جوتے چھوڑ کر بھاگنے والے جج ہمیشہ گالیاں ہی کھاتے رہیں گے؟

آج تاریخ دو مناظر دیکھ رہی ہے۔ ایک منظر میں وہ دو جج ہیں جو احتساب کی پہلی انگڑائی پر ہی جوتیاں چھوڑ کر بھاگ گئے اور دوسرے منظر میں دو ایسے ججز کے نام سنہری الفاظ میں چمک رہے ہیں جنہوں نے ظلم کے ضابطوں کے خلاف ڈٹ جانے کی روش اپنائی۔ تاریخ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ہمیشہ سلام پیش کرے گی۔ اور احتساب سے فرار ہوکر مستعفی ہونے والے مظاہر علی اکبر نقوی اور اعجاز الاحسن کو تاریخ جس نام سے پکارے گی وہ ایک گالی ھے جسے سر عام لکھا اور بولا بھی نہیں جاسکتا ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسعود نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے وہ لکھتے ہیں کہ
حالات کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کبھی کٹھن ہوتے ہیں، کبھی آسان ہوتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں انسان کی اصلیت کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ کس خمیر کا بنا ہوا ہے۔ اس سے کیا کام لینا مقصود ہے۔ اچانک ہی سپریم کورٹ میں تہلکہ مچ گیا۔ ایک نہیں دو، دو ججز کے استعفوں کی خبریں آنے لگیں۔ یوں لگا آسمان گر پڑا ہو۔ زمیں پھٹ پڑی ہو۔ ہائی برڈ نظام کی آخری اینٹ بھی دیوار سے ڈھے گئی ہو۔ مظاہرعلی نقوی کے استعفٰی کا تو امکان نظر آتا تھا مگر اعجاز الحسن کے استعفے نے تو کمال ہی کر دیا، ساری بساط ہی الٹ گئی۔ دو سال کی ہی نہیں دہائیوں کی محنت برباد ہوگئی۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ کوئی پوچھے تو سہی اچانک ایسے استعفے کیوں دیئے گئے؟ کیا خوف مانع تھا؟ کیا خدشات لاحق تھے؟ کیا احتساب کا ڈر تھا؟ کیا انتقام کا خوف تھا؟ کیا کرتوت سامنے آنے کا اندیشہ تھا؟ کیا اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے سے ڈر رہے تھے؟ کیا اپنے عبرتناک عہد کے زوال کو دیکھنے سے خوفزدہ تھے؟ استعفٰی دے دینا تو کوئی بہادری نہیں تھی؟ جوتے چھوڑ کر بھاگ جانا تو کوئی دلیری نہیں تھی؟ ان میں سے ایک جج تو وہی ہیں جو ’ٹرکوں والے جج‘ کے نام سے بدنام ہیں، جو وکیل بدلنے پر فیصلہ بدل دیا کرتے تھے؟ جو پرویز الٰہی کی طرف سے’ٹرکوں‘ کے منتظر رہا کرتے تھے؟ جو بدنام ہی نہیں بدنام زمانہ تھے۔ جنہوں نے ادارے کی ساکھ کو بٹہ لگایا، تجوریاں بھریں، مال کمایا اور جی بھر کر کمایا۔ جنہوں نے انصاف کے نام پر ایک دکان کھولی اور اس پر سستا اور ارزاں سودا بیچا۔ ہر چیز کو اپنے ضمیر سمیت فروخت کیا۔
