حفاظتی اشیا، مالی ریلیف کی درخواست پر ڈاکٹروں پر جرمانہ عائد

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے ہسپتالوں میں بحیثیت ورکنگ افسران کام کرنے والے ڈاکٹروں کی جانب سے ذاتی تحفظ کی اشیا پی پی ای اور حکومت سے اضافی مالی ریلیف حاصل کرنے کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
ڈاکٹر زوہیب سمیت دیگر کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان نے لکھا۔جس میں عدالت نے نہ صرف درخواست خارج کردی بلکہ درخواست گزاروں کو کارروائی کے اخراجات ادا کرنے کے ساتھ محکمہ صحت پنجاب کو ان ڈاکٹروں کے خلاف کسی بھی قانون کو توڑنے یا ’ادارے کی بدنامی کا سبب ‘ بننے پر کارروائی کی اجازت بھی دے دی۔حکم نامے کے مطابق درخواست گزار نے کورونا وائرس سے لڑنے والے تمام طبی ماہرین کے لیے حفاظتی اشیا فراہم کرنے کی درخواست کی تھی لیکن عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان 5 درخواست گزاروں میں سے کسی کی بھی ڈیوٹی کورونا وائرس سے متعلق نہیں تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایک ڈاکٹر کو صرف ایک دن کورونا وائرس کے مریضوں کی اسکریننگ پر تعینات کیا گیا تھا جس کے لیے انہیں مکمل حفاظتی اشیا فراہم کی گئی تھیں۔تحریری حکم میں کہا گیا کہ ’جو کچھ بھی اوپر بیان کیا گیا اس کی روشنی میں درخواست بدنیتی کی بنیاد پر بغیر کسی ٹھوس وجہ کے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے دائر کی گئی‘۔پنجاب حکومت کے پیش کردہ موقف کہ کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو پی پی ای فراہم کی جارہی ہیں کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے تحریری حکم میں یہ بھی لکھا کہ عالمی وبا کے باعث جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں متعدد ترقی پذیر ممالک کو حفاظتی اشیا کی کمی کا سامنا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے خلاف فیصلہ دینا غیر منصفانہ ہوگا جبکہ وہ بھرپور طریقے سے ڈاکٹروں کی حفاظت یقینی بنا رہی ہے اور بحیثیت سرکاری ملازم ڈاکٹروں کی بھی ریاست کی جانب کچھ ذمہ داری ہے۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر تمام اچھی وجوہات کی بنا پر ہم ڈاکٹروں کو سب سے بڑھ کر عزت دیتے ہیں تو اسی طرح ہم غلط معلومات اور ریاست یا اداروں پر الزامات عائد کر کے معاشرے میں افراتفری پھیلانے اور تباہ کن کھیل کھیلنے کی اجازت کی نہیں دے سکتے‘۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے مالی ریلیف ییکج دینے سمیت دائر درخواستیں براہ راست ان کی ملازمت کی شرائط سے منسلک ہیں جس کے لیے ان کے پاس مسئلے کے حل کے لیے محکمہ صحت کی صورت میں ایک نظام موجود ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے دستیاب طریقہ کار سے رجوع کیے بغیر ملازم ایک آئینی درخواست کے ساتھ ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کرسکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button