حکومتی وزیر کی مولانا فضل الرحمٰن کو بات چیت کی پیشکش

تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ اگر جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کوئی مسئلہ ہے تو ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مولانا کا ایجنڈا واضح نہیں ہے کہ مارچ کس لیے کرنے جا رہے ہیں؟ وہ جا کر لائن آف کنٹرول پر دھرنا دیں، حکومت ان کا ساتھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز خود ہی کہا تھاکہ نہ کسی کو مجاز ٹھہرایا ہے نہ کسی کمیٹی کی ضرورت ہے جس طرح کی مولانا کی حکمت عملی ہوگی ویسی ہی حکومت کی ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں کہا تھا کہ کمیٹی کے قیام کی فی الحال ضرورت نہیں، جمعیت علمائے اسلام سے مذاکرات کا آپشن کھلا ہے، اگر کوئی خود بات کرنا چاہے تو دروازے بند نہیں ہیں۔تاہم اب وفاقی وزیر غلام سرور کا کہنا ہے کہ مو لانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے تو ایک لفظ کشمیر پر نہیں بولے، اب اگر دنیا کشمیر پر بات کررہی ہے تو مولانا اس کو خراب نہ کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ فضل الرحمان کو کوئی مسئلہ ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ 19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے۔اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں ملک کو مختلف بحرانوں سے دوچار کردیا گیا ہے، اس وقت پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے نتیجے میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔سربراہ جے یو آئی نے الزام عائد کیا کہ ہم عالمی سازش کا شکار ہیں اور ہمارے حکمران اس کا حصہ ہیں، جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہا تو کشمیر کو کوئی نہیں بیچ سکا لیکن میرے جانے کے بعد کشمیر کا سودا کیا گیا۔
