جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو

عدالت میں رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمدگی کی ویڈیو پیش کرنے میں ناکامی کے بعد تنقید کا شکار وزیر مملکت برائے نارکوٹکس کنٹرول شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ ان پر اللہ تعالی کی لعنت ہو اور انہیں مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہو اگر رانا ثنااللہ کے خلاف بنایا گیا کیس جھوٹا ہو۔
انہوں نے مذید کہا کہ رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمدگی کے ویڈیو ثبوت وہ کیس کا ٹرائل شروع ہونے پر عدالت میں پیش کریں گے۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ رانا ثناءاللہ کے کیس کا ابھی تک ٹرائل ہی شروع نہیں ہوا تو ثبوت کس کو دیں۔ جب ٹرائل شروع ہوگا تو ویڈیو سمیت ایک ایک ثبوت عدالت میں پیش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کے سامنے پیش کرکے ثبوت خراب نہیں کرنا چاہتے، ٹرائل شروع ہونے سے پہلے اینکرز کو جج اور جیوری کا کردار ادا کرنے کی بجائے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اے این ایف کا کنویکشن ریٹ 98 فیصد ہے اے این ایف بغیر ٹھوس شواہد کے کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ اس لئے رانا ثناءاللہ کے کیس میں ٹرائل شروع ہونے کا انتظار کیا جائے تمام چیزیں سامنے آجائیں گی۔
شہریار آفریدی نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ حکومت کا یہ مقصد نہیں کہ بے گناہوں پر کیسز بنائیں، بھینسوں کی چوری کے مقدمات قائم کریں، اگر ایسا کریں توپھر ہم پرلعنت ہو، اگر میں نے رانا ثناءاللہ کے خلاف کچھ بھی ایسا کیا ہو، جس سے میں ایک بے گناہ کو ذلیل کروں، تو اللہ مجھے مرتے وقت کلمہ نصیب نہ کرے۔
دوسری طرف ماہر قانون و سابق صدر سپریم کورٹ بار رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ چالان پیش کرنے کے بعد پراسیکیوشن پر لازم ہوتا ہے کہ وہ فریمنگ آف چارج سے سات دن قبل تمام گواہ، ان کے 161 کے بیانات، تمام دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کرے قانون کے مطابق جب تک پراسیکیوشن عدالت میں ثبوت فراہم نہیں کرے گا اس وقت تک فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی، انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کیس جس میں ریکوری ہوچکی ہو اور صرف دو گواہ ہوں اس کیس کا تو 90 دن میں فیصلہ ہو جانا چاہیے لیکن رانا ثناءاللہ کیس میں پراسیکیوشن کی نااہلی اور کوتاہی کی وجہ ابھی تک عدالت میں ثبوت فراہم نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے نہ تو فرد جرم عائد کی جاسکی ہے اور نہ کیس کا ٹرائل شروع کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جن ثبوتوں کا اے این ایف نے ایف آئی آر یا انوسٹی گیشن آفیسر نے اپنی رپورٹ میں ذکر ہی نہیں کیا ان کو اے این ایف بعد میں عدالت کے روبرو پیش نہیں کر سکے گی اور ایسے ثبوتوں کو عدالت بھی قبول نہیں کرے گی۔
سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کو 96 دن ہوچکے ہیں اور عدالت میں ہونے والی 10 سماعتوں کے دوران اے این ایف ثبوتوں اور فوٹیجز کی موجودگی کے دعووں کے برعکس صرف نامکمل چالان پیش کرسکی ہے۔ حالانکہ رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے نارکوٹکس کنٹرول شہریار آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناءاللہ سے منشیات برآمدگی کی تمام فوٹیج اور ثبوت موجود ہیں اس لئے ان کے جسمانی ریمانڈ کی بھی ضرورت نہیں لیکن مسلسل دعووں کے باوجود عدالت میں ثبوتوں کی عدم فراہمی اور ایک واٹس ایپ پر رانا ثناءاللہ کا کیس سننے والے لاہور کی انسداد منشیات کے جج مسعود ارشد کے تبادلے پر رانا ثناءاللہ کے منصفانہ ٹرائل پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button