حنا خواجہ کو نجی چینل سے پیسہ لینے کیلئے وکیل کیوں بلانا پڑا؟

معروف اداکارہ حنا خواجہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک چینل سے رمضان ٹرانسمیشن کے پیسے نکلوانے کیلئے انہیں وکیل کی خدمات حاصل کرنا پڑیں، میں نے تمام ٹرانسمیشن بغیر معاوضہ ہی ریکارڈ کرائیں آخر میں چینل نے معاوضے کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لیا۔حنا خواجہ بیات نے ندا یاسر کے مارننگ شو میں شرکت کی، جہاں کام کے دوران انہوں نے ایک چینل کے ساتھ معاہدہ کیے بغیر کام کیا، انہیں تحریری طور پر معاہدہ دیکھے اور اس پر دستخط کیے بغیر کام نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ٹی وی چینل انتظامیہ پر بھروسے کے تحت ایسا کیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹی وی چینل کے رمضان شو میں وہ بطور مہمان گئی تھیں، جہاں میزبان کو اچانک کیا ہوگیا کہ ان سے شو نہیں سنبھالا جا رہا تھا، جس پر انہوں نے مہمان ہوتے ہوئے میزبانی انجام دی اور پھر پروگرام ختم ہونے کے بعد چینل انتظامیہ نے انہیں ہی پورا مہینہ ٹرانسمیشن مکمل کرنے کی درخواست کی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ ٹرانسمیشن کرنے کے دوران بار بار ٹی وی چینل سے معاہدے اور پیسوں سے متعلق پوچھتی رہتی تھیں اور انہیں ہر بار آسرے دیے جاتے تھے کہ آج یا کل تک معاہدہ ہوجائے گا اور آپ کو پیسے بھی مل جائیں گے بلآخر 27 رمضان کو چینل انتظامیہ کو معاہدہ لانے کا کہا، دوسری صورت میں پروگرام نہ کرنے کی دھمکی دی، جس پر انہیں معاہدہ دکھایا گیا، جس پر صرف ان کے ہی دستخط تھے، چینل کی جانب سے کسی نے بھی دستخط نہیں کیے تھے۔حنا خواجہ کا کہنا تھا کہ یوںہی انہوں نے معاہدہ کیے بغیر اور پیسے نہ ملنے کے باوجود پورا مہینہ پروگرام کیا اور پھر بار بار چینل والوں سے پیسوں کا پوچھتی رہیں لیکن ڈیڑھ سال تک انہیں ٹالا جاتا رہا، شوہر کی مدد سے معاملے پر ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے انہیں چینل کو واٹس ایپ میسیجز اور ای میل کے اسکرین شاٹ ڈاک کی صورت میں بھیجنے کا مشورہ دیا لیکن اس کا بھی چینل والوں پر کوئی اثر نہیں پڑا، وکیل نے چینل والوں کو کال کرکے قانونی کارروائی کی دھمکی دی، جس پر چینل انتظامیہ معاوضہ دینے پر رضامند ہوئی اور انہیں قسطوں میں پیسے دیئے گئے۔ مجموعی طور پر چینل انتظامیہ نے انہیں ڈھائی سال بعد قسطوں میں اس وقت معاوضہ دیا، جب انہوں نے چینل کے خلاف قانونی کارروائی کی، اداکارہ نے کسی بھی چینل کا نام نہیں بتایا اور نہ ہی اپنی رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات بتائیں۔

Back to top button