جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ پر کنفیوژڈ بزدار کا ایک اور یوٹرن


شدید تنقید کے بعد پنجاب کی بزدار سرکار نے ایک اور یوٹرن لیتے ہوئے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ ختم کرنے کے نوٹی فکیشن کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے جنوبی پنجاب کے رولز آف بزنس اور دیگر قواعد میں ترمیم کرنے والا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 29 مارچ کو جنوبی پنجاب کے سیکریٹریٹ کے بارے میں نوٹی فکیشن واپس لینے کے بعد بارے میں گورنر چوہدری سرور نے فوراً تردید کی تھی کہ ان کے سیکرٹریٹ نے اس طرح کا کوئی نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔ اس دوران کنفیوژن برقرار رہی جس کے بعد وزیر اعلی عثمان بزدار کے ہمراہ وفاقی وزیر خسرو بختیار نے میڈیا کو بریفنگ دی اور اعلان کیا کہ دونوں نوٹی فیکیشن کو واپس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 29 مارچ کے نوٹی فکیشن، جس میں جنوبی پنجاب کے سیکرٹریٹ کو ختم کرنے کا تاثر تھا، وہ دراصل ‘تکنیکی اور انسانی غلطی’ تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کارروائی کی ہے اور کوآرڈی نیشن کے سیکریٹری مختار مسعود کو سزا دیتے ہوئے او ایس ڈی بنا دیا ہے۔
حالیہ دنوں سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر خوب بحث ہوئی کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دور اقتدار کا سب سے بڑا یوٹرن لیتے ہوئے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو بند گلی میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ یہ سب سے بڑا یوٹرن ایسے وقت پر لیا گیا جب پیپلز پارٹی تقریباً 5 دہائیوں بعد پنجاب میں عمومی طور پر اور جنوبی پنجاب میں خصوصی طور پر ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنی جگہ بناتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ ناقدین کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اس فیصلے سے حکومت نے وہ شاخ ہی کاٹ دی جس پر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم پر کامیاب ہونے والوں نے مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومتیں بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔
یاد رہے کہ جب 2018 کے عام انتخابت سے چند ماہ قبل جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قیام کا اعلان ہوا تو پی ٹی آئی کے حق میں اتنی تیزی سے رائے ہموار ہوئی کہ جنوبی پنجاب کے مرکز ملتان کی تمام قومی نشستیں پی ٹی آئی نے جیتیں۔ حتیٰ کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ گو کہ پی ٹی آئی حکومت الیکشن میں کیا گیا جنوبی پنجاب کے 11 اضلاع پر مشتمل صوبہ بنانے کے لئے کوئی عملی اقدام نہ اٹھا سکی کیونکہ اسے ایوان میں آئینی اکثریت حاصل نہ تھی۔ چنانچہ اشک شوئی کیلئے جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان اور نوٹیفکیشن جاری ہوا تو اس خطے کے ورکروں نے سکون کا سانس لیا۔یہ جنوبی پنجاب کے ہی ووٹر تھے جن کی بدولت پی ٹی آئی کی حکومتیں مرکز اور صوبے میں بنیں۔ اپنے اقتدار کے 3 سال تک پی ٹی آئی حکومت علیحدہ سیکرٹریٹ کے حوالے سے ثابت قدم نظر آ رہی تھی اور انہوں نے علیحدہ سیکرٹریٹ کے لئے پورا سٹاف بھی بھرتی کر لیا تھا مگر نوٹیفکیشن منسوخ کئے جانے کی خبر سامنے آئی تو حکومت اور جنوبی پنجاب کے عوام میں فاصلے بڑھنا شروع ہوئے جسے پاٹنے کے لئے بزدار سرکار نے روایتی انداز میں ایک اور یوٹرن لے لیا اور جنوبی پنجاب کے سیکرٹریٹ کو ختم کرنے کے نوٹیفیکیشن کو تکنیکی اور انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے واپس لے لیا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے منشور میں بھی جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا عہد کیا گیا ہے۔ حکومت نے انتظامی طور پر اس صوبے کو تین ڈویژنوں ملتان، بہاولپور اور ڈی جی کو الگ کردیا تھا۔ عثمان بزدار نے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی سطح پر تمام صوبائی محکموں کو تبدیل کرنے پر غور کررہی ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جوان بخت کی سربراہی میں وزارتی کمیٹی سیکریٹریٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے علاوہ اس معاملے کے بارے میں 7 دن کے اندر سفارشات پیش کرے گی۔اس سے قبل پنجاب حکومت جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ سے 16 میں سے 5 محکموں ایس اینڈ جی اے ڈی، پی اینڈ ڈی، فنانس، لا اور ہوم ہٹانے پر غور کر رہی تھی کیونکہ ان میں عوامی سطح پر کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔جس کے بعد فنانس اور پی اینڈ ڈی محکمے کے حوالے سے بیوروکریسی نے یہ سوال اٹھایا کہ ایک صوبائی اکاؤنٹ کو 2 مختلف منیجر کیسے چلا سکتے ہیں۔ تاہم وزیراعلیٰ کی نئی ہدایت نہ صرف ان پانچوں محکموں کو برقرار رکھے گی بلکہ مزید محکمے جنوبی پنجاب کے سیکریٹریٹ میں جاسکتے ہیں۔عثمان بزدار نے کہا کہ موجودہ حکومت جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ مرکوز کررہی ہے اور اس نے سابقہ حکومت کے جنوبی پنجاب کے بجٹ کو بڑھا کر 33 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بننا ہے کہ جنوبی پنجاب میں تمام فنڈز بغیر کسی خوف کے دوبارہ استعمال کیے جا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button