جنگ بندی معاہدے کے بعد نیتن یاہو کی حماس پر الزام تراشی

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس آخری وقت میں معاہدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی کابینہ کو آج اس معاہدے کی منظوری دینی تھی مگر اب تک اسرائیلی کابینہ نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری نہیں دی۔تفصیلات کےمطابق جنگ بندی معاہدے کیلئے آج ہونے والی اسرائیلی کابینہ کی میٹنگ بھی اب تک نہیں ہوسکی ۔

 حماس کے ایک رہنما نےغیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس جنگ بندی سے متعلق اپنی باتوں پر قائم ہے۔

 واضح رہے جنگ بندی اعلان کے بعد اسرائیلی حکومتی اتحاد میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے اور اسرایلی وزیراعظم نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔

غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے میں نیتن یاہو کی حیران کن لچک سے اسرائیل کے دائیں بازو کے حلقوں کو پریشانی لاحق ہوگئی تھی۔

یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ امریکاکے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ  کیلئے نمائندے اسٹیون وٹکوف کے نیتن یاہو پر براہ راست دباؤ کے بعد ممکن ہوا۔

دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی معاہدےکے باوجود اسرائیلی حملے تاحال جاری ہیں اور سیز فائر اعلان کے بعد اب تک اسرائیلی حملوں میں 70 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

Back to top button