حکومتی صفوں میں موجود تمباکو فروش مافیا کی ٹیکس چوری

حکومتی صفوں میں تمباکو فروش مافیا کی موجودگی کی وجہ سے سگریٹوں پر ٹیکس چوری جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دعوے کے مطابق ملک میں 98 فیصد ٹیکس ملک کی دو سگریٹ بیچنے والی کمپنیاں دیتی ہیں جبکہ باقی کمنیاں صرف دو فیصد ٹیکس ادا کرتی ہیں لیکن حقائق وزیر اعظم کے دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
حکومت نے سگریٹ کا کم سے کم ریٹ 62روپے 76پیسے طے کررکھا ہے ، سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے حکومت کو ایک پیکٹ پر 42روپے 11پیسے ٹیکس دینا ہوتا ہے، مگرملک بھر میں 30سے 40روپے میں ایک سگریٹ کا پیکٹ فروخت ہورہا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت کیلئے بھیجے گئے سگریٹوں کی بہت کم تعداد پر ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں سستے نرخوں پر سگریٹ دستیاب ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوری میں ملوث سیاسی اثررسوخ رکھنے والے تمباکو مافیا کے لوگ حکومت میں شامل ہیں اوروہ پی ٹی آئی حکومت میں ٹیکس چوری کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر حکومت اپنے ہی فیصلے پر قائم رہتی اور تمام غیر قانونی سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ میں لاتی توتقریباً 35ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوتی لیکن سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر ایس نہیں ہو سکا کیونکہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والےخیبر پختونخواہ کے ایک سنیئر صوبائی وزیر کی کمپنی کے 7سگریٹ برانڈ ہیں جو مارکیٹ کا 2فیصد حصہ ہیں، حکومت نے گرین لیف تھرشنگ پلانٹ میں عمل سے گزرنے کے بعد فی کلو تمباکو پر 300روپے ٹیکس لگایا۔
ذرائع کے مطابق مارکیٹس میں کئی درجن ایسے برانڈز موجود ہیں جن کے پیکٹس پر قیمت تو 62روپے 76پیسے درج ہے مگر وہ 31 سے 40 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ کئی مقامات پر سگریٹ کی ڈبوں پر پچھلے سال کی قیمتیں درج ہیں،یعنی مارکیٹ گزشتہ سال کے ریٹس سگریٹس فروخت ہورہے ہیں،حالانکہ سیگریٹ بنانے والی کمپنیاں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ ہرسال نئی قیمت اور نئی وارننگ کے ساتھ سگریٹ مارکیٹ میں فروخت کرے گی،مگر اس پابندی کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
معروف اینکرشاہزیب خانزادہ کے مطابق قانون کے مطابق مہنگی کیٹگری کے ایک ہزار سگریٹ کی کم سے کم قیمت 5ہزار 9سو60روپے ہوگی یعنی اس کیٹگری کے ایک سگریٹ کی قیمت کم سے کم 5روپے 96پیسے بنتی ہےاس کا مطلب ہے 20سگریٹ کا ایک پیکٹ کم سے کم 119روپے کا ہوگاقانون کے مطابق،اس مہنگی کیٹگری کے 1ہزار سگریٹ پر 5ہزار 200روپے ڈیوٹی ہوگی،یعنی ایک سگریٹ پر 5روپے 20پیسے کی ڈیوٹی ہوگی اور20سگریٹ کے پیکٹ پر 104روپے ڈیوٹی دینا ہوگی۔ مہنگی کیٹگری کا سگریٹ کاپیکٹ کم ازکم 119روپے کا ہوگااور اس پر سگریٹ بنانے والی کمپنی کو 104روپے ڈیوٹی دینا ہوگا اسی طرح سستی کیٹگری میں ایک ہزار سگریٹ کی قیمت5ہزار 9سو 60روپے سے کم ہوگی یعنی 119روپے فی پیکٹ سے کم کے سگریٹ کا شمار سستی کیٹیگری میں ہوگا۔ اس کیٹیگری کے ایک ہزار سگریٹ پرایک ہزار 6سو50روپے ڈیوٹی دینا ہوگی، یعنی ایک سگریٹ پر ایک روپے 65پیسےاور20سگریٹ کے پیکٹ پر 33روپے کی ڈیوٹی دینا ہوگی،پروگرام میں مزید بتایا گیا کہ حکومت نے سگریٹ کی کم سے کم کا بھی تعین کیا ہوا ہے، قانون کے مطابق کسی بھی سگریٹ کے برانڈکی قیمت سیلز ٹیکس کے علاوہ کالم ٹو میں موجود سگریٹ کی ریٹیل پرائس کے 45فی صد سے کم نہیں ہوگی ۔
