حکمرانوں کے قصیدہ گو مولانا طارق جمیل کیسے ایکسپوز ہوئے؟

ماضی میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو ملکی بقا کا ضامن اور وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان کی آخری امید قرار دینے والے مولانا طارق جمیل اپنی دہائیوں پرانی اورآزمودہ خوشامدانہ پالیسی کے عین مطابق آج کل وزیر اعظم عمران خان کی ستائش میں زمیں آسمان ایک کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنی تازہ ترین سیاسی دعا میں بھی مولانا طارق جمیل نےکپتان کی خوشامد کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ عمران خان کو پاکستان کی صورت میں جو اجڑا ہوا چمن ملا تھا اس کو آباد کر دے۔
خود کو غیر سیاسی کہنے والے مولانا طارق جمیل آج کل نہ صرف کپتان کی مدح سرائی میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں بلکہ ان کی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ مولانا کے کچھ تازہ ترین بیانات اور تقاریر سنیں تو صاف لگتا ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے رنگ میں رنگتے جا رہے ہیں اور تبلیغی جماعت سے تعلق ہونے کے باوجود بغیر کسی ثبوت کے کپتان کے ناقدین پر الزام تراشیاں بھی کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کوئی موقع محل دیکھے بغیر دعا کے دوران بھی وزیراعظم کی کاسہ لیسی اور ان کے مخالفین کے لتے لینے شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی وہ پرویز مشرف اور نواز شریف دور میں بھی کیا کرتے تھے۔
اپنی اس روش کا عملی مظاہرہ مولانا نے 23 اپریل کی شام وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں احساس ٹیلی تھون کے دوران دوبارہ کیا جہاں وزیراعظم کے کرونا ریلیف فنڈ کے لیے پیسہ اکٹھا کرنے کے لئے پاکستان کے دس بڑے ٹی وی چینلز کے پرائم ٹائم اینکرز ز بھی موجود تھے۔ ٹیلی تھون کے اختتام پر جب مولانا سے دعا کروانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے اپنی 30 منٹ طویل سیاسی دعا کے دوران اسی میڈیا کو اپنے نشانے پر رکھ لیا جس کے نمائندے ٹیلی تھون ریلیف فنڈ کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں موجود تھے۔ مولانا نے کپتان کو خوش کرنے کے لیےان کے ناقد میڈیا کو ہدف تنقید بنایا اور یہ فتویٰ جاری کر دیا کہ جتنا جھوٹ میڈیا پر بولا جاتا ہے کہیں اور نہیں بولا جاتا اور یہ کہ اسی وجہ سے ملک کے لیے بڑے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ پھر سستی شہرت کے پیاسے مولانا نے یہ دعویٰ بھی کر ڈالا کہ ایک ٹی وی چینل کے مالک نے انہیں ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر چینل پر جھوٹ نہ چلایا جائے تو وہ چل ہی نہیں سکتا۔ تاہم مولانا نے یہ الزام لگاتے وقت مذکورہ ٹی وی چینل کے مالک کا نام نہیں بتایا۔ اپنی تمام تر الزام تراشی کے بعد مولانا نے آدھ گھنٹہ طویل ایک سیاسی دعا کروائی اور یوں یہ ٹیلی تھون تین ارب روپے اکٹھے کر کے اختتام پذیر ہوگیا۔
مولانا طارق جمیل تو اپنی سیاسی دکان چمکا کر چلتے بنے لیکن میڈیا کی جانب سے جواب تو آنا تھا۔ چنانچہ اسی رات جیو ٹی وی پر معروف اینکر پرسن حامد میر نے اپنے پروگرام کیپیٹل ٹاک کا آغاز ہی مولانا طارق جمیل کے اس الزام سے کیا جو انہوں نے میڈیا پر لگایا تھا۔ حامد میر نے کہا کہ مولانا نے دعا کے دوران میڈیا کے بارے میں کچھ ایسی باتیں کیں جن سے غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ دعا کے بعد پروگرام ختم ہو گیا اس لیے میڈیا کے پاس دفاع یا وضاحت کا موقع نہیں تھا۔ پھر حامد میر نے یہ کہہ دیا کہ جو بھی شخص میڈیا پر بیٹھ کر جھوٹ بولتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ انکا اصرار تھا کہ مولانا کو اس ٹی وی چینل کے مالک کا نام بتانا چاہیے جس نے ان سے کہا تھا کہ کوئی بھی چینل جھوٹ کے بغیر نہیں چل سکتا کیونکہ یہ بات میڈیا اخلاقیات کے منافی ہے۔ حامد میر نے مزید کہا کہ مولانا طارق جمیل کو ایک مذہبی رہنما ہونے کی حیثیت سے بھی پوری بات کرنی چاہیے اور اگر کسی میڈیا مالک نے یہ گھٹیا بات کی ہے تو پھر وہ اس کے نام پر پردہ کیوں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا طارق جمیل آئندہ جب ایسا الزام لگائیں تو نام لینے کی جرات بھی کریں، سب کے بارے میں غلط فہمی پھیلانا ٹھیک نہیں ہے۔
