حقیقی دنیا کے عمران خان کی افسانوی دنیا کے عمران سے کتنی مماثلت؟

وزیر اعظم عمران خان کی زندگی اور ابنِ صفی کی عمران سیریز کے کرداروں اور حالات و واقعات میں اتنی زیادہ مماثلتیں ہیں کہ وہ محض اتفاقی نہیں ہو سکتیں۔ بچپن میں عمران سیریز کے ناول پڑھنے والوں کو یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ ایک دن انکے پسندیدہ ہیرو سیکرٹ سروس کے چیف علی عمران، حقیقی دنیا میں عمران خان کے روپ میں مملکتِ خداداد کے ’چیف ایگزیکٹو‘ بن جائیں گے۔
جو لوگ علی عمران سے ابن صفی کے توسط سے مل چکے ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ ایک ایسا کھلنڈرا اور شریر انسان بن کر ابھرا تھا جسے اپنے ملک سے شدید محبت تھی اور وہ اس کے مفاد کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ عمران خان کو بھی اسی لیے ملکی دفاع کے ٹھیکیداروں نے وزارت عظمی کی کرسی پر بٹھایا ہے کہ وہ ملکی اور قومی مفاد کے خلاف سازشیں کرنے والے شریفوں اور زرداریوں کا قلع قمع کر سکیں۔
دراصل عمران خان نے اپنے اسی حب الوطنی کے جذبے کے تحت ملک کے خلاف سازش کرنے والی دو بڑی جماعتوں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا تھا اور ان ملک دشمن غداروں کے ساتھ انہیں مجبوراً وہی سلوک کرنا پڑا جو علی عمران نے اس ملک کے دشمنوں کے ساتھ کیا تھا۔
دراصل علی عمران نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی، لیکن عمران خان اس سے بھی ’ایک ہاتھ‘ آگے نکلے۔ انہوں نے نہ صرف آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی بلکہ اسی یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔
ایکطرف علی عمران لندن میں کرمنالوجی کی طرف مائل ہوئے تو دوسری طرف عمران جمائما خان کی طرف مائل ہوئے۔ علی عمران کی خودسری نے اسے اپنے والد سے علیحدگی پر مجبور کیا اور عمران خان کی مصروفیات نے انہیں اپنی بیوی بلکہ بیویوں سے جدا کر دیس۔
سیکرٹ سروس میں خدمات سر انجام دینے کے صلے میں سر سلطان نے علی عمران کو سیکرٹ سروس کا چیف مقرر کیا جب کہ ہمارے ’سر باجوہ‘ نے انہیں ان کی خدمات کے صلے میں پاکستان کا چیف ایگزیکٹو ’مقرر‘ کیا۔ علی عمران اپنی لاابالی طبیعت سے واقف تھا اسی لیے اس نے ’ایکس ٹو‘ کا عہدہ تخلیق کیا تاکہ اس کا عملہ اس سے ڈرتا رہے۔ عمران خان بھی اپنی لاابالی طبیعت سے واقف ہیں اس لیے انہوں نے اپنی پہلی دونوں بیویوں کو ایکس وائف میں بدل دیا تاکہ خواتین ان پر بدستور مرتی رہیں۔
علی عمران نہ صرف مارشل آرٹ اورجمناسٹک کا ماہر تھا بلکہ میک اپ کا بھی ماہر تھا۔ عمران خان نے نہ صرف کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ اب اس کا نام ’تاریکیوں‘ میں دھکیلنے کے لیے میدان سیاست میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ میک اپ کا گر سیکھنے کی ضرورت انہیں اس لیے پیش نہیں آئی کہ وہ صورت سے زیادہ سیرت پر یقین رکھنے والے انسان ہیں۔
جب سے ان کا پالا ریحام خان اور عائشہ گلالئی جیسی خواتین سے پڑا ہے، خوبصورتی سے ان کا ایمان ہی اٹھ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بشریٰ بی بی کو خاتون اول اور بیگمِ آخر کے طور پر چنا ہے، جو کبھی چلمن سے باہر ہی نہیں آئیں۔ خاتون اول اور بیگمِ آخر کا کردار دراچل عمران سیریز کے سید چراغ شاہ سے ملتا جلتا ہے جو ہر مشکل وقت میں علی عمران کی روحانی مدد کرتا تھا اور انہیں دشمنوں کے سفلی حملوں سے بچاتا تھا۔ ان دونوں میں ایک اور معنی خیز مماثلت بھی ہے کہ چراغ شاہ علی عمران کی زندگی میں بہت بعد میں داخل ہوا تھا۔ خاتون اول بھی عمران خان کی روحانی مدد کے لیے بہت بعد میں وارد ہوئیں اور ان کی روحانی مدد کے کرشمے سب کے سامنے ہیں۔