کالم ٹو کے مطابق مہنگی کیٹیگری کے سگریٹ کی قیمت 119روپے فی پیکٹ بنتی ہے ،اور اس کا45فی صد53روپے64پیسے بنتا ہے،پھر اس پیکٹ پر ٹیکس بھی لگتاہے، سگریٹ کے ایک ڈبے پر 17فی صد سیلز ٹیکس یعنی 9روپے 12پیسے ادا کرنا ہوتا ہےیعنی سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو 33روپے ڈیوٹی اور 9روپے 12پیسےتو ٹیکس کی مد میں ادا کرنے ہوتے ہیں اور سستی کیٹیگری کے سگریٹ کا ایک پیکٹ62روپے 76پیسے سے کم کا فروخت نہیں ہوسکتا جبکہ ملک بھر میں کھلے عام30سے 40روپے میں سگریٹ فروخت ہورہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی کمپنیاں جو حکومت کے فکس کردہ ٹیکس سے کم قیمت میں سیگریٹ فروخت کررہی ہیں ،یعنی ٹیکس چوری کرکے سیگریٹس بیچ رہی ہیں،ان کے مالکان میں اہم سیاستدان بھی ہیں،اور یہ لابیز ہمیشہ حکومت کے قریب ہوتی ہیں جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سیاستدان اس وقت حکومت میں بھی موجود ہیں۔ خودحکومتی جماعت کے ایک سینیٹر اور خیبر پختون خوا کے صوبائی وزیر کی کمپنی کم سے کم 7 قسم کے سیگریٹ برانڈز فروخت کر رہی ہے ،جو مارکیٹ میں 40 روپے یا اس سےکم میں بک رہی ہیں،اور یہ 7 برانڈز مارکیٹ کاتقریباً 2فی صدشیئر کور کرتی ہیں،صرف یہی نہیں سگریٹس کے ان 7 برانڈزکیساتھ اور بھی کئی سیاسی وابستگیاں ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کیساتھ سینیٹ کے ممبرز ۔ سینیٹ کی اسٹیندنگ کمیٹی کے ارکان اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے ارکان بھی اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں، یہ بااثر افراد ہیں، جو حکومت پر اثرا نداز ہوتے ہیں، ایسا ہی تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ بھی ہوا۔
حکومت نے کوشش کی کہ کسی طرح غیر قانونی طور پر سگریٹ تیار کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ میں لایاجائےتو پھر یہ بااثرافراد سرگرم ہوئے اور حکومت پر اثر اندا ز ہوئےاور حکومت اپنے ہی فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی ایک اندازے کے مطابق ملک میں تمباکو کی پیداوار 70ملین ٹن ہے،اس میں سے 43ملین ٹن فارمل سیکٹر خریدتا ہے،تو سوال اٹھتا ہے کہ باقی 27ملین ٹن کہا جاتا ہے؟اس سے سگریٹ تیار ہوتا ہے،اور فروخت بھی ہوتا ہے،مگر کاغذات میں نہیں آپاتا اس پر ٹیکس نہیں لگ پاتا۔ کچھ مافیاز اس سے فائدہ اٹھالیتی ہیں اورپھر سستا سگریٹ بیچتی ہیں،حکومت کی طرف سے ایک کلو تمباکو پر 300روپے کا ٹیکس لگایا گیا ہے تاکہ ٹیکس چوری کا خاتمہ ہو جبکہ پہلے 10روپے کا ٹیکس تھاملک میں سگریٹ تیار کرنے والی درجنوں کمپنیاں ہیں،مگر ان میں کچھ قانونی طریقے سے کام کررہی ہیں اور کچھ غیرقانونی۔۔۔ قانونی طریقے سےقانونی طور پر سگریٹ تیارکرنے والی کمپنیاں اپنا کام قاعدہ اور قانون کے مطابق کرتی ہیں اور حکومت کو ٹیکس دیتی ہیں۔ ان کمپنیوں کو 300روپے فی کلو لیوی ٹیکس پر کوئی اعتراض بھی نہیں تھاکیوں کہ یہ قابل واپسی ٹیکس ہے،جو حکومت کلیم کرنے پر واپس کردیتی ہے۔یعنی ٹیکس ادا کریں،سگریٹ بیچیں ، باقی سارے ٹیکس ادا کریں اور پھر بعد میں حکومت سے وہ ٹیکس کے پیسے واپس لے لیں مگر جو کمپنیاں سگریٹ تیارتوکرتی ہیں۔ مگر ٹیکس نہیں دیتیں بیچتی زیادہ ہیں مگر دکھاتی کم ہیں۔ٹیکس سے بچنے کے لیے حقیقت کو چھپاتی ہیں ،یہ کمپنیاں کتنا تمباکو خریدتی ہیں ،کتنے سگریٹ تیار کرتی ہیں ،اس حوالے سے سچ نہیں بتاتی،کیوں کہ اگر سچ بتائیں گی تو پھر انہیں پوراٹیکس دینا پڑے گا۔ اس حوالےسے تحریک انصاف کی حکومت نے گرین لیف تھرشنگ پلانٹ میں ہونے والے عمل سے گزرنےکے بعدفی کلو تمباکو پر 300روپے کا ٹیکس لگادیا،ملک بھرمیں ہزاروں تمباکو کے کاشت کار ہیں،اور درجنوں سگریٹ بنانے والےمگرگرین لیف تھریشنگ پلانٹ صرف 10 ہیں،اور اس عمل سے گزرے بغیر سگریٹ بن نہیں سکتا۔ اس پورے عمل سے حکومت کو یہ پتا چل جاتا تھا کہ کس کمپنی نے کتنا تمباکو لیااور اس حساب سےکس کمپنی نے کتنا سگریٹ تیار کیا ہےاورمارکیٹ میں بیچا اور کتنا ٹیکس دیا ہے،یعنی ٹیکس چوری مشکل ہوگئی۔کیوںکہ جب حکومت کو یہ پتا چل جائے گا کہ آپ نے کاشت کار سے کتنا تمباکو لیا ہے توحکومت کو یہ بھی پتا چل جائے گا کہاس تمباکو سے آپ نے کتنے سگریٹ بنائےاور مارکیٹ میں بیچے اور پھر ان پر کتنا ٹیکس دیااور ٹیکس چوری کی صورت میں فائدہ کم نظر آنے لگاحکومتی فیصلے کے بعد یہ توقع کی جانے لگی کہ اب تمباکو کی صنعت میں ٹیکس چوری نہیں ہوپائے گی اور یہاں سے اضافی30سے 35ارب روپے ٹیکس ملے گا،اور مافیا کی کمر ٹوٹ جائے گی مگر بعد میں تمباکو مافیا سرگرم ہواسگریٹ کی غیر قانونی فروخت میں ملوث سیاست دانوں نے اپنا سیاسی اثر استعمال کیا، پھر اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی کا اجلاس13جون کو ہوا،جس میں خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی شریک ہوئے،اس اجلاس میں خیبر پختون خوا سے ہی تعلق رکھنے والے وزراء بھی شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں اس وقت کے وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہراور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی بھی شریک ہوئے ،اس اجلاس میں یہ کہا گیا کہ ایف بی آر۔۔ تمباکو کے کاشت کاروں کو ریلیف فراہم کرے،کیوںکہ ہزاروں خاندان تمباکو کے کاروبار سے منسلک ہیں یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ٹیکس کاشت کاروں کو دینا پڑے گا،ساتھ ہی اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اراکین نے ایف بی آر کو کہا کہ وہ تمباکو کی پیداوار کے علاقے کی پولیٹکل اکانومی کو نظر انداز نہ کرے۔ تحقیقات کے مطابق ان سیاسی افراد نے مل کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ٹیکس کاشت کاروں پر لگ رہا ہے،اور غریب کاشت کار اس سے متاثر ہورہے ہیں،مگر ایسا ہےنہیں،جب یہ ٹیکس لگانے کا فیصلہ ہوا،تو اس وقت یہ واضح کردیا گیا کہ اس ٹیکس کابوجھ سگریٹ تیار کرنے والوں پر پڑے گا،نہ کہ کاشت کاروں پر۔
قانونی دستاویزات میں یہ لکھا گیاتھا کہ اس ٹیکس کا اثرکسی بھی صورت میں کاشت کاروں پر نہیں پڑے گاپھر اس وقت کے وزیرمملکت حماد اظہر نے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئےیہ ٹیکس واپس300روپے سے 10روپے کرنے کا اعلان کردیا۔ اگر حکومت اپنے ہی فیصلے پر قائم رہتی اور تمام غیر قانونی سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ میں لاتی توتقریبا 35ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوتی،مگر حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹی اور اب وزیراعظم عمران خان اسی سیکٹر میں ٹیکس ادائیگی کی مثالیں دے رہے ہیں۔
