جنرل فیض کے نون لیگی وزراء سے استعفے مانگنے کا انکشاف

نون لیگی قیادت کی جانب سے سیاسی مداخلت اور انتقام جیسے الزامات کا نشانہ بننے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی سیاہ کاریوں کے ثبوت سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں ایک طرف فوج کی طرف سے اختیارات سے تجاوز، کرپشن، مالی بدعنوانی، زمینوں پر قبضے اور لوٹ مار کے الزامات کے حوالے سے جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری جاری ہے وہیں دوسری جانب ماضی میں جنرل فیض حمید کی جانب سے نون لیگی وزراء سے استعفے مانگنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو بتایا کہ سابق ڈی جی سی فیض حمید نے دھرنے کے دوران ان سے ملاقات کی اور استعفے کا کہا جبکہ 26 نومبر 2017 کی شام آئی ایس آئی کے جونئیر افسران لاہور میں میرے گھر مجھ سے استعفی لینے آئے۔ فیض آباد دھرنا کے باعث اپنی وزارت سے ہاتھ دھونے والے سابق وفاقی وزیر زاہد حامد نے یہ تفصیلات دھرنا کمشن کے ارکان کو بتائیں۔ ان انکشافات کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کا یہ ثبوت ہی ان کو سزا دلانے کیلئے کافی ہے کیونکہ ملکی قانون قطعا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایک ڈی جی سی عوامی منتخب وزیر کے گھر جا کر اس سے استعفی مانگے۔ ان الزامات پر جنرل فیض حمید سے ضرور طلبی ہونی چاہیے۔
فیض آباد دھرنا کمیشن کے روبرو دئیے گئے اپنے بیان میں سابق وفاقی وزیر زاہد حامد کا مزید کہنا ہے کہ ان کی دھرنے کے دوران آئی ایس آئی سے دو ملاقاتیں ہوئیں ، پہلی ملاقات وزارت قانون میں دو افراد سے ہوئی جنکے رینک کا صحیح سے علم نہیں ،ملاقات کرنے والے شاید کرنل سطح کے افسران تھے ، وہ میرے منصوبوں کے بارے میں جاننا چاہتے تھے میں نے انہیں بتایا تھا کہ وزیراعظم اور پارٹی قیادت کی ہدایات پر عمل کروں گا ۔ زاہد حامد نے کہا کہ مجھ سے دوسری ملاقات ڈی جی سی فیض حمید نے کی ، فیض حمید نےتجویز دی کہ بحران کے خاتمے کیلیے کیا آپ مختصر وقت کے لیے استعفے پر غور کرسکتے ہیں ؟ وہ سمجھتے تھے کہ اگر میں کچھ عرصہ چھٹی پر بھی چلا جاؤں تو شاید اس سے بھی ٹی ایل پی والے مطمئن ہو جائیں گے ۔
زاہد حامد نے کہا کہ میں نے فیض حمید کو کہا کہ میں پہلے ہی وزیراعظم کو یہ پیشکش کرچکا ہوں مگر وہ ماننے کیلئے تیار نہیں ،انہیں بتایا کہ وزیر اعظم نے مجھے بھی کہا کہ میں دباؤ کا شکار نہ ہوں ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اجلاس میں کہا تھا حکومت توڑ دوں گا اپنے وزیر کو استعفی نہیں دینے دوں گا ، بدقسمتی سے جب پولیس ایکشن ناکام ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ واحد متبادل فوج کی مداخلت ہوگی جو اچھی نہیں ہوگی .اس صورتحال میں قیادت کو ایک بار پھر استعفی قبول کرنے کا کہا تھا ، میرے اصرار پر وزیراعظم نے نہ چاہتے ہوئے اتفاق کیا۔
زاہد حامد نے کہا کہ26نومبر 2017 کی رات لاہور میں میری رہائشگاہ پرآئی ایس آئی کے جونئیر افسران آئے ، وہ مجھ سے درخواست کرنے آئے تھے کہ میرے استعفے کا اعلان کیا جائے تاکہ فیض آباد انٹرچینج صبح کلیر ہو۔سابق وزیر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب سے فون پر مشاورت کے بعد میں نے استعفی جمع کرانے سے قبل اسکی خبر کے اجرا پر اتفاق کیا . انہوں نے کہا کہ جب 26 نومبر کی رات پولیس آپریشن ناکام ہوا تو مجھے لگا کہ اب مداخلت ہو گی زاہد حامد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دھرنے کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنماوں کے ہمراہ انکی ٹی ایل پی وفد سے ملاقات کرائی گئی تھی ۔اس ملاقات میں میرے عقیدے اور آخری نبی صلی اللہ و علیہ وسلم کے حوالے سے مجھ پر بے بنیادالزامات سے مجھے دلی دکھ ہوا۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی وفد نے مجھے سنا تو دوٹوک کہا کہ وہ اپنے الزامات سے دستبردار ہوتے ہیں ، وفد مطمئن نظر آیا اور اس نے اپنی قیادت سے مشاورت کا وقت مانگا ، تاہم انہوں نے محسوس کیا کہ تین ہفتوں سے احتجاج کرتے مظاہرین ان کے استعفے سے کم پر منتشر نہیں ہونگے۔ جس کے بعد انھوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