علی عمران نے مارشل آرٹ میں کئی نئے داؤ ایجاد کیے تھے۔ عمران خان نے سیاست میں یو ٹرن نامی ایک ایسا داؤ ایجاد کیا، جس کی نظیر آس پاس کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس عظیم داؤ کے بورڈ پاکستان کی ہر ’دوہری‘ سڑک پر موجود ہیں، جس سے اس کی عوامی سطح پر مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عمران سیریز میں علی عمران کے بعد سب سے اہم کردار طاہر عرف بلیک زیرو تھا، جو سیکرٹ سروس کا واحد رکن تھا اور یہ جانتا تھا کہ علی عمران ہی ایکس ٹو ہے۔ طاہر سے پہلے ابن صفی نے ایک بلیک زیرو عمران سیریز کے ایک یادگار سلسلے ’درندوں کی بستی‘ سیریز میں متعارف کرایا تھا جو وطن کی خاطر شہید ہو جاتا ہے، اس سے اگلے ہی ناول ’گمشدہ شہزادی‘ میں ابن صفی صاحب نے نیا بلیک زیرو ’طاہر‘ متعارف کروایا جسے بے حد مقبولیت ملی اور اگلے ناولوں میں یہی بلیک زیرو طاہر ہی رہا۔
تحریک انصاف سیریز لکھنے والر سکرپت رائٹرز نے بھی اس کردار پر خصوصی توجہ دی۔ جوں ہی ن لیگ نامی ’درندوں کی بستی‘ اجڑی بلیک زیرو بننے کے کئی دعویداروں نے سر اٹھایا لیکن ’گمشدہ شہزادی‘ نے عثمان بزدار نامی ایک ایسا بلیک زیرو متعارف کرایا کہ اس نے ’قبولیت‘ کے اگلے پچھلے سارے ہی ریکارڈ توڑ دیے۔ بلیک زیرو کے بعد اس سیریز کا سب سے اہم کردار صفدر سعید ہے، جو سیکرٹ سروس کا سب سے زیادہ فعال رکن ہے اور علی عمران جب فیلڈ میں ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اعتماد اسی پر کرتا ہے۔ صفدر سعید ایک کم گو انسان ہے اور عموماً سنجیدہ رہتا ہے۔ صفدر سعید علی عمران کی دل سے عزت کرتا ہے اوراسے ہمیشہ ’عمران صاحب‘ کہہ کر پکارتا ہے۔ عمران بھی صفدر کی عزت کرتا ہے۔
ہم نے عمران سریز کے باقی کرداروں کا ذکر کرتے ہوئے ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صفدر سعید کا ذکر بھی اسی صیغے میں کرتے لیکن اس کردار کا ذکر کرتے ہوئے ہم نے ماضی کا صیغہ اس لیے استعمال نہیں کیا کہ تحریک انصاف سیریز کا صفدر سعید یرنی جہانگیر ترین چینی اور آٹے بحران کے باعث خود ہی ماضی کا صیغہ بن چکا ہے۔وہ نہ تو اب کم گو انسان رہا ہے نہ ہی ہمارے ہیرو کی اب عزت کرتا ہے۔
جہاں تک دونوں سیریز میں فوجی کرداروں کی بھرمار کا تعلق ہے تو شاید یہ محض اتفاق ہے اور ایسے اتفاقات اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتے ہی رہتے ہیں۔ عمران سیریز کے اصلی ناولوں کی مجموعی تعداد ان سیٹوں کی تعداد سے کچھ زیادہ نہیں جتنی تحریک انصاف سیریز کو گذشتہ الیکشن میں ملی تھیں۔ عمران سیریز کے ناولوں کی تعداد 120 کے لگ بھگ ہے جب کہ تحریک انصاف نے 116 نشستیں حاصل کی تھیں۔البتہ اس کے کرداروں پر بعد میں لکھے جانے والے ناولوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنے ووٹ عمران خان نے وزیراعظم کے انتخاب میں قومی اسمبلی میں لیے تھے۔
عمران سیریز کا پہلا ناول اگست 1955 میں منظر عام پر آیا تھا۔ عمران خان 1952 میں پیدا ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ تحریک انصاف سیریز کی پہلی مرکزی حکومت بھی اگست کے مہینے میں قائم ہوئی۔ اب اس پر سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے۔
سلسلۂ روز شب نقش گرِ اتفاق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button