جولائی میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر آنے کی وارننگ

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران ہلاکتوں کی یومیہ تعداد اپنی نچلی ترین سطح پر تو آ گئی ہے لیکن اب طبی ماہرین نے خبردار کیا یے کہ مون سون شروع ہوتے ہی جولائی کے مہینے میں اس عالمی وبا کی چوتھی تیز لہر پاکستان پہنچنے کا واضح امکان پیدا ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کرونا کی عالمی وبا کی تیسری لہر کے دوران بھی ہزاروں شہریوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں، تاہم اب یومیہ بنیادوں پر اموات کی تعداد صرف کافی کم ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ یہ پورے ملک میں گزشتہ نومبر سے اب تک ریکارڈ کی جانے والے ہلاکتوں کی کم ترین یومیہ تعداد 20 ہے جو 30 جون کو ریکارڈ کی گئی۔ لیکن اگلے ایک ہفتے میں اس تعداد میں کمی کی بجائے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں اس وبا کی وجہ سے اب تک 22 ہزار 231 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کرونا وائرس کے انفیکشنز کی رجسٹرڈ تعداد نو لاکھ 55 ہزار 657 ہو چکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد لاکھوں میں جا چکی ہے اور وہاں پاکستان کے مقابلے میں حالات بہت زیادہ برے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون فیصل سلطان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جولائی میں کرونا کی چوتھی لہر کے خدشات موجود ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہ ایک پُر خطر اور تشویش ناک رجحان ہے کہ عام شہری اب اپنے چہروں پر حفاظتی ماسک نہیں پہن رہے۔ بظاہر تو صورت حال اس وقت قابو میں ہے، مگر ہمیں اگلے ماہ اس وبا کی چوتھی لہر کا سامنا ہو گا اور اگر احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر فراموش کر دیا گیا تو چوتھی لہر تیزی سے پھیل کر بہت زیادہ نقصان کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جولائی میں کرونا وبا کی چوتھی لہر آنے کی ایک وجہ تو نمی سے بھرپور مون سون کا موسم ہو گا اور دوسری وجہ بڑی عید کا تہوار ہو گا جس دوران بہت گہما گہمی دیکھنے میں آتی ہے اور ملک بھر میں قربانی کے جانوروں کی ہزاروں منڈیاں بھی لگائی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ملک میں کرونا کی تیسری لہر کا آغاز بھی چھوٹی عید سے ہوا تھا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی فیصل سلطان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے وقت حفاظتی ماسک پہنیں اور جلد از جلد کورونا کے خلاف حفاظتی ٹیکے بھی لگوائیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن مہم میں کچھ عرصہ قبل ویکسین کی کمیابی کی وجہ سے کافی سست روی دیکھی گئی تھی۔ لیکن اب عوامی ویکسینیشن مہم میں دوبارہ تیزی آ چکی ہے۔ وفاقی وزارت صحت کے مطابق اب تک پاکستان میں 14.7 ملین سے زائد شہریوں کو کرونا ویکسین کا کم از کم ایک ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ پاکستان میں بیرون ملک کام کرنے والے ایسے شہریوں کی طرف سے احتجاج کی رپورٹیں بھی ملی ہیں، جو پاکستان آئے ہوئے ہیں مگر اب تک ویکسین نہ لگنے کی وجہ سے واپس نہیں جا سکے۔ تارکین وطن کے طور پر بیرونی دنیا میں کام کرنے والے ان پاکستانی شہریوں کے احتجاج کی وجہ ملک میں بائیو این ٹیک فائزر اور ایسٹرا زینیکا ویکسین کی کمیابی بنی۔ یہی وہ دو ویکسینز ہیں، جن کے بارے میں مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کا مطالبہ ہے کہ واپس لوٹنے والے تارکین وطن کارکنوں نے انہی میں سے کوئی ویکسین لگوائی ہوئی ہو۔
پاکستان میں عام شہریوں کی اکثریت کو اب تک زیادہ تر چینی ساختہ سائنو فارم، کین سائنو بائیو یا سائنو ویک نامی ویکسینز لگائی گئی ہیں۔ مگر یہ وہ ویکسینز ہیں، جنہیں مشرق وسطیٰ کی ریاستیں اور مغربی ممالک اپنے ہاں آنے والے مسافروں کی مناسب ویکسینیشن کے ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کرتیں۔
