حدیقہ کیانی نے خاتون کی جانب سےلگے الزامات مسترد کر دیے

پاکستان کی مشہور گلوکارہ حدیقہ کیانی نے خاتون کی جانب سے 2 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سیلون کی تمام فرنچائز مکمل ایس او پیز پر عمل کررہی ہیں۔ انہوں نے خاتون کے بال خراب کرنے کی خبروں کو جھوٹا بھی قرار دیا۔
یاد رہے کہ فیصل آباد کی رہائشی خاتون نے چند روز قبل حدیقہ کیانی کے بیوٹی سیلون کی فیصل آباد میں واقع مقامی فرنچائز پر الزام لگایا تھا کہ اس سیلون سے بالوں کا ٹریٹمنٹ کروانے کے بعد ان کے بال جھڑنا شروع ہوگئے ہیں کیوں کہ بیوٹی سیلون میں ان کے بالوں پر جو کریمیں استعمال کی گئیں وہ غیر معیاری تھیں۔ متاثرہ خاتون نے حدیقہ کیانی کے خلاف مقامی عدالت میں 2 کروڑ روپے سے زائد کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا تھا۔ جس پر جج ذوالفقار علی نے گلوکارہ حدیقہ کیانی اور فرنچائز کی مالک عائشہ رانا سمیت ڈپٹی کمشنر اور ضلعی ہیلتھ افسر کو طلب کرلیا تھا۔ خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ بال بناتے وقت جو کریمیں استعمال کی گئیں، وہ انسانی جسم کےلیے مضر صحت تھیں اور بال بنوانے کے بعد ان کے بال جھڑنے لگے۔
تاہم اب خاتون کے ایسے الزامات اور میڈیا میں خبریں شائع ہونے کے بعد حدیقہ کیانی نے ان تمام خبروں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فرنچائز کے خلاف من گھڑت الزامات لگائے گئے۔ انہوں نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں واضح کیا کہ ان کی سیلون کی تمام فرنچائز میں حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بہترین مصنوعات استعمال کی جاتی ہیں اور ان کی سیلون کی فرنچائز پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں۔ حدیقہ نے میڈیا میں چلنے والی خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ ان کی قانونی ٹیم خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ان کی سیلون کے خلاف سازش کے تحت غلط الزامات لگائے جا رہے ہیں اور انہوں نے سیلون کے صارفین کو یقین دلایا کہ وہ بہترین سروس کے ساتھ ان کی خدمات جاری رکھیں گی۔
خیال رہے کہ حدیقہ کیانی نے کچھ عرصہ قبل ہی اپنے نام سے ملک بھر میں بیوٹی پارلر و سیلون کھولے ہیں اور انہوں نے تھرڈ پارٹی کے تحت کئی شہروں میں فرنچائز کھول رکھی ہیں جن کے انتظامات دوسرے لوگ دیکھتے ہیں۔ حدیقہ کیانی کی طرح دیگر معروف شوبز خواتین نے بیوٹی سیلون، فیشن ہاؤس اور خواتین کے استعمال کی اشیا دیگر برانڈز بھی متعارف کرا رکھے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button