جہانگیر ترین کو پچھاڑ کر اسد عمر طاقتورترین ہوگئے

سابق جرنیل کے ہونہار بیٹے اسد عمر نے بڑی مہارت کے ساتھ نپی تلی چالیں چلتے ہوئے تحریک انصاف میں کنگ میکر کا درجہ رکھنے والے جہانگیر خان ترین کو نہ صرف پارٹی معاملات سے آؤٹ کروادیا ہے بلکہ اس وقت وزیر اعظم عمران خان کے بعد اہم ترین حکومتی شخصیت بن چکے ہیں۔
2019 میں جب جنرل عمر کے صاحبزادے اور ن لیگی رہنما محمد زبیر کے بھائی اسد عمر مبینہ طور پر جہانگیرترین کی وجہ سے وزارتِ خزانہ سے نکلے تو یوں لگتا تھا کہ وہ عروج سے زوال کے سفر پر طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ مگر پھر چند ہی مہینوں بعد اسد عمر نے کابینہ میں بطور وزیر منصوبہ بندی دوبارہ سے حلف اٹھا لیا۔کہا جاتا ہے کہ کابینہ میں واپسی کے بعد سے اسد عمر مسلسل جہانگیر ترین کی جانب سے اپنی سیاسی پوزیشن استعمال کرکے مالی مفادات اٹھانے کے معاملات کپتان کے علم میں لاتے رہے جس کا نتیخہ بالآخر ترین کی فراغت کی صورت میں نکلا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسد عمر کپتان کے بعد سینئر ترین وزیر بلکہ عملی طور پر نائب وزیراعظم بن چکے ہیں اور حکومتی فیصلہ سازی میں بھی اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسد عمر اس وقت کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کے سربراہ، قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کے سربراہ اور سب سے بڑھ کر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر یعنی NCOC کے بھی سربراہ ہیں۔ یہ کرونا کے حوالے سے پاکستان کا اعصابی مرکز ہے جہاں سے پورے ملک کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ ہر روز صبح دس بجے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور ان کے معاون سیکرٹری اسد عمر کی سربراہی میں اجلاس میں شریک ہوتے ہیں۔ جنرل باجوہ کی ہدایت پر جنرل حمود الزمان، اسد عمر کی اس جدید ترین مرکز میں معاونت کرتے ہیں گویا اس وقت اگر کپتان کے بعد کسی کے پاس اختیارات اور طاقت ہے تو وہ صرف اور صرف اسد عمر ہے۔
اسد عمر کا کیرئیر دیکھا جائے تو وہ ملک کے معدودے چند پروفیشنلز میں سے ہیں جو کاروباری دنیا میں عروج تک پہنچے۔ ان کے والد جنرل (ر) غلام عمر مشرقی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنی فوجی ملازمت کے حوالے سے جنرل عمر ملک کے مختلف حصوں میں تعینات رہے۔ اسد عمر نے ٹاپ ادارے آئی بی اے کراچی سے ایم بی اے کیا اور پھر کارپوریٹ ادارے اینگرو کے سربراہ بنے۔ وہ بقول خود ایک زمانے میں ملک میں کسی بھی شخص سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے پروفیشنل تھے۔ پھر وہ کپتان کی محبت میں نوکری چھوڑ کر سیاست میں آگئے۔ ایسا کرنے سے وہ پی ٹی آئی کے نوجوان ورکرز کے رول ماڈل بھی بن گئے۔ بعد ازاں وہ اسلام آباد کے ایک حلقے سے رکن قومی اسمبلی بن کر وفاقی کابینہ کا حصہ اور ایک با اختیار وزیر خزانہ بن گے۔
آئی ایم ایف سے مذاکرات اور ملک کے اقتصادی مسائل کو حل کرنے کا مشکل ترین ٹاسک ان کے حوالے کیا گیا۔ کچھ ہی ماہ بعد اندرونی اور بیرونی حلقوں میں ان پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے اور یوں بالآخر انہیں کابینہ سے فارغ کر دیا گیا اور حفیظ شیخ کو فوج کے مشورے سے مشیر خزانہ بنا دیا گیا۔ جنہوں نے آئی ایم ایف سے قرضے کی شرائط طے کیں اور معیشت کا رکا ہوا پہیہ چلانے کی کوشش کی۔
کہا جاتا ہے کہ اسد عمر سمجھتے تھے کہ انہیں کابینہ سے فارغ کروانے میں جہانگیر خان ترین کا ہاتھ تھا اس لئے اسد عمر کابینہ میں واپس آئے تو ان کی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور زلفی بخاری سے گاڑھی چھننے لگی۔ جوں جوں جہانگیر ترین، عمران خان سے دور ہوتے گئے ان کی جگہ اسد عمر لیتے گئے۔ اپنے والد کے تعلق اور اپنے شاندار کیریئر کے حوالے سے وہ طاقتور حلقوں میں بھی کافی بارسوخ ہیں اور کہا جاتا یے کہ یہ دور اسد عمر کی نشاۃ ثانیہ کا ہے جس سے وہ بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
