جھاڑیوں میں پھینکے جانے کے بعد میں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا


اسلام آباد سے نامعلوم افراد کے ہاتھوں دن دیہاڑے اغوا ہوکر رہائی پانے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اغوا کار وہی لوگ ہیں جو پاکستان میں جمہوریت، آئین اور نظام کے مخالف ہیں اور جو شروع دن سے آئین پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔
21 جولائی کو اسلام آباد سے اغوا ہونے والے مطیع اللہ جان نے اسلام آباد پولیس کو بیان ریکارڈ کروانے کے بعد یوٹیوب پر اپنا ویڈیو بیان بھی جاری کیا ہے جس میں انھوں نے بتایا ہے کے اغوا کے کئی گھنٹے بعد جب اغوا کاروں نے انہیں کار سے نکال کر جھاڑیوں میں پھینکا تو انہیں ایسا لگا کہ اب انہیں قتل کر دیا جائے گا لہذا انہوں نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔
مطیع اللہ جان نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا ہے کہ انھیں اسلام آباد کے ایک سرکاری سکول کے باہر سے اغوا کرنے والے باوردی افراد نے زبردستی انہیں انکی گاڑی سے گھسیٹ کر ویگو یا ڈبل کیبن گاڑی میں پھینکا اور گاڑی دوڑا دی۔ ان لوگوں نے میری گردن دبوچ کر منہ نیچے کی طرف کر دیا اور زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔
مطیع اللہ جان کے دعوے کے مطابق ’اغوا کار پولیس کی وردیاں پہنے چار سے پانچ گاڑیوں میں آئے، جن میں سے کچھ افراد مسلح تھے۔‘ ان کے مطابق انھوں نے اہلیہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنا موبائل سکول کے اندر پھینک دیا۔ مطیع اللہ نے دعویٰ کیا کہ جب انھیں گاڑی میں زدوکوب کیا جا رہا تھا تو ساتھ پولیس کی وردی میں ملبوس مسلح افراد یہ بھی کہتے تھے کہ ’تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو، تم صحافی ہو، تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو۔‘
مطیع اللہ جان کے مطابق انھیں ایک ایسی جگہ لے جایا گیا جو بظاہر کوئی پولیس سٹیشن معلوم ہوتی تھی۔ وہاں انھیں جب واش روم جانے کی اجازت ملی تو انھیں ’دیواروں پر پولیس کا خاص رنگ نظر آیا‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں سیمنٹ کے فرش پر لٹا کر زد وکوب کیا گیا اور انکے اغوا کار انھیں ان کے بچوں کا نام لے کر دھمکیاں دیتے رہے۔ جب وہ چیختے چلاتے کہ انھیں سانس کا مسئلہ ہے تو پھر انھیں مزید زدوکوب کیا جاتا تھا۔ انکے منہ پر کس کے ٹیپ باندھ دی گئی، جس سے ان کا سانس گھٹنا شروع ہوگیا۔ مطیع اللہ جان کے مطابق انکی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی تو مانگنے پر انکو پانی دیا گیا۔
باغی صحافی کے مطابق انھوں نے اغوا کاروں کو ایک روز بعد سپریم کورٹ کی پیشی کا بھی بتایا جہاں انہیں چیف جسٹس نے بلا رکھا تھا لیکن اغوا کاروں نے صرف یہ کہا کہ ’تم سمجھ دار ہو، اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھتے ہو، ویسے تو تم بڑی بڑی باتیں کرتے ہو، پھر ہم سے کیا پوچھتے ہو؟‘
مطیع اللہ جان کے دعوے کے مطابق اغوا کار صحیح پشتو نہیں بول رہے تھے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ پٹھان ہیں۔ انھیں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے انھیں پشاور یا افغانستان لے جایا جا رہا ہے۔ مطیع اللہ جان کے مطابق انھیں بالآخر سارا دن گزارنے کے بعد اغوا کاروں نے رات کے وقت ایک جگہ جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا اور ان کے سر پر زور سے کوئی چیز ماری گئی۔ مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ انھوں نے تاثر دیا کہ جیسے وہ بیہوش ہو گئے ہیں۔ اس وقت اغوا کاروں نے میرے منہ پر پانی پھینکا تو ’میں نے آنکھیں کھولیں‘۔ مطیع اللہ کا کہنا ہے کہ جھاڑیوں میں پھینکے جانے کے بعد انھیں خوف محسوس ہوا کہ اب انھیں قتل کر دیا جائے گا، چنانچہ ’میں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس موقع پر اغواکاروں نے پہلی مرتبہ پشتو میں ان سے انکا نام پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ صحافی مطیع اللہ جان ہیں۔ پھر ایک دوسرے اغوا کار نے پوچھا ’کیا آپ زرق خان نہیں ہیں‘، اغوا کاروں نے پھر آپس میں کہا کہ یہ غلط بندہ ہے۔ مطیع اللہ جان کے مطابق اس وقت انھیں امید پیدا ہوئی کہ اب ان کی جان بخشی ہو جائے گی۔۔لیکن مطیع نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں اغوا کرنے والے وہی لوگ ہیں جو پاکستان میں جمہوریت، آئین اور نظام کے مخالف ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو شروع دن سے آئین کے خلاف سازشیں کرتے آ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button