حماس اسرائیل پر گھس کا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

اسرائیل پر حماس کے حالیہ حملوں نے ملک کی سکیورٹی اور دفاعی نظام کی اہم کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی عوام میں ریاستی نظام پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔
مختلف تجزیہ کاروں کے مطابق حماس نے متعدد مقامات پر سرحدی دیوار میں شگاف کر کے اور باڑ توڑ کر سینکڑوں مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ اسرائیلی حدود میں گھس کر اسرائیل پراچانک حملہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔حماس نے اسرائیلی گاڑیوں کو ناکارہ بنانے اور باڑ کو اسرائیلی بلڈوزروں کے ذریعے وسیع کرنے کے لیے ڈرون، ٹینک شکن میزائل اور بلڈوزر کا بھی استعمال کیا۔حماس نے پہلی مرتبہ پیراگلائیڈنگ کے ذریعے اپنے گوریلا جنگجو اسرائیل کے اندر اتارے جنھوں نے اچانک حملے کر کے شدید نقصان پہنچایا۔حماس نے نہ صرف مواصلاتی مراکز اور اہم مقامات کو نشانہ بنایا بلکہ کئی اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بھی بنا لیا۔یہ حملے اپنے پیمانے اور عزائم میں بے مثال تھے اور اس نے اسرائیل کو چونکا دیا کیونکہ اسرائیل کو غزہ سے اس طرح کے پیچیدہ اور مربوط آپریشن کی توقع نہیں تھی۔
القدس میں مقیم صحافی ہریندر مشرا نے بتایا ہے کہ حملے کے چار روز گزر جانے کے باوجود، سڑکیں اور گلیوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے’لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں۔ دفاتر، سکول اور بازار وغیرہ سب بند پڑے ہوئے ہیں۔‘انھوں نے بتایا کہ ابھی تک لوگ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر اتنا بڑا حملہ کیسے ممکن ہوا۔’اسرائیل کو اپنی دو باتوں پر بہت ہی فخر ہے، ایک تو اپنی فوج اور دوسری اپنی انٹیلیجینس پر۔ ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی ہے جس پر اسرائیل کو بہت فخر ہے اور وہ ہے اعلیٰ ٹیکنالوجی، جسے وہ ایکسپورٹ بھی کرتا ہے۔‘مشرا کے مطابق ’مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کی وجہ سے اسرائیلیوں کے اپنی فوج، انٹیلیجینس اور اپنی ٹیکنالوجی پر اعتماد کو دھچکا لگا ہے۔ اسرائیلی عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔‘
خیال رہے کہ اسرائیلی بارڈر کے وہ حصے جہاں سے حماس کے جنگجو غزہ سے اسرائیل میں داخل ہوئے، وہاں پر ایسی چوکیاں یا سکیورٹی رکاوٹیں موجود ہیں جہاں کوئی انسانی عملہ نہیں تھا۔یہ چوکیاں جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے بارڈر پر نظر رکھتی ہیں اور وہاں پر کسی بھی قسم کی حرکت کو دیکھنے کے لیے کئی قسم کے سینسرز بھی نصب ہیں۔ٹیکنالوجی کا یہ نظام حال ہی میں ایک ارب ڈالر کی مالیت سے نصب کیا گیا تھا۔اسرائیلی حکام کو یقین تھا کہ سینسرز کی مدد سے تیار کردہ یہ جدید سکیورٹی نظام غزہ سے کسی بھی قسم کی مداخلت کو روکنے میں کامیاب رہے گا لیکن یہ نظام بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب اسرائیل کے سکیورٹی نظام پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ’اب جو خبریں باہر نکل رہی ہیں کہ ان کے مطابق، حماس کے جنگجو سکیورٹی بیرئیرز پر گذشتہ چند ماہ سے حملوں کے لیے اپنی ٹریننگ کر رہے تھے۔’اُن کے ٹریننگ کے لیے بیرئیرز پر جمع ہونے کے اس انداز کو اسرائیلی سکیورٹی حکام سمجھتے رہے کہ حماس کے اہلکار غزہ سے اسرائیل آنے والے فلسطینیوں کے لیے زیادہ سہولتیں اور زیادہ تعداد میں اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کے سکیورٹی چوکیوں پر ہونے والے اجتماع کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔اس طرح اسرائیل کا دفاعی، انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی کا نظام مکمل طور پر ناکام رہا۔
دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی انٹیلی جنس سروسز حماس کی تیاریوں اور منصوبوں کا پتہ لگانے میں ناکام رہی جس نے سرحد کے ساتھ اسرائیلی کارروائیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے میں مہینوں نہیں تو سال گزارے تھے۔اسرائیل کا ہائی ٹیکنالوجی چوکیوں کا نظام حماس نے چند ہی گھنٹوں میں ناکارہ بنا دیا تھا۔ اس نظام کی تعمیر پر اربوں ڈالر لاگت آئی تھی اور اسے سرنگوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔اس حملے نے اسرائیلیوں کا اپنی سلامتی اور فوجی برتری پر اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے اور بظاہر کمزور نظر آنے والے مخالفین کے خلاف ان کی ڈیٹرنس یعنی رعب اور دبدبے کی حکمت عملی کی افادیت اور موثرہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔حماس کے اس حملے نے غزہ میں زمینی کارروائی کے امکانات کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ اسرائیل کو وہاں اپنے یرغمالیوں کے تحفظ پر بھی غور کرنا ہے۔اس حملے نے ظاہر کیا ہے کہ حماس اپنی حکمت عملی کو اپنانے اور اسرائیل کے دفاع کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
