جونئیر جج کو سپریم کورٹ بھیجنے پر بار کی ہڑتال

وکلا کی ملک گیر تنظیم پاکستان بار کونسل نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک پانچویں نمبر کے ’جونیئر جج‘ کو سپریم کورٹ کا جج لگانے کی نئی کوشش کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کے خلاف 28 جولائی کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے جلد بازی میں بلائے گئے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر غور کیا گیا۔بار کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جونئیر جج جسٹس محمد علی مظہر کو سپریم کورٹ کا جج لگانے پر ازسر نو غور کے لیے جوڈیشل کمیشن کے جلد بازی میں بلائے گئے اجلاس پر بار کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے تحفظات کا اظہار کیا۔پاکستان بار کونسل کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کے نام پر غور کے لیے 15 دنوں میں جوڈیشل کمیشن کا دوسرا اجلاس بلایا گیا ہے۔ اس سے قبل 13 جولائی کو بلائے گئے اجلاس میں بار کونسل کی مخالفت کے بعدیہ معاملہ موخر کر دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل نے گذشتہ اجلاس کے موقع پر بھی جسٹس محمد علی مظہر کے نام پر غور کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ بار کونسل نے کہا ہے کہ چار سینیئر ججز کو نظرانداز کر کے جونیئر جج کو ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں لانے پر وکلا برادری کو سخت تحفظات ہیں۔ پاکستان بار کونسل نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے اس بیان کی بھی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ججز کو سپریم کورٹ میں لانے کے لیے سینیارٹی کے اصول کو احمقانہ قرار دیا تھا۔ دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر ہڑتال کی کال کی دی گئی ہے۔
خیال رہے سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ سے ججز کی تعیناتیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی تحفظات کا اظہار کر رکھا ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سندھ ہائی کورٹ سے ایک ’جونیئر جج‘ کی عدالت عظمیٰ میں تقرری کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ واضح رہے سپریم کورٹ کے ججز جسٹس فیصل عرب اور جسٹس منظور ملک کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدالت عظمیٰ میں ججز کی دو آسامیاں خالی ہیں۔ ان میں سے ایک پر جج کی تعیناتی ہو چکی ہے جبکہ دوسری پر تعیناتی کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے پانچویں نمبر کے جونیئر جسٹس مظہر کے نام پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ انکی سفارش اسٹیلشمینٹ کی جانب سے کی گئی ہے تاکہ سپریم کورٹ میں باضمیر ججوں کا زور توڑا جا سکے۔
