جنوبی وزیرستان میں ‘اچھے طالبان’ کی پشت پر کون ہے؟

جنوبی وزیرستان میں پارلیمانی جدوجہد پر یقین رکھنے والی پختون قوم پرست جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کی سیاسی طاقت کچلنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے دہشت گردوں کے ایک گروپ کو گڈ طالبان قرار دے کر ان کی حمایت شروع کر رکھی ہے جس کے باعث وہ پی ٹی ایم کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں جس سے علاقے میں امن وامان کی صورتحال دن بدن مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔
حالیہ دنوں جنوبی وزیرستان کے مرکز وانا میں گڈ طالبان کے ہاتھوں پی ٹی ایم کے سرگرم رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کےکزن عارف وزیر کے قتل کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ اور شدت پسند طالبان ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وانا میں ان کے اصل دُشمن گڈ طالبان ہیں جن کی علاقے میں کھلم کھلا واپسی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر ممکن نہیں تھی اور جسے پی ٹی ایم کے رہنماوں کو ہدف بنا کر مارنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پی ٹی ایم کا دعویٰ ہے کہ وانا میں واپسی کے بعد اچھے طالبان اپنا ایک بڑا مرکز اور مختلف علاقوں میں چار دیگر دفاتر قائم کر چکے ہیں۔طالبان ان مراکز سے نہ صرف پی ٹی ایم کے خلاف کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں بلکہ عام شہری بھی ان مراکز سے متاثر ہو رہے ہیں۔ پی ٹی ایم والوں کا کہنا ہے کہ اگر علاقے میں امن قائم کرنا ہے تو اچھے طالبان کے روپ میں موجود دہشت گردوں کے ان تمام دفاتر کو ختم کرنا ہوگا۔
قبائلی علاقوں کی سیاسی حرکات پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ آج سے چند سال قبل ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے یہاں ریاست دشمن طالبان کو کاؤنٹر کرنے کے لئے ایک غیر سیاسی تحریک یعنی پی ٹی ایم کو پروموٹ کیا، پشتون نوجوانوں پر مشتمل اس متحرک پشتون جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کا بھرپور ساتھ دیا جس کے نتیجے میں طالبان پسپا ہوکر یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے لیکن دو سال قبل جب پی ٹی ایم نے اسٹیبلشمنٹ کا مزید بغل بچہ بننے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے اور پشتونوں کو حقوق دلوانے کے لئے آنکھیں دکھانا شروع کیں تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی بڑا یوٹرن لیا اور گڈ طالبان کو دوبارہ یہاں لاکر انہیں پی ٹی ایم سے لڑوانا شروع کردیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کراچی میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کے بعد پختون تحفظ مومنٹ نے سر اٹھایا اور ساتھ ہی وانا میں عام شہریوں نےبھی طالبان کے خلاف جلسوں اور سوشل میڈیا پر بات کرنا شروع کر دی تھی۔ دو جون 2018 کو وانا سکاؤٹس کیمپ کے سامنے پختون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں ایم این اے علی وزیر نے گڈ طالبان کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ وانا میں مزید لمبے بال والے نہیں چلیں گے جس کے نتیجے میں پی ٹی ایم مسلسل زیر عتاب ہے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کی وجہ سے گڈ طالبان ان پر حاوی ہوتے جارہے ہیں۔
خیال رہے کہ سات برس قبل 45 سالہ مولوی نذیر احمد جنوبی وزیرستان میں گڈ طالبان کے مقامی کمانڈر تھے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ یہ کہہ کر انہیں لاجسٹک سپورٹ مہیا کرتی تھی کہ یہ ریاست دشمن افغان طالبان کے خلاف برسر پیکار ہیں لہذا یہ ریاست کا اثاثہ ہیں۔ گڈ طالبان کہلانے والے اس گروپ نے دیگر طالبان گروہوں کو ختم کرنے میں بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا تھا۔ تاہم 2013 میں مولوی نذیر ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی قریب میں جب طالبان آوٹ آف کنٹرول ہوئے تو پی ٹی ایم کے ذریعے انہیں سبق سکھایا گیا۔ خیال رہے کہ مولوی نذیر کی ہلاکت کے بعد ان کے چار کمانڈروں بہاول خان المعروف صلاح الدین ایوبی، عین اللہ، ملنگ اور تاج نے اپنے اپنے گروپس منظم کیے اور وانا سب ڈویژن کو بھی چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔ وانا بازار میں ان چاروں کمانڈروں کے دفاتر کے علاوہ ہر ایک کے علاقے میں تربیتی مراکز بھی موجود ہیں۔سب سے بڑا مرکز بہاول خان ایوبی کا ہے جو تقریباً 12 سو کنال رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جو موسی قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مرکز وانا سکاؤٹس کیمپ سے جنوب کی جانب صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس میں ایک عالیشان بنگلہ، سیب، آڑوں اور خوبانی کے باغات ہیں۔ اس کے ایک حصے پر ہر ایک کمانڈر کو کنٹرول حاصل ہے۔ اس کے علاوہ تحصیل خان کا ایک گروپ تحصیل شکائی میں موجود ہے جس کو اپنے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ خان گروپ کا ایک دفتر ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی موجود ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وانا میں گڈ طالبان اور پی ٹی ایم کی صورت میں دو قوتیں آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ ایک قوت کے پاس بندوق ہے اور دوسری قوت کے پاس نعرے ہیں۔ اب پتہ چلے گا کہ بندوق والے بازی ماریں گے یا نعرے لگانے والے جیتیں گے مگر لوگوں کو یہ تشویش ضرور ہے کہ بندوق والوں کے پیچھے ایک اور بندوق کی طاقت موجود ہے جس کے سامنے نعروں کی طاقت بے بس نظر آ رہی ہے۔ پھر بھی ان کو اُمید ہے کہ گولی سے نعروں کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ ہوسکتا ہے کہ اگر مزید گولیاں چلیں تو ہر جگہ سے نعرے بلند ہونا شروع ہو جائیں گے یعنی جب چپ رہے گی زبان خنجر تو لہو پکارے گا آستین کا۔
