جہانگیر ترین کو اعظم خان ٹھوک رہا ہے یا عمران خان؟

شوگر سکینڈل میں رگڑا کھانے والے جہانگیر خان ترین مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور انکے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر ان کے اور عمران خان کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سوال بھی اہم یے کہ کیا ان دونوں کی اتنی جرات ہے کہ وہ وزیراعظم کی مرضی کے بغیر انکی سابقہ اے ٹی ایم کا رگڑا نکال دیں۔ دس اپریل کو لاہور کی بینکنگ کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترین نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف ایف آئی آرز ایک یو ایس بی میں اسلام آباد سے لاہور پہنچیں جس کے بعد ایف آئی اے نے انکے خلاف تین مقدمات درج کر لئے۔ ترین نے کہا کہ حکومتی ادارے میرے خلاف کیسز ضرور چلائیں لیکن کسی کے فون اور دباؤ پر ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم ترین نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے خلاف مقدمات درج کروانے کے لیے یو ایس بی کس نے بھجوائی اور فون پر دباؤ کون ڈال رہا ہے؟
دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کپتان کے سابق دست راست جہانگیر خان ترین کے خلاف اتنے سیریس مقدمات وزیراعظم عمران خان کی مرضی منظوری کے بغیر درج کیے جا رہے ہوں۔ سینئر صحافی حامد میر کا بھی یہی کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف مقدمات یقینا وزیراعظم کی مرضی سے درج کیے جا رہے ہیں کیونکہ وہ اب پاکستان میں اپوزیشن اور حکومتی لوگوں کے یکساں احتساب کا تاثر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ترین کے خلاف مقدمات کپتان کی مرضی سے درج کیے جارہے ہیں تو پھر ترین وزیراعظم کا نام کیوں نہیں لے رہے۔ ترین کے قریب ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات وزیراعظم کے ایما پر درج یوئے ہیں لیکن وہ ان کا نام لے کر تعلقات میں پڑنے والی دراڑ کو مزید گہرا نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترین خوب جانتے ہیں کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری یا ان کے مشیر برائے احتساب اپنے طور پر اتنا بڑا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لیکن ترین ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں اور آخری وقت تک یہی کوشش کریں گے کہ انکی کپتان کے ساتھ کھلی جنگ نہ ہو، لیکن اگر یہ نوبت آ گئی تو پھر آخری فتح ترین کی ہی ہو گی۔
دوسری جانب ترین کے ساتھی راجہ ریاض کی پبلک پوزیشن کچھ اور یے۔ انکاکہنا یے کہ ترین کی جانب سے منتخب اراکین اسمبلی اور وزراء کو ساتھ ملا کر سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کا مقصد وزیراعظم عمران خان کے خلاف بغاوت کرنا نہیں بلکہ ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور مشیر شہزاد اکبر کے خلاف احتجاج کرنا ہے جو وزیراعظم کو ترین کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر آئندہ بھی ترین کے مقابلے میں اعظم خان اور شہزاد اکبر کو زیادہ اہمیت دی گئی تو معاملات اور بھی خراب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب شوگر سکینڈل میں اپنے خلاف کارروائی کے بعد جہانگیر ترین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور انہوں نے حکومتی اراکین کو ساتھ ملا کر کر باقاعدہ پاور شو کاسلسلہ شروع کر دیا ہے۔ سیشن عدالت اور بینکنگ کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرنے والے ترین نے اپنے ساتھ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو ایک ڈنر پر اکٹھا کر کے کپتان کو دکھا دیا ہے کہ اگر ان کے خلاف کارروائی نہ روکی گئی تو وہ تحریک انصاف کے اندر سے ہی انہیں ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ یہی سمجھتے ہیں کہ کپتان کو سازش کے تحت ان سے بد گمان کیا جا رہا ہے جس وجہ سے وہ ماضی کی طرح پھر سے ان سے دور ہو گئے ہیں ہیں۔
جہانگیر ترین کے اراکین اسمبلی کو دیے گئے عشائیے میں ہونے والی گفتگو سے یہی تاثر ملتا ہے کہ فی الحال ترین اور ان کے ساتھیوں نے کپتان سے بغاوت نہیں کی بلکہ ان کا پاور شو ان کو یہ باور کرانے کے لیے ہے کہ وہ اعظم خان، شہزاد اکبر اور ان جیسوں کی باتوں میں آکر ترین کو رگڑا لگانے سے باز رہیں ورنہ اگلے مرحلے میں ان کے خلاف بھی دما دم مست قلندر ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جن الیکٹیبلز کو ترین نے تحریک انصاف میں شامل کروایا، وہ اب بھی ترین کو ہی اپنا رہنما مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترین نے بھی ان افراد کو اپنے ساتھ کھڑا کر کے کپتان کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر وہ ان لوگون کی مدد سے مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بنوا سکتے ہیں تو ان ہی کی مدد سے یہی حکومت گرا بھی سکتے ہیں۔
جہانگیر ترین کی جانب سے حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے طاقت کا مظاہرہ کئے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے بحث ہورہی ہے کہ کیا کپتان اینڈ کمپنی دباؤ میں آکر شوگر کمیشن کی کارروائی روک سکتی ہے۔ زیادہ تر مبصرین کا ماننا ہے کہ عمران اپنی ساکھ کے بحران کو مزید گہرا ہونے سے بچانے کے لیے ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی بند کروانے کا جوا ابھی نہیں کھیلیں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ترین کے ساتھ کھڑے ہونے والے اراکین نے قومی و صوبائی اسمبلی اور وزراء کے خلاف فی الحال کپتان کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ ایسا کرنے سے الٹا مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کا نقصان ہی ہوگا۔ دوسری جانب بہت سے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ترین کی حمایت میں سامنے آنے والے منتخب اراکین فی الحال فارورڈ بلاک بنانے یا استعفوں کی دھمکیاں دینے کا آپشن استعمال نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی اراکین سمجھتے ہیں کہ اس وقت مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت خاصی غیر مقبول ہے مگر یہ بھی صاف نظر آ رہا ہے کہ ابھی اس سیاسی بساط کے لپیٹے جانے کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ لہٰذا ترین اینڈ کمپنی کی خواہش ہے کہ کسی طرح ان کے خلاف کیسز کے معاملے کو لٹکایا جائے، عدالت سے لمبی لمبی تاریخیں حاصل کی جائیں۔ اس دوران اگر سیاسی فضا میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو حکومت کے خلاف اپوزیشن سے ہاتھ ملانے یا استعفی دینے یا درپردہ سیاسی وابستگی تبدیل کیے جانے کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔
ادھر جہانگیر ترین کی جانب سے اپنی جماعت کو ٹف ٹائم دیئے جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے تخت پنجاب بچانے کے لئے لیے متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ کپتان نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو فعال بنانے اور جنوبی پنجاب سے منتخب الیکٹیبلز اور اہم وزراء کو جہاں گیر ترین گروپ میں جانے سے روکنے کے لیے لیے جنوبی پنجاب میں خصوصی اقدامات کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ ان حالات میں ترین کے بڑے سیاسی مخالف وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی بھی متحرک ہو چکے ہیں اور وہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے معاملات اپنے کنٹرول میں لے کر خطے میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں جس کی وجہ سے تحریک انصاف میں اندورنی لڑائی مزید تیز ہونے کا خدشہ ہے۔