حامد میر نے مزید یہ بھی کہا کہ مولانا طارق جمیل جو اچھی باتیں آج وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کر رہے ہیں، یہ وہی باتیں ہیں جو وہ نوے کی دہائی میں تب کے وزیراعظم نواز شریف کے لیے ان کے کابینہ اجلاس میں شریک ہو کر بھی کیا کرتے تھے۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ مولانا طارق جمیل ایک سیاسی مولوی ہیں اور اہل اقتدار سے دیرینہ تعلقات ان کی کمزوری ہیں چاہے وہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف ہو، نواز شریف ہو یا عمران خان، اقتدار کے ایوانوں میں بلا روک ٹوک آنے جانے کیلئے وہ کسی بھی حکمراں کو مرد آہن، مرد مومن، یا ریاست مدینہ کا اصل امین قرار دینے سے نہیں چوکتے۔
مولانا اتنے سادہ ہیں کہ دعا کرتے ہوئے بھی اللہ تعالی کو اپنی صفائی پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے کبھی دین نہیں بیچا۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جو یہ مولانا ماضی میں حل نہ کر چکے ہوں۔ جب جنرل مشرف پر پے در پے قاتلانہ حملے ہوئے اور پتہ چلا کہ مخبری اندر سے ہو رہی ہے تو مولانا نے روحانی طور پر مخبروں کا پتہ لگانے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور یوں انکا اقتدار کے ایوانوں میں آنا جانا شروع ہو گیا۔ پھر جب ایف بی آر میں کرپشن کا دور دورہ ہوا تو ادارے نے اپنے افسروں کو راہ راست پر لانے اور انکے اندر کا ایماندار مسلمان جگانے کے لیے اپنے سارے دفاتر میں مولانا طارق جمیل کا خطاب کروانا شروع کردیا۔ اسی طرح جب پاکستان کرکٹ ٹیم میچ فکسنگ الزامات کا شکار ہونا شروع ہوئی تو مولانا طارق جمیل نے اسکی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور پھر پوری کی پوری ٹیم کا ایسا بیڑا غرق ہوا کہ ہر دوسرا کھلاڑی تبلیغی بن گیا۔ پھر وہ وقت آیا کہ کپتان انضمام بھی تبلیغی ہو گیا اورغیرتبلیغیوں کے لیے ٹیم کے دروازے بند کردئیے گئے اور سلیکشن کے لیے پرفارمنس کی بجائے تبلیغی ہونا ضروری قرار پایا۔
نواز شریف جب جب ملک کے وزیراعظم بنے، مولانا طارق جمیل مفت کے مشورے لیے ان کے آس پاس گھومتے پائے گئے۔
ان کی قربت کا یہی عالم وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے ساتھ بھی تھا۔ جب بیگم کلثوم نواز کو گلے کا کینسر ہوا تو مولانا طارق جمیل باقاعدگی کے ساتھ رائیونڈ جاتے اور ان کی صحت یابی کے لیے وظیفے پڑھتے۔ جب بیگم کلثوم نواز کا انتقال ہوا تو ان کی نماز جنازہ بھی مولانا طارق جمیل نے ہی پڑھائی اور زاروقطار روتے رہےلیکن یہ شاید پہلا موقع تھا کہ پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر مولانا طارق جمیل لائیو روئے اور کپتان کی کامیابی اور انکے اجڑے چمن کو آباد کرنے کے لیے دعا کروائی۔
یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مولانا طارق جمیل فلمی ستاروں کے بھی اتنے ہی قریب ہیں جتنا کے تبلیغی جماعت کے۔ مولانا صبح و شام لولی ووڈ انڈسٹری کی اداکاراؤں کو شادی اور طلاق کے حوالے سے مفت مشورے دیتے نظر آتے ہیں۔ کبھی وہ وینا ملک کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے نظر آتے ہیں تو کبھی حمائمہ ملک کو۔ وہ کبھی کسی خاتون کو ویڈیو کال پر اپنے درشن سے فیضیاب کرواتے ہیں تو کبھی طوائفوں کو سدھارنے کا بیڑا اٹھائے نظر آتے ہیں۔ یعنی وہ میڈیا لائم لائٹ میں آنے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ میڈیا کے اسی اوور ایکسپوژر نے مولانا کا اصل چہرہ بھی عوام کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