دوسرے وہ ہیں جو تین کے ٹولےکا لازمی حصہ تھے، جو پانامہ میں مانیٹرنگ جج بھی رہے۔ جو متنازعہ اور غیر آئینی فیصلوں میں پیش پیش رہے۔ جو بندیال اور ثاقب نثار کی آنکھ کا تارا اور انصاف کی آنکھ میں کسی نجس جانور کے بال کی طرح رہے۔ جنہوں نے اپنے فیصلوں سے کبھی آئین کو دوبارہ تحریر کیا، کبھی پارلیمان کے کاموں میں مداخلت کی۔ خود کو آئین، قانون اور پارلیمان سے برتر سمجھا۔ سیاسی جماعتوں سے انتقام میں مشغول رہے۔ نواز شریف کو سزا دینا ان کا نصب العین ٹھیرا تھا۔ اس میں کامیاب بھی ہوئے لیکن ان کی کامیابی وقتی ثابت ہوئی۔اس وقت یہ دونوں جج زیرعتاب ہیں۔ مظاہرعلی نقوی نے پہلے ہی ہلے میں احتساب سے بچنے کے لیے استعفی دے دیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ احتساب بھی نہ ہو اور پنشن و دیگر مراعات بھی قائم رہیں۔
اعجاز الاحسن نے بظاہر احتجاجاً استعفی دیا لیکن اپنی پنشن وہ بھی بچا گئے اور مراعات بھی۔ احتساب اور قانون کا سامنا ان دونوں میں سے کسی نے نہیں کیا حالانکہ ساری عمر اسی قانون کے تحت دوسروی کی زندگیاں اور تجوریوں اجاڑتے رہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب آتے ہیں دو مختلف مثالوں کی طرف، دیکھنے کی بات ہے کہ ان کے اوپر عتاب ٹوٹا تو انہوں نے کیا رویہ اختیار کیا؟ انصاف کا ساتھ دیا یا دوڑ لگا دی؟ قانون کا سامنا کیا یا راہ فرار اختیار کی؟ انصاف کی پاسبانی کی یا تحریک انصاف کی نگہبانی کی؟ خود پر لگنے والے الزامات کا دلیری سے سامنا کیا یا پھر بزدلی اختیار کی؟ یہ بہت دلچسپ موازنہ ہے۔
ابھی جو کچھ سپریم کورٹ میں ہو رہا ہے، یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ جو کچھ عمران و فیض کے دور میں ہوا ۔ جب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو نوکری سے برطرف کیا گیا، ان کے لیے روزگار کے سب دروازے بند کیے گئے، ان کے گھر والوں کو ڈرایا دھمکایا گیا، ان کی صاحبزادی کو اغوا کی دھمکی دی گئی۔ ان کا خوفناک میڈیا ٹرائل کیا گیا،ان کو اور ان کے خاندان کو گالیاں دی گئیں۔
شوکت عزیز صدیقی کو اپنی مشہور زمانہ تقریر سے پہلے اس ردعمل کا بخوبی اندازہ تھا۔ وہ چاہتے تو جنرل فیض کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر اس وقت استعفیٰ دے کر پنشن بھی لیتے اور مراعات بھی لیکن انہوں نے جنرل فیض کے جبر و استبداد کے خلاف ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ سب کچھ گنوا دیا مگر عزت کما لی۔ اور تاریخ میں جگہ بنا لی۔
عمار مسعود کے مطابق دوسرے جج ہیں قاضی فائز عیسٰی، جن کے خلاف عمران خان کے دور میں محلاتی سازش کا جال بچھایا گیا۔ عمران خان اس سازش کے سربراہ تھے، فروغ نسیم اس کے موجد تھے۔ خفیہ ہاتھ اس کے نگہبان تھے۔
فیصلہ یہ ہوا تھا کہ قائد اعظم کی ہم رکاب قابل صد احترام شخصیت کے صاحبزادے پر وہ کیچڑ اچھالا جائے کہ وہ خود میدان چھوڑ کر بھاگ جائے لیکن چشم فلک نے دیکھا، جسٹس فائز عیسٰی کے خلاف میڈیا ٹرائل ہوا، ان کی بزرگ اہلیہ کو پیشیوں میں گھسیٹا گیا، ان پر بہتان لگائے گئے لیکن انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ خود اپنا دفاع کیا۔ جبر و استبداد کے دور میں سے نتھر کے سامنے آ گئے۔ تاریخ ان دو ججز کو ہمیشہ سلام پیش کرے گی۔ اور احتساب سے فرار ہوکر مستعفی ہونے والے دو ججوں کے لئے تاریخ میں گا لیاں ہی لکھی ہیں۔
