حکومتی پابندی کے بعد اوورسیز کونسی اشیا لا سکتے ہیں؟

شہباز شریف حکومت کی جانب سے امپورٹڈ لگژری آئٹمز پر پابندی کے بعد بیرون ممالک سے آنے والے مسافر کشمکش کا شکار ہیں کہ کیا وہ بھی اپنے ساتھ ممنوعہ اشیا پاکستان نہیں لا سکتے ہیں، لیکن واضح رہے کہ یہ پابندی اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ہر گز نہیں، اور اوورسیز پاکستانی معمول کے مطابق اپنے ساتھ اشیا لا سکتے ہیں۔
وزارت تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری مجتبیٰ مومن نے بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں پر ایف بی آر کے بیگیج رولز لاگو ہوں گے، کمرشل امپورٹ کے لیے الگ قواعد ہیں جبکہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے ان کی وطن واپسی کی مدت کے مطابق اشیا لانے کے طے کردہ قواعد و ضوابط ہیں۔
ایف بی آر کی ویب سائٹ پر موجود بیگیج رولز میں بیرون ملک سات یا اس سے کم دن رہنے کے بعد واپس آنے والے پاکستانی مسافر اپنے ذاتی استعمال کی اشیا بغیر ڈیوٹی ادا کیے اب بھی اپنے ساتھ لا سکتے ہیں، ان اشیا میں موبائل فون، الیکٹرک شیور، ذاتی کپڑے، زیورات، بچوں کے کھلونے اگر بچہ ساتھ ہو، ذاتی وہیل چیئر، استری، ہیئر ڈرائر اور ہیئر ڈریسر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 200 سگریٹس، 50 سگار، 500 گرام تمباکو، گھڑی، لیپ ٹاپ اور اس کا زیر استعمال چارجر بھی ساتھ لا سکتے ہیں، ایف بی آر کے بیگیج قواعد کے مطابق ایسے مسافر جن کا پاکستان سے باہر آٹھ دن قیام ہو وہ بغیر کوئی ڈیوٹی ادا کیے مندرجہ ذیل اشیا اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔
وہ اشیا جو اوور سیز پاکستانی ملک واپس آتے ہوئے اپنے ساتھ لا سکتے ہیں ان میں ایک ریڈیو اور ایک ٹیپ ریکارڈر، ایک وی سی آر یا ڈی وی ڈی پلیئر یا ملتا جلتا آلہ، ایک عام کیمرہ اور ایک ویڈیو کیمرہ، ذاتی زیورات شامل ہیں۔ تاہم اس فہرست میں ٹی وی، ڈیپ فریزر، واشنگ مشین، ایئرکنڈیشنر، ریفریجریجٹر، مائیکروویو اوون، کوکنگ رینج شامل نہیں ہیں۔ ان اشیا کے علاوہ طے شدہ ڈیوٹی کی ادائیگی پر آٹھ دن سے زائد باہر رہنے والے افراد ٹی وی، ڈیپ فریزر، واشنگ مشین، ایئرکنڈیشنر، ریفریجریجٹر، مائیکروویو اوون، کوکنگ رینج وغیرہ بھی لا سکتے ہیں، ایف بی آر کے ضوابط کے مطابق ایسے پاکستانی جو پاکستان میں مستقل طور پر واپسی کے لیے آ رہے ہوں وہ تمام اشیا جو آٹھ دن سے زائد بیرون ملک قیام کرنے والے افراد کو لانے کی اجازت ہے وہ لا سکتے ہیں، اس کے علاوہ اس کیٹیگری میں شامل پاکستانی مسافر ڈیوٹی ادا کیے بغیر پرانا فرنیچر، کچن کا سامان، برتن، ٹونٹیاں وغیرہ، قالین، پردے، بیڈ شیٹس، کمبل وغیرہ لا سکتے ہیں۔
تاہم اس فہرست میں ٹی وی، ڈیپ فریزر، واشنگ مشین، ایئرکنڈیشنر، ریفریجریجٹر، مائیکروویو اوون، کوکنگ رینج شامل نہیں ہیں، ایسے افراد پانچ ہزار ڈالر تک کی مالیت کے پیشہ ورانہ آلات بھی پاکستان لا سکتے ہیں، ایسے افراد جو ڈاکٹرز ہوں وہ استعمال شدہ طبی آلات جیسا کہ الیکٹرومیڈیکل آلات بھی پاکستان لا سکتے ہیں، اس کیٹیگری میں شامل پولیس، آرمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ بھی لا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ طے شدہ ڈیوٹی کی ادائیگی پر 8 روز سے زائد باہر رہنے والے افراد ٹی وی، ڈیپ فریزر، واشنگ مشین، ایئرکنڈیشنر، ریفریجریجٹر، مائیکروویو اوون، کوکنگ رینج وغیرہ بھی لا سکتے ہیں، حکومت نے جن لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے ان میں گاڑیوں اور موبائل فونز کے علاوہ دیگر کئی اشیا بھی شامل ہیں، ان میں ڈرائی فروٹ، گھریلو استعمال کی اشیا، برتن، ذاتی استعمال کے لیے ہتھیار، جُوتے اور ڈیکوریشن پیسز شامل ہیں۔
