حافظ سعید کو مکمل آزاد کرنے کی تیاریاں

لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کے لیے دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی۔
عدالت عالیہ میں جسٹس قاسم خان اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بینچ نے درخواست پر سماعت کی ، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایک ہی نوعیت کی 24 ایف آئی آرز ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ حافظ سعید اور دیگر نامزد لوگ دہشت گرد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حافظ سعید کے جن اثاثوں کا ایف آئی آر میں ذکر کیا گیا ہے وہ مدرسے ہیں ، اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں اس کیس سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ، ساتھ ہی پنجاب حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ، عدالت نے معاملے کی مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت یہ قرار دے کہ درخواست گزاروں اور اس کے ساتھیوں کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا یہ ایف آئی آرز قانونی اختیار سے تجاوز ہیں اور یہ قانونی طور پر موثر نہیں۔
واضح رہے کہ 3 جولائی کو کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمٰن مکی سمیت اعلیٰ قیادت کے 13 رہنماؤں پر انسانی دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تقریباً 2 درجن سے زائد کیسز درج کیے گئے تھے۔ ان 2 قائدین کے علاوہ جماعت الدعوۃ کے جن رہنماؤں پر مقدمات درج کیے گئے تھے ، ان میں ملک اقبال ظفر، امیر حمزہ، محمد یحیٰ عزیز، محمد نعیم، محسن بلال، عبدالرقیب، ڈاکٹر احمد داؤد، ڈاکٹر محمد ایوب، عبداللہ عبید، محمد علی اور عبدالغفار شامل تھے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے پنجاب کے 5 شہروں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ غیرمنافع بخش تنظیموں اور فلاحی اداروں، الانفال ٹرسٹ، دعوت الارشاد ٹرسٹ اور معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیر کے ذریعے جمع ہونے والے فنڈز سے جماعت الدعوۃ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کرتی ہے۔ ان غیر منافع بخش تنظیموں پر اپریل سے پابندی عائد کر دی گئی تھی کیونکہ سی ٹی ڈی کو اپنی تفصیلی تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ ان اداروں کے جماعت الدعوۃ اور اس کی قیادت سے تعلقات تھے اور ان پر پاکستان میں جمع کیے گئے فنڈز سے بڑے اثاثے ، جائیداد بنا کر دہشت گردی کی مالی معاونت کا الزام تھا ، بعد ازاں 17 جولائی کو محکمہ انسداد دہشتگردی نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر حافظ محمد سعید کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا۔
یاد رہے کہ عدالت میں جماعت الدعوۃ کی ذیلی تنظیم کے سیکریٹری ملک ظفر اقبال نے حافظ سعید سمیت 65 رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کے لیے درخواست دائر کی تھی ، اس درخواست میں وفاقی اور پنجاب حکومت، ریجنل ہیڈ کوارٹرز سی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا تھا۔ملک ظفر اقبال جن کا نام پولیس رپورٹس میں بھی موجود ہے ، ان کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق مقدمات کا اندراج بغیر قانونی اختیار کے ہے اور یہ قانونی طور پر موثر نہیں ، درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس پراپرٹی کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے وہ مسجد کے لیے تھی اور اسی مقصد کے لیے اس کا استعمال ہوا لہٰذا درج کی گئی 23 ایف آئی آرز قانونی اختیارات سے تجاوز ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ اثاثے کبھی بھی دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہیں ہوئے اور نہ ہی ان سنگین الزامات کی حمایت میں ریکارڈ پر کوئی ناقابل تردید ثبوت ہیں ، درخواست کے مطابق ان مقدمات میں حافظ محمد سعید پر کالعدم عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کے سربراہ ہونے کا الزام حقیقت میں اور قانونی طور پر بے بنیاد ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button