسنس کی مستقل منسوخی کا معاملہ انضباطی کمیٹی کو بھجوا دیا ہے، جس کے بعد عمرانڈو وکیل کے  مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بار کونسل کی جانب سے لائسنس معطلی کے بعد میاں علی اشفاق کسی بھی عدالت میں ملزمان کی نمائندگی کے مجاز نہیں رہے۔ اس صورتحال کے باعث مستقبل قریب میں جنرل فیض حمید یا رجب بٹ کو عدالتوں سے فوری ریلیف ملنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ میاں علی اشفاق کا شمار ان وکلا میں ہوتا ہے جو حالیہ برسوں میں متعدد ہائی پروفائل اور حساس نوعیت کے مقدمات میں پیش پیش رہے ہیں۔ میاں علی اشفاق محض معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے وکیل ہی نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے قبل حساس نوعیت کے ایک اور مقدمے میں بھی نمایاں قانونی کردار اداکر چکے ہیں۔ میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے وکیل کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان اہم اور ہائی پروفائل مقدمات میں نمائندگی کے باعث ان کی معطلی کو قانونی اور عوامی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے،قانونی ماہرین کے مطابق پنجاب بار کونسل کی جانب سے پریکٹس لائسنس کی معطلی اور مستقل منسوخی کے لیے ریفرنس بھیجے جانے کے بعدمیاں علی اشفاق کے قانونی کیریئر کو شدید دھچکا لگا ہے جبکہ اس پیش رفت کے اثرات زیرِ سماعت مقدمات اور متعلقہ فریقین پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔  قانونی ماہرین کے مطابق وکالت کا لائسنس معطل ہونے کے بعد میاں علی اشفاق کسی بھی عدالت میں اپنے مؤکلان کی نمائندگی کے مجاز نہیں رہے، جس کے نتیجے میں زیرِ سماعت مقدمات میں متبادل وکیل مقرر کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا براہِ راست اثر رجب بٹ اور جنرل (ر) فیض حمید سے متعلق کیسز کی پیش رفت اور ممکنہ قانونی حکمتِ عملی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب بار کونسل نے وکلا کی ہڑتال کے باوجود کراچی سٹی کورٹ میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کرنے پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل کیا ہے۔ پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق میاں علی اشفاق کے خلاف کارروائی کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے موصول ہونے والے خط کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔ خط میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کراچی بار کونسل کی کال پر وکلاء کی ہڑتال کے باوجود ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نجی گارڈز اور متعلقہ افراد کے ہمراہ نہ صرف عدالت میں پیش ہوئے بلکہ جاری ہڑتال کے دوران رجب بٹ کی نمائندگی بھی کی اور دوران سماعت میاں علی اشفاق نے قانونی برادری کے خلاف بیانات بھی دئیے۔ میاں علی اشفاق کا یہ عمل ہڑتال کے ضوابط اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی صریحا خلاف ورزی ہے۔

پنجاب بار کونسل کا میاں علی اشفاق کے طرز عمل کو سنگین پیشہ ورانہ بدسلوکی قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میاں علی اشفاق کے بیانات کے نتیجے میں وکلا برادری میں تقسیم، تصادم اور کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے قانونی پیشے کی ساکھ، اتحاد اور اجتماعی وقار کو شدید نقصان پہنچا۔ کونسل نے واضح کیا کہ ایک پریکٹس کرنے والے وکیل پر لازم ہے کہ وہ ہر صورت قانونی پیشے کے وقار اور ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کرے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر میاں علی اشفاق کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے لائسنس کی مستقل منسوخی کے لیے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو ارسال کر دیا ہے۔بار کونسل کے ریکارڈ کے مطابق میاں علی اشفاق 2010 میں پنجاب بار کونسل اور 2012 میں ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ تاہم اب کونسل نے قانونی پیشے کے وقار اور ضابطۂ اخلاق کی پاسداری نہ کرنے پر ان کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ’میاں علی اشفاق نے پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976ء کے رول 134 اور 175-A کی صریحا خلاف ورزی کی ہے جو پیشہ ورانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتی ہے۔‘ ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ علی اشفاق کا لائسنس برائے وکالت فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔ اور ان کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی پنجاب بار کونسل کو ارسال کیا جاتا ہے جو قانون کے مطابق ان کے لائسنس کی مستقل منسوخی کے بارے میں کارروائی کرے گی۔

یاد رہے کہ میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ گزشتہ ہفتے اپنے مؤکل کی نمائندگی کرتے ہوئے اُن کے ہمراہ کراچی کی سٹی کورٹس میں واقع عدالت مٰں پیش ہوئے تھے جہاں چند وکلا نے ملزم رجٹ بٹ پر حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ وکیل علی اشفاق نے اپنی مدعیت میں اس حملے کا مقدمہ تھانے میں درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وکلا نے رجٹ بٹ سے بیگ چھین لیا تھا جس میں تین لاکھ روپے تھے۔ مقدمہ درج ہونے پر کراچی بار کے وکیلوں نے شدید احتجاج کیا اور مبینہ طور پر سٹی کورٹ تھانے پر دھاوا بول کر وہاں موجود ایس ایچ او سٹی کورٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس سٹیشن میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔

Back to top button