حلیمہ سلطان کے بریزئیر نے سوشل میڈیا پر آگ لگا دی

https://youtu.be/8k7KDtmd7VA
معروف ترکش ڈرامے ارطغرل غازی میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ کے 36 سکینڈز کے بریزئیر کے اشتہار نے سوشل میڈیا پر جیسے آگ لگا دی ہو، جی ہاں! خوبصورت اداکارہ اسرا بلگچ زیر جامہ تیار کرنے والے معروف عالمی برانڈ ’وکٹوریہ سیکریٹ‘ کے لیے بولڈ فوٹو شوٹ کروانے پر پاکستانی مداحوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔
پاکستانی صارفین کو اشتہار سے زیادہ ماڈل پر اعتراض ہے کیونکہ اس نے ترکش ڈرامے ارطغرل میں خود کو سر سے پیر تک ڈھکنے والی حلیمہ سلطان کا کردار ادا کیا تھا جس کے پاکستان میں لاکھوں مداح موجود ہیں۔
اداکارہ اسرا نے اس اشتہار کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا جس پر اب تک اس پر دس لاکھ سے زیادہ لائکس آ چکے ہیں، ان میں سے 5 لاکھ سے زائد کمنٹس پاکستانی صارفین کی جانب سے کیے گے ہیں، زیادہ تر پاکستانیوں نے اسرا کو زیر جامہ کے فحش اشتہار میں کام کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم کچھ سوشل میڈیا صارفین ایسے بھی ہیں جو اعتراض کرنے والوں سے پوچھ رہے ہیں کہ اسرا کی اپنی زندگی ہے اور وہ ایک اداکارہ ہونے کے ناطے جیسا مرضی لباس پہنے، اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔
زیرجامعہ کے اشتہار پر رائے دیتے ہوئے سمیر خان نے لکھا ’آپ کو شرم آنی چاہئے، اگر آپ خود کو بریزئیر میں دکھاتی ہیں تو پھر آپ کو حلیمہ سلطان کا کردار نہیں ادا کرنا چاہئے تھا۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستانی صارفین اداکارہ اسراء بِلگِچ کو حلیمہ کے کردار سے ہٹ کر اپنی اصل زندگی میں گلیمرس انداز میں دیکھ کر ان پر تنقید کر رہے ہیں، چشمش شیخ نامی اکاؤنٹ سے لکھا گیا کہ حلیمہ یہ کیا انداز ہے، تو انھیں جواب میں طارق نامی صارف نے لکھا ’اب تم اس پر فنی ویڈیو بناؤ، اچھا نہیں کیا حلیمہ نے۔ اسی طرح حماد نامی صارف نے لکھا ’ابے یہ کیسا اشتہار ہے حلیمہ باجی۔ ایک اور صارف نے لکھا ’حلیمہ باجی ایسے تو مت کرو نا، دل دکھتا ہے۔ ایک اور صارف بلال نے طنزاً لکھا ’میں پاکستانیوں کے ردعمل کو تلاش کر رہا ہوں لیکن ان میں ایسے پاکستانی صارفین بھی ہیں جو اعتراض کرنے والوں کو اعتراض کرنے سے منع کر رہے ہیں۔
کچھ غیر ملکی صارفین بھی ہیں جو پاکستانی صارفین کو منفی کمنٹس سے روک رہے ہیں جیسے اسرا دنیز میرک نے لکھا ’پیارے پاکستانیوں، یہ پاکستان نہیں ہے ترکی ہے، عورتیں یہاں اشتہارات میں ایسی چیزیں پہن سکتی ہیں، مایوس ہونا چھوڑیں اور فضول کمنٹس نہ کریں، ٹوئٹر پر نظر دوڑائیں تو وہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے بلکہ شاید اس سے ایک قدم آگے ہے۔ آمنہ جاوید نے ان تبصروں پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اداکارہ پر کیے گئے ان تبصروں میں سے ان کا فیورٹ یہ مشورہ ہے کہ ’اگر آپ کو پیسوں کی ضرورت ہے تو پاکستان سے پوچھیں۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’پاکستانی مرد اسرا کو شرمندہ کر رہے ہیں کہ اب وہ ان کے فرض کر لیے گئے آئیڈیل سے ہٹ رہی ہے۔
فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ میں شرط لگاتی ہوں کہ اسرا پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے اور اپنے شو کے پاکستان میں نشر ہونے پر پچھتا رہی ہوں گی، لیکن طاہر نامی صارف نے یہ صلاح دی ہے کہ آپ کے پاس ہمیشہ کسی بھی چیز کو نہ دیکھنے کا آپشن ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’اسرا شوبز میں کام کرتی ہیں ماڈلنگ کرتی ہیں، لوگ ان کے اشتہار میں آنے پر اتنے فکر مند کیوں ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی معروف ٹی وی اور ریڈیو ہوسٹ انوشے اشرف نے کہا کہ مرد اسے ان فالو کیوں نہیں کر دیتے؟ یا اپنی آنکھوں کو ڈھانپ کیوں نہیں سکتے۔
یاد رہے کہ ارطغرل کی محبوبہ اور پھر بیوی کا کردار ادا کرنے والی اسرا بِلگِچ کی پیدائش 1992 میں انقرہ میں ہوئی تھی۔ اسراء بِلگِچ نے پہلے ہیجتیپ یونیورسٹی سے آثار قدیمہ میں ڈگری حاصل کی پھر انقرہ کی بلکینت یونیورسٹی سے بین الاقوامی امور میں ڈگری حاصل کی اور اب قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، دیریلس ارطغرل میں حلیمے سلطان کا کردار ان کا پہلا رول تھا جس کی وجہ سے انہیں کافی مقبولیت ملی۔ اداکارہ نے 2018 میں ارطغرل میں کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کے بعد انہی ایک فلم میں کام مل گیا تھا، آج کل وہ ’رامو‘ نامی کرائم ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسرا بلگچ نے 2017 میں ترکی کی قومی فٹ بال ٹیم میں کھیلنے والے فٹ بالر گوکھان تورے سے شادی کر لی تھی تاہم دو سال بعد 2019 میں دونوں کا رشتہ ختم ہو گیا تھا۔

Back to top button