حکومتی اتحادی ایم کیوایم پاکستان کا شیرازہ بکھرنے لگا

ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کو فارغ کر کے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں بنائی جانے والی کپتان حکومت کی اتحادی ایم کیو ایم پاکستان کا شیرازہ اب تیزی سے بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ مہاجر پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرونی انتشار کے باعث خالد مقبول صدیقی قیادت متنازعہ ہو گئی ہے اور ان کی اپنی جماعت پر گرفت کمزور ہو گئی ہے جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے 5 سے زائد ممبران اسمبلی نے سینیٹ الیکشن کے لیے اپنے ووٹوں کا سودا کرلیا ہے جبکہ مزید ممبران بھی بکنے کو تیار ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں شدید اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ ئے جب سینیٹ کے الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے لیے فیصل سبزواری، روف صدیقی، ظفر کمالی، خالدہ طیب اور عبدالقادر خانزادہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے گئے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان 5 امیدواروں کی حمایت میں ایم کیو ایم پاکستان کے صرف تین اراکین اسمبلی ان کے ساتھ الیکشن کمیشن پہنچے۔ اس کےمقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر پوری سندھ کابینہ بمعہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور تمام اراکین سندھ اسمبلی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم پر ایم کیو ایم پاکستان بری طرح تقسیم اور گروپ بندیوں کا شکار ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مہاجر پارٹی میں اس وقت دو بڑے گروپ بن چکے ہیں اور دونوں ہی اپنے ساتھیوں کو سینیٹر منتخب کروانا چاہتے ہیں۔ عامر خان گروپ کے امیدواروں میں فیصل سبزواری، روف صدیقی ، عبدالقادر خانزادہ، کشور زہرا، اقبال قادری اور خواجہ سہیل منصور شامل ہیں جبکہ خالد مقبول صدیقی گروپ سے شہاب امام، خالدہ طیب، سبین غوری، اور نسرین جلیل سینیٹ الیکشن میں امیدوار ہیں۔ ذرائع کی مطابق دونوں گروپس ایک دوسرے کے امیدواروں پر اعتراضات کررہے ہیں ،خصوصا عامر خان گروپ کے سرکردہ فیصل سبزواری اور خواجہ اظہار خالد مقبول صدیقی اور فروغ نسیم کے دوست شہاب امام کو کسی بھی صورت میں سینیٹ کا الیکشن لڑنے سے روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ عامر خان گروپ کا خیال ہے کہ شہاب امام دوسرے فروغ نسیم ثابت ہونگے جو الیکشن تو ایم کیو ایم کے ٹکٹ سے جیتے مگر خود کو ایم کیو ایم کا مانتے ہوئے شرماتے ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں عامر خان اور خالد مقبول صدیقی نے مل کر ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ سے علیحدہ کر دیا تھا جس کے بعد خالد مقبول صدیقی کو کنوینر بنا دیا گیا تھا تاہم اب عامر خان اور خالد مقبول صدیقی میں بھی اختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور اب دونوں دھڑے ایک دوسرے کے خلاف چل رہے ہیں۔
دوسری جانب سابق میئر وسیم اختر بھی اپنی جماعت کا ایک علیحدہ دھڑا لے کر چل رہے ہیں اور سینیٹ کی نشست کے لئے پاگل پن کی حد تک سنجیدہ ہیں۔ تاہم متعدد اخلاقی اور مالی اسکینڈلز میں ملوث ہونے کی وجہ سے پارٹی کے دونوں دھڑوں میں ان کی زبردست مخالفت ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے آخری اجلاس کے دوران جب وسیم اختر نے سینٹ کا ٹکٹ مانگا تو انکی منہ پر ہی مخالفت کر دی گئی جس پر وسیم نے دھمکی دی کہ اگر ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تو وہ بہ ظاہر نیک اور پارسا اور نستعلیق کرتا پاجامہ پہننے والے مہاجر رہنماووں کے پول کھولنا شروع کردیں گے۔ ایم کیو ایم کے ایک اور کردار حیدر عباس رضوی کو بھی کراچی کی مہاجر سیاست میں سرگرم کرنے کے خواب دکھا کر پاکستان لایا گیا تھا لیکن اب عامر خان گروپ سے جھگڑ کر وہ بھی گھر بیٹھ چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں کارکنان کی سطح پر بھی شدید بے چینی ہے اور جماعت کے اندر موجود ایک حلقہ یہ الزام بھی لگا رہا ہے کہ ایم کیو ایم کے بیشتر اراکین صوبائی اسمبلی نے بیرون خانہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سینیٹ الیکشن میں اپنے ووٹوں کا معاملہ طے کر لیا۔ یہ بھی کہا جا رہا یے کہ عامر خان خود بھی سینیٹ کا الیکشن لڑنے کے متمنی تھے لیکن اپنے ممبران اسمبلی کے ارادے دیکھ کر انہوں نے خود کو سینیٹ الیکشن سے دور کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد پر سینیٹ الیکشن کو لے کر اراکین رابطہ کمیٹی اور دونوں گروپس کے رہنماووں میں شدید تناو والا ماحول ہے اور کئی مواقعوں پر دونوں گروپس کے رہنماووں میں شدید تلخ کلامی ہو چکی ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ ٹکٹوں کی تقسیم پر شروع ہونے والا تنازعہ فوری حل ہوتا نظر نہیں آتا اور کوئی بعید نہیں کہ بات اب ہاتھا پائی تک پہنچ جائے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم میں اپنی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو سہارا دینے کے لیے خالد مقبول صدیقی عامر خان سے راستے جدا کرلیں اور ڈاکٹر فاروق ستار کو واپس لے آئیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینر شپ سے ہٹائے جانے کے بعد نہ تو پارٹی چھوڑی ہے اور نہ ہی اپنا کوئی علیحدہ گروپ بنایا ہے۔
