جہانگیر ترین گروپ دوبارہ ایکٹیو کیوں ہو رہا ہے؟

فارن فنڈنگ، توشہ خانہ، ناجائز بیٹی سمیت مختلف کیسز میں عمران خان کی نااہلی نوشتہ دیوار ہے۔ عمران کی یقینی نااہلی کو دیکھتے ہوئے جہانگیر ترین گروپ ایک بار پھر ایکٹو ہو گیا ہے اور اس نے پارٹی میں موجود مختلف ہم خیال رہنماؤں سے رابطے تیز کر دئیے ہیں۔گزشتہ دنوں لاہور میں ایک بار پھر جہانگیر ترین گروپ کی ایک میٹنگ ہوئی جو بظاہر تو ایک افطار ڈنر تھا لیکن اس کو سیاسی پیرائے میں ہی دیکھا جا رہا ہے۔مارچ کے آخر میں ہونے والی اس گروپ کی میٹنگ کو اینیورسری میٹنگ بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ دوسال قبل مارچ کے مہینے میں ہی جب تحریک انصاف کے دور میں جہانگیر ترین اور ان کے خاندان پر مقدمات بنائے گئے تو پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کے اندر سے 30 ایم پی ایز کا گروپ کھل کر سامنے آیا تھا۔اسی وقت سے اسے جہانگیر ترین گروپ کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے۔ بعد میں جب حمزہ شہباز وزیر اعلی پنجاب بنے تو یقینا اس گروپ کے اراکین اسمبلی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن صورت حال اس وقت بدلی جب گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اس گروپ کے امیدوار ن لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور اکثریت ہار گئی۔

اس وقت تک لاہور میں وقفے وقفے سے ایسے ہی اس گروپ کی سیاسی میٹنگز جہانگیر ترین کی لاہور میں رہائش گاہ پر ہوتی رہیں۔ قریب آٹھ مہینے بعد اب دوبار اس گروپ کا اکٹھ ہوا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق بدلتے سیاسی حالات میں ترین گروپ کی ملاقات ایک جائزہ ملاقات کہی جا سکتی ہے۔سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’گزشتہ سال ہونے والے ضمنی انتخابات میں ترین گروپ کی شکست سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس گروپ کا وہ اثر برقرار نہیں رہا جس کا ان انتخابات سے پہلے ایک تاثر قائم تھا۔ لیکن چونکہ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین کا اپنا ذاتی اثرو رسوخ بہت زیادہ ہے اس لیے وہ آنے والے سیاسی حالات میں اپنی صف بندی تو ضرور کریں گے۔‘

سلمان غنی یہ سمجھتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی ن لیگ سے زیادہ کام کر رہی ہے۔ ’اس بات کے بھی امکانات رد نہیں کیے جا سکتے کہ ترین گروپ اور پیپلزپارٹی اتحاد کر لیں۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کی نظریں پنجاب میں اس بار دو درجن سے زائد نشستیں نکالنے پر ہے۔‘سوال کیا گیا کہ دو سال ہو گئے ہیں اس گروپ کو باضابطہ اپنا وجود قائم کیے ہوئے کیا اس گروپ کی موجودہ میٹنگ بہت زیادہ اہم ہے؟ تو سلمان غنی کا کہنا تھا کہ ’سیاسی جماعتیں یا گروپ بدلتے حالات کے ساتھ اپنی حکمت عملی بدلتے رہتے ہیں اس لیے مجھے لگتا ہے کہ اب ترین گروپ دوبارہ متحرک ہوگا۔ لیکن جتنا میں جانتا ہوں ان کی کوشش ہو گی کہ زیادہ سے زیادہ اپنے بندے ایڈجسٹ کیے جائیں۔‘

صحافی لیاقت انصاری جو گزشتہ دوبرس سے وجود میں آنے والے اس سیاسی گروپ کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’ترین گروپ ابھی بھی اپنی بارگیننگ پوزیشن بہتر بنانے کے لیے دوبارہ متحرک ہوا ہے۔ اگر ان کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ ن لیگ سے نہیں بھی ہو گی تو بھی یہ اپنے آزاد امیدوار کھڑے کریں گے جن کا نئی بننے والی حکومت میں اہم کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ جو حالیہ ملاقات ہوئی یہ صرف ایک سیاسی حاضری کے لیے تھی۔ کیونکہ ابھی انتخابات کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے۔ اور اصل سیاسی لڑائی اس وقت وفاقی سطح پر جاری ہے۔‘

دوسری جانب جہانگیر ترین کی قیادت میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اور دیگر چند سیاست دانوں نے اگلے انتخابات سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف صف بندی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے ’متوازی‘ جماعت بنانے پر غور شروع کردیا ہے۔ذرائع کا دعوی ہے کہ ’ترین گروپ کو پی ٹی آئی توڑنے پر توجہ دینے کا اشارہ دے دیا گیا ہے، پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کا نام بھی تجویز کرلیا ہے جبکہ اس نام سے الیکشن کمیشن میں پہلی ہی ایک جماعت رجسٹرڈ ہے اور ممکنہ طور پر ترین گروپ یہی پلیٹ فارم اپنے کام کے لیے استعمال کرے گا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے اختر اقبال ڈار ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور جہانگیر ترین کے درمیان حالیہ ملاقات بھی اس تناظر میں دیکھی جاسکتی ہے‘، ترین گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے تحفظات کا عوام میں اظہار کیے بغیر عمران خان پر تنقید کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ساتھ رابطہ کیے جائیں۔

ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اگلے انتخابات کے لیے ترین گروپ کے الیکٹیبلز کو ٹکٹ دینے سے انکار کردیا ہے، تاہم ترین گروپ کو نئے اقدامات کے لیے مسلم لیگ(ن) کا مکمل تعاون حاصل ہے۔دوسری جانب ذرائع کا دعوی ہے کہ شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری مبینہ طور پر ترین گروپ کے ارکان سے رابطے میں ہیں، اِن الیکٹیبلز سے اگلے حکومتی سیٹ اپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ علیم خان سمیت پی ٹی آئی کے کم از کم 25 ارکان صوبائی اسمبلی نے گزشتہ برس پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کی تھی اور وزار اعلیٰ کے لیے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا، تاہم بعدازاں عدالتی حکم کے تحت یہ ارکان اسمبلی نااہل قرار پائے تھے۔

مسلم لیگ (ن) نے ان کی اِس ’قربانی‘ کے عوض انہیں گزشتہ برس جولائی میں ضمنی انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا تھا، تاہم ان میں سے تقریباً تمام امیدواروں کو پی ٹی آئی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے عہدے سے برطرفی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔اسی طرح ترین گروپ میں شامل پی ٹی آئی کے کچھ منحرف اراکین قومی اسمبلی نے مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحاد سے ہاتھ ملا لیا تھا، موجودہ اپوزیشن لیڈر راجا ریاض ان ہی میں سے ایک ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ وہ بھی اپنے سیاسی مستقبل کے لیے آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔

Back to top button