جیل سے ڈاکٹریاسمین راشد کاچیف جسٹس پاکستان کے نام خط

سانحہ9مئی کو ایک سال مکمل ہونے پر صدر پی ٹی آئی پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے جیل سے چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے نام خط لکھ دیا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے خط میں لکھا کہ سانحہ9مئی کو ایک سال گزر گیا ابھی تک خواتین جیلوں میں ہیں۔سینکڑوں بے گناہ کارکن جیلوں میں ہیں جن کو ضمانت جیسے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ اگر کسی بے گناہ کی ضمانت ہو بھی جائے تو نئے کیس میں گرفتاری ہو جاتی ہے۔ایک شہر کے کیس ختم ہوں تو دوسرے شہروں کے کیسوں میں گرفتاری ہو جاتی ہے ۔یہ انصاف نہیں سیاسی انتقام ہے جس کا نشانہ تحریک انصاف ایک سال سے بنی ہوئی ہے ۔
صدر پی ٹی آئی پنجاب نے مزید لکھا کہ فارم 47 کی جعلی حکومت پوچھتی ہے کہ ایک سال ہوگیا فیصلے کیوں نہیں ہوئے؟ یہ سوال تو ہمیں کرنا چاہے، جنکی حکومت ہے وہ بتائیں ابھی تک کیسوں کے چالان کیوں پیش نہیں ہوئے؟ ۔جعلی حکومت بتائے بار بار ججوں کے تبادلے کون کروا رہا ہے؟جعلی حکومت بتائے پولیس مقدمو ں کا ریکارڈ لے کر کیوں نہیں آتی؟ جعلی حکومت بتائے دلائل دینے کی باری پر پراسیکو ٹر کہاں غائب ہو جاتا ہے؟
ڈاکٹریاسمین راشد نے لکھا کہ اگر جعلی حکومت یہ کہنا چاہتی ہے کہ تحریک انصاف جیلوں میں ببٹھی عدالتوں کو کنٹرول کر رہی ہے تو پھر جعلی حکومت گھر چلے جانا چاہے۔میں، ڈاکٹر یاسمین راشد، چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کرتی ہوں کہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنائیں ہم ایک سال سے انصاف ملنےکے منتظر ہیں۔چیف جسٹس صاحب ہمیں انصاف دیں۔
