جنرل فیض حمید کا سخت ترین سزاؤں سے بچنا ممکن کیوں نہیں؟

باخبر دعوی کیا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کو اگلے چند ہفتوں کے دوران اپنے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سخت ترین سزائیں سنائے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید کا سزا سے بچنے کا کوئی امکان نہیں چونکہ کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے فوجی افسر کے پاس وعدہ معاف گواہ بننے کی آپشن نہیں ہوتی۔ ایسے میں اگر وہ اپنے سابقہ باس عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر اپنی جان چھڑوانے کی کوشش کریں بھی تو ایسا ممکن نہیں ہوگا۔
مبصرین کے مطابق جنرل فیض حمید پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد اب ان کیخلاف آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی جاری ہے۔ سنگین الزامات پر جنرل فیض حمید کو عمر قید اور سزائے موت جیسی سخت سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل فیض حمید پر عائد کردہ الزامات کو دیکھا جائے تو ان کے معافی کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ فوج میں بغاوت ریڈ لائن تصور کی جاتی ہے۔ ایسے جرم میں ملوث کسی بھی شخص سے کوئی رعایت نہیں برتی جاتی اور اسے ہر صورت نشان عبرت بنایا جاتا ہے تاکہ باقی اہلکار بھی اس کے انجام سے سبق حاصل کریں۔
دوسری جانب جنرل فیض حمید پر فرد جرم عائد کئے جانے کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جنرل فیض حمید کو چارج شیٹ کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ’’جنرل فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں سمیت ان کی دیگر چیزیں سامنے آرہی تھیں۔ ایسے میں نو مئی کا واقعہ ہوگیا۔ نو مئی دو ہزار تئیس کے واقعات کے بعد فیض حمید کی سرگرمیوں کی ٹریکنگ شروع کردی گئی تھی۔اس ٹریکنگ میں دیکھا گیا کہ فیض حمید پس پردہ کس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کس سے ان کی بات ہورہی ہے اور کیا بات ہورہی ہے۔ کس سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس ٹریکنگ میں انکشاف ہوا کہ فیض حمید نو مئی کے واقعہ کی پلاننگ سمیت دیگر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے تمام شواہد اکٹھے کئے گئے۔ ٹریکنگ کا عمل نو مئی دو ہزار تئیس کے بعد سے اگست دو ہزار چوبیس تک چلا۔ اس عرصے کے دوران اتنے شواہد جمع کرلئے گئے کہ فیض حمید کو گرفتار کیا جاسکے اور حاصل شدہ شواہد کو ثابت کیا جاسکے۔ پھر فیض حمید گرفتار ہوگئے اور ان کے کورٹ مارشل کا فیصلہ ہوگیا۔ اس کے بعد کا مرحلہ فرد جرم عائد کرنا ہوتا ہے، جو کی جاچکی ہے۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اگست میں فیض حمید کی گرفتاری سے لے کر اب تک ان سے مسلسل انوسٹی گیشن کی گئی اور مزید ٹھوس شواہد جمع کئے جاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیض حمید پر فرد جرم عائد کرنے میں کچھ زیادہ وقت لگ گیا‘‘۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معاملہ فرد واحد کا ہو تو عموماً کارروائی تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ لیکن فیض حمید کا معاملہ چونکہ فرد واحد کا نہیں اور ان کے ساتھ دیگر لوگ بھی شامل تھے، لہٰذا یہ عمل ذرا طویل ہوگیا کیونکہ انہوں نے دوران تفتیش جن دیگر لوگوں کے نام لئے، اس بارے میں بھی تحقیقات کرکے ٹھوس شواہد حاصل کرنے تھے۔
اس سوال پر کہ فرد جرم کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ دفاعی تجزیہ کار برگیڈیئر ریٹائرڈ آصف ہارون بتاتے ہیں کہ’’فرد جرم عائد ہونے کے بعد اب باقاعدہ کیس کی سماعت شروع ہوگی اور معاملہ سزا کی طرف جائے گا۔ دوران سماعت جرح کے دوران جب فیض حمید کے شریک ملزمان کا نام بھی سامنے آئے گا تو پھر ان کو بھی ملٹری کورٹ میں پیش کرنے کا عمل شروع ہوگا۔ ٹھوس شواہد کی بنا پر انھیں سزا سنا دی جائے گی۔ اس سوال پر کہ سزا سنائے جانے کی صورت میں فیض حمید کو کتنے فورمز پر اپیل کا حق ہوگا؟ آصف ہارون کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے آرمی چیف سے اپیل کا حق ہوگا۔ اس کے بعد وہ اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔ سزامعاف کرانے کا آخری فورم صدر مملکت سے اپیل کا ہوگا۔
جب آصف ہارون سے استفسار کیا گیا کہ فیض حمید کے کیس میں عمران خان کے ملوث ہونے کے کتنے امکانات ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا ’’اس کا انحصار اس پر ہے کہ فیض حمید نے دوران تفتیش اس حوالے سے ان کا نام لیا ہے یا نہیں اور یہ کہ دوران سماعت وہ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ اگر فیض حمید یہ کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے سب کچھ عمران خان کے کہنے پر کیا تھا، یا نو مئی کی پلاننگ میں بانی پی ٹی آئی بھی شریک تھے تو یقیناً عمران خان بھی اس کیس کی زد میں آجائیں گے۔ اس صورت میں عمران خان کو ملٹری کورٹ میں لانے کا جواز مل جائے گا۔‘‘
اس سوال پر کہ اس صورت میں کیا عمران خان کو فوجی تحویل میں لیا جائے گا؟ آصف ہارون کا کہنا تھا کہ یہ تو پہلے ہی ہوجانا تھا لیکن چونکہ فوجی عدالتوں کا معاملہ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں زیر التوا ہے، اس لئے اس عمل میں تاخیر ہورہی ہے۔ اگر فیض حمید ملکی خلفشاد اور نو مئی کے واقعات میں عمران خان کے ملوث ہونے کا اقرار کرلیتے ہیں تو پھر بانی پی ٹی آئی پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلانے کے حوالے سے حکومت کا کیس مضبوط ہوجائے گا۔ جب آصف ہارون سے استفسار کیا گیا کہ ملٹری کورٹ سے فیض حمید کو سزا سنائے جانے کی صورت میں انہیں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے ریلیف ملنے کا کتنا امکان ہے؟ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ملٹری کورٹ سے سزا پانے والوں کو سول عدالتوں سے ریلیف مل گیا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ قانون سازی ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ریفارمز ہورہی ہیں۔ اب مجرمان کو کھلی چھوٹ ملنے کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ لہٰذا سزا سنائے جانے کی صورت میں فیض حمید کو سول عدالتوں سے ریلیف ملنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ ان کے خلاف حاصل ہونے والے شواہد بہت ٹھوس ہیں۔ پھر یہ کہ ان کے خلاف ایک نہیں کئی کیسز ہیں۔ فیض حمید کو متوقع سزا کے بارے میں آصف ہارون کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے کیسوں میں عموماً عمر قید یا سزائے موت کا امکان ہوتا ہے۔ اس لئے فیض حمید کو سخت ترین سنائے جانے کا غالب امکان ہے۔
