جنسی ہراسگی کا شکار براڈکاسٹر نے قانونی جنگ کیسے جیتی؟


تحریم منیبہ نامی ایک باہمت لڑکی نے سماء ایف ایم ریڈیو میں ملازمت کے دوران جنسی طور پر ہراساں کئے جانے پر کچھ عرصہ تو خاموشی اختیار کیے رکھی لیکن جب یہ سلسلہ بڑھنے لگا تو وہ اس کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو گئی اور قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ تحریم نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا اور فاتح ٹھہری لیکن اسکا نتیجہ یہ ہے کہ آج تحریم بیروزگار ہے اور سماء ایف ایم کی جانب سے ہتک عزت کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔
تحریم کا یہ کہنا ہے کہ سماء ایف ایم ریڈیو میں کام کے دوران آئے روز اسے اپنی جسمانی ساخت، لباس اور انداز کے حوالے سے فخش جملے سننے کو ملتے تھے۔ تاہم اس نے ہر بار یہی سوچا کہ ان جملوں کا جواب دینے کی بجائے کام پر توجہ دینا زیادہ مناسب ہے لہذا وہ خاموشی سے اپنے کام میں مگن رہتی۔ مگر یہ سلسلہ نہ رکنا تھا اور نہ ہی رکا۔ یوں تو کئی بار تحریم کے کولیگز کی جانب سے انہیں جنسی طور ہراساں کیا گیا لیکن جو واقعہ عدالتی مقدمہ لڑنے کی وجہ بنا وہ اگست 2018 کا ہے جب ایک پروگرام کی ریکارڈنگ سے قبل ان کے سٹوڈیو میں بدبودار جوتے رکھ دیئے گئے، جب تحریم نے اس بارے میں متعلقہ عملے سے سوال پوچھا تو کسی نے جواب نہ دیا۔ تاہم انھوں نے اپنے متعلق اس وقت ان کی گھٹیا اور فحش باتیں سن لی جب وہ سٹوڈیو کے دروازے کے قریب تھیں۔ تحریم نے اس واقعے کے بعد دفتر میں ہی شکایت درج کرائی مگر واقعے میں ملوث تمام افراد کو کلین چٹ دے دی گئی۔ ثبوت مٹانے کے لیے اس دن کی سٹوڈیو کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ڈیلیٹ کر دی گئی تھی۔ تحریم کے ادارے نے ماضی میں ان پر نازیبا جملے کسنے والوں کے خلاف کیس کو اس بنیاد پر خارج کر دیا کہ خاتون نے اس سے پہلے کبھی شکایت نہیں کی اور نہ ہی ان کے پاس ثبوت ہیں جبکہ جن پر نازیبا جملے کسنے کا الزام ہے ان کے ساتھی کارکنوں نے ایسے کسی رویے کی تردید کی ہے۔
اس واقعے کے بعد تحریم کو احساس ہوا کہ وہ اب اس ماحول میں مزید کام نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا انھوں نے ادارے سے استعفیٰ دے دیا اور ٹوئٹر پر اس استعفے اور ادارے میں خواتین کے لیے سازگار ماحول نہ ہونے سے متعلق ٹویٹ بھی کی۔تحریم کی ٹویٹ کو بنیاد بنا کر دفتر کے حکام نے ٹھیک دو روز بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا اور انھیں 50 کروڑ روپے کا ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔ یہ مقدمہ تادمِ تحریر سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ اس واقعے اور نہ ختم ہونے والی عدالتی جنگ کے حوالے سے تحریم کہتی ہیں کہ یہ میرا بہت بڑا امتحان تھا۔ میں ایک مہینہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی۔ میں نفسیاتی مریض بن گئی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر میں نے کیا کیا ہے۔ میں سوچتی تھی کہ میں اتنی بڑی رقم کیسے دوں گی اور یہ کہ میں اس قدر مضبوط گروپ کا مقابلہ کیسے کروں گی۔ انہیں لگنے لگا کہ ان کی زندگی اور ان کا کریئر سب ختم ہو گیا ہے مگر ایک ماہ بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہراساں کیے جانے کے خلاف مقدمہ دائر کریں گی اور ان تمام افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لائیں گی جو ان کی اس قدر تذلیل کرتے رہے کہ وہ نفسیاتی مریض بن رہی تھیں۔
تحریم منیبہ نے سماء ایف ایم نامی نجی ریڈیو ادارے میں کام کرنے والے سات افراد محمد شعیب، محمد نوید، نعمان بٹ، عدیل اختر، رضوان چودھری، ایاز ابڑو اور زنیر شاہ کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ درج کروا دیا جس میں سما ایف ایم کے چیف آپریٹنگ افسر کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ واضح رہے کہ سما ایف ایم کے چیف آپریٹنگ آفیسر فہد ہارون اس وقت وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے اطلاعات تعینات ہیں۔ وہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے رکن بھی ہیں۔ ان پر جنسی ہراسانی میں ملوث ہونے کا ذاتی طور پر الزام نہیں ہے لیکن وہ اس مقدمے میں کمپنی کے نمائندے اور اہم گواہ کے طور پر پیش بھی ہوئے اور جرح کا سامنا بھی کیا۔ تحریک کی یہ شکایت کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف ایکٹ 2010 کے تحت صوبائی محتسب کی عدالت میں درج کی گئی اور یوں دو سال کا ایک کٹھن سفر شروع ہوا جس کے دوران تحریم کو کئی بار یہ سب اور بہت کچھ کمرۂ عدالت میں دہرانا پڑا۔ یہ سب کچھ انکے لیے بہت تکلیف دہ تھا مگر بالآخر اس سفر نے ختم ہونا تھا۔ تین ماہ میں مکمل ہونے والے مقدمے نے وکلا کی بار بار عدم حاضری کے باعث اس قدر طول پکڑا کہ آخرکار انھیں مقدمہ خود اپنے ہاتھ میں لینا پڑا۔ تحریم کے لیے اس مقدمے کی سماعتوں کے دوران ایک مشکل دن وہ تھا جب انھیں علم ہوا کہ انھی کے دفتر کی دو خواتین ان کے خلاف گواہی دیں گی۔ تاہم تحریم یہ بھی جانتی تھیں کہ ہراسانی کے کسی بھی مقدمے میں شکایت کنندہ کی کردار کشی ایک عام سی بات ہے اور ہراساں کرنے والے شخص کے کردار کی گواہی دینے والے ساتھیوں کا سامنے آنا بھی ہرگز غیر معمولی نہیں۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ عدالت بھی ایسے ہتھکنڈوں کو سمجھتی ہے اور عام طور پر جھوٹی گواہیاں اور کردار کشی جرح کے وقت خاک میں مل جاتی ہیں۔ انھیں اپنی ساتھی خواتین کے بیانات پر افسوس تو تھا مگر یہ تسلی تھی کہ عدالت میں یہ قابلِ قبول نہیں ہوں گی اور ایسا ہی ہوا۔
عدالت میں جرح کے دوران ان خواتین گواہان نے تسلیم کیا کہ انھوں نے جس گواہی کی دستاویز پر دستخط کیے وہ انھوں نے خود نہیں لکھی تھی بلکہ دفتر کی جانب سے ان کے گھر دستخط کے لیے بھیجی گئی تھی۔ یوں عدالت نے ان کی گواہی کو رد کر دیا۔ ملزمان کی جانب سے سماعت کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ گالی دینا یا جملے کسنا جنسی ہراس کے زمرے میں نہیں آتا اور یہ بھی کہ تحریم اس سے قبل ایسے تمام واقعات پر خاموش رہی ہیں اور کبھی شکایت درج نہیں کرائی، اس لیے یہ کیس خارج کیا جائے۔تاہم ملزمان اپنی صفائی میں نہ تو کوئی ٹھوس ثبوت اور نہ ہی ایسے دلائل پیش کر کے جس سے ان کی بے گناہی ثابت ہو سکے۔ ان کی گواہیاں عدالت نے رد کر دیں جبکہ ایک ملزم کی مختلف مواقع پر غلط بیانی بھی سامنے لائی گئی۔ عدالت میں ادارے کے سی او او فہد ہارون نے اپنے بیان حلفی میں سی سی ٹی وی کیمرے کی موجودگی سے ہی انکار کر دیا تھا، تاہم جرح کے دوران انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کا بیان غلط تھا کیونکہ سٹوڈیو میں کیمرہ موجود ہے۔انتظامیہ کے سربراہ علی احترام نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے واقعے کی صبح سٹوڈیو میں نصب کیمرے چیک کیے تھے جو بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے تاہم یہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا جب انھوں نے دیکھا کہ واقعے کے دن سمیت نو دن کی فوٹیج غائب ہے۔ علی احترام نے تردید کی کہ انھوں نے شکایت کنندہ کو واقعے کے چند روز بعد فون پر یہ بتایا تھا کہ پاس ورڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر دی گئی ہے تاہم تحریم کی جانب سے فون کالز کی ریکارڈنگ بطور ثبوت پیش کیے جانے کے بعد انھوں نے ان تمام الزامات کو تسلیم کر لیا۔عدالت میں دیگر تمام ملزمان نے بھی بالآخر اعترافِ جرم کیا۔
مقدمے کے فیصلے کی دستاویز میں دیگر اہم نکات میں سے ایک اہم وضاحت کی گئی ہے کہ ہراسانی کا مقدمہ دائر کرنے میں تاخیر کو وجہ بنا کر کسی کو ہراساں کرنے والے شحص کو بری نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ملزمان کی جانب سے تحریم کے خلاف استعمال کیے گے تمام الفاظ اور جملوں کو متعصبانہ، غیر اخلاقی، گالی اور جنسی بنیادوں پر ادا کیے گئے جملے قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان جملوں نے شکایت کنندہ کی عزت نفس اور ان کے وقار کو مجروح کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ الزامات مکمل طور پر سچ نہ ہوں تو کسی بھی خوددار اور عزت دار خاتون کے یہ تصور بھی محال ہے کہ وہ اپنی ذات سے جڑے ایسے جملے عدالت کے سامنے دہرائے۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ خواتین کے خلاف معاشرے میں موجود تعصب انھیں مقدمہ درج کرنے سے روکتا ہے۔اس لیے خواتین خاموشی اختیار کرتی ہیں کہ کہیں ان کی عزت، نوکری اور مستقبل ہی داؤ پر نہ لگ جائیں۔دو سال بعد بالآخر تحریم کا مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے ان کا موقف تسلیم کرتے ہوئے تمام ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
تحریم چاہتی تھیں کہ جب یہ تھکا دینے والی جنگ ختم ہو تو ان کے پاس ان کے اپنے موجود ہوں، اس لیے وہ فیصلہ سننے کے لیے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عدالت آئی تھیں۔ فیصلہ سنتے وقت ان کی انکھوں میں آنسو تھے اور وہ سوچ رہی ہیں کہ ان دو برس نے ان کی زندگی کیسے بدل دی۔ تحریم اب بیروزگار ہیں لیکن فی الحال ان کی زندگی میں عدالت کے چکر ختم نہیں ہوئے کیونکہ اب وہ سندھ ہائی کورٹ میں ہتک عزت کے اس مقدمے کی سماعت میں دلائل کی تیاری کر رہی ہیں جو سما ایف ایم نے ان کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button