جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے فضائی سفر کتنا مہنگا ہو گیا؟

ملک میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھاری اضافے نے فضائی سفر کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔چند روز میں جیٹ فیول کی قیمت 176 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 472 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے بعد ڈومیسٹک پروازوں کے ٹکٹ 100 فیصد تک مہنگے ہو گئے ہیں جبکہ بین الاقوامی پروازوں پر بھی اکانومی کلاس کی ٹکٹ کی قیمت 3 سے 7 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ لاہور سے کراچی یا اسلام آباد کے لیے ٹکٹ کی قیمتیں پہلے ہی عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈال رہی تھیں، اب ایئر لائنز کی جانب سے فیول سرچارج میں اضافے کے بعد یہ بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔  دوسری جانب پاکستان نے ایران امریکہ کشیدگی کی وجہ سے سپلائی چین میں خلل کے باعث پاکستان آنے والی غیر ملکی ایئر لائنز کو واپسی کے لئے اپنا فیول ساتھ لانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

خیال رہےکہ ملک میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد فضائی سفر کی لاگت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایئرلائنز نےبنیادی کرایہ برقرار رکھتے ہوئے فیول سرچارج کی مد میں ٹکٹس کی قیمتوں میں 10 سے 100 ڈالر تک اضافہ کر دیا ہے، جس سے فضائی سفر مزید مہنگا ہو گیا ہے،کرایوں میں اضافے کے بعد عوام کیلئے اندرون ملک سفر بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد کراچی سے اسلام آباد یا لاہور کا یک طرفہ کرایہ اب 40 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، اور لاہور و اسلام آباد کے چانس کی سیٹس کے کرایوں میں 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ پی آئی اے نے لوکل پروازوں پر 10 ڈالر فیول سرچارج عائد کیا ہے جبکہ نجی ایئرلائنز نے 15 سے 150 ڈالر تک اضافی سرچارج نافذ کر دیا ہے، جس سے مسافروں پر اضافی مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

فیول سر چارج بڑھنے کی وجہ سے بین الاقوامی پروازوں کے ٹکٹس کی قیمتیں بھی آسمان کی بلندی کو چھوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ، ٹورنٹو، پیرس اور مانچسٹر کے لیے اکانومی کلاس کے ٹکٹ 3 سے 7 لاکھ روپے تک جا پہنچے ہیں۔ پی آئی اے نے کینیڈا کے روٹس پر 100 ڈالر، برطانیہ کے لیے 75 ڈالر اور سعودی عرب و گلف ممالک کے لیے 50 ڈالر اضافی فیول سرچارج نافذ کر دیا ہے۔ اس سے نہ صرف ٹکٹس کی قیمت بڑھ گئی ہے بلکہ بین الاقوامی سفر بھی مشکل تر ہو گیا ہے۔ایئرلائنز حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی فیول قیمت اور خلیجی فضائی حدود کی بندش نے آپریشنل لاگت بڑھا دی ہے، جس کے اثرات ٹکٹ کی قیمتوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے جہاں پاکستانی مسافروں کو فضائی سفر کے لیے تقریباً دوگنا خرچ کرنا پڑ رہا ہے وہیں بین الاقوامی مسافر بھی 7 لاکھ روپے تک کے ٹکٹ خریدنے پر مجبور ہیں۔

جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں پاکستان میں لاک ڈاؤن کا امکان

دوسری جانب حکومت نے ایندھن کی سپلائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے غیر ملکی ایئرلائنز کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ واپسی کے سفر کیلئے اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ ایندھن بیرون ملک سے لے کر آئیں اور مقامی جیٹ فیول پر انحصار کم کریں، تاکہ ملکی ذخائر محفوظ رہیں۔  پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ایندھن پالیسی سے متعلق نوٹم جاری کردیا۔ نوٹم کے مطابق غیر ملکی ایئرلائنز کو پاکستان میں بہت محدود مقدار میں ایندھن فراہم کیا جائے گا جبکہ مقامی ایئرلائنز کو آپریشنل ضروریات کے مطابق ایندھن کی فراہمی جاری رہے گی۔

Back to top button