حکومت اداروں کو یرغمال بنا کرسیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرے گی لیکن ہم کسی بھی عبوری حکومت کو قبول نہیں کریں گے، پارٹی کے صدر شہباز شریف اگلے ماہ پاکستان واپس آجائیں گے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اداروں کو یرغمال بنا کر اپنے مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے، نیب اور ایف آئی اے کو خصوصی طور پر مخالفین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ 6 ماہ کی قید اور بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بننے کے بعد آج وکلاء سے ملنے آیا ہوں، اس سخت وقت میں پاکستان بار کونسل اور وکلا نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور انصاف کے حصول میں مدد کی۔
رانا ثنااللہ نے مہنگائی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے کہا کہ مسلم لیگ ن مہنگائی کے اوپر نمبر نہیں بنانا چاہتی، ہم احتجاج کرکے اپوزیشن کو منتشر نہیں کرنا چاہتے. ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مولانا نے احتجاج کا اعلان کیا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی جائے، بقول چودھری شجاعت اور دیگر 6 ماہ بعد کوئی وزیراعظم بننے پر تیار بھی نہیں ہوگا۔
نواز شریف اور شہباز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا آپریشن ہونے جارہا ہے اور شہباز شریف صرف آپریشن کے لیے وہاں رکے ہوئے ہیں، نواز شریف کا آپریشن ہوجائے اس کے بعد شہباز شریف مارچ تک وطن واپس آجائیں گے۔
رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ عمران خان جس حالت میں تقریر کرتے ہیں تو انہیں 4 کا 12 اور کچھ کا کچھ نظر آتا ہے۔
دوسری طرف صدر مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے اپنے خلاف جاری قومی احتساب بیورو(نیب) کی تحقیقات کو چیلنچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما نے قانونی ٹیم سے مشاورت مکمل کرلی ہے اور جلد ہی پٹیشن تیار کرکے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ انہوں نےانسداد منشیات عدالت کے حکم پر نیب کی تفتیش کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے طلبی کے نوٹسز کو چیلنج کریں گے۔ سابق صوبائی وزیر کا موقف ہے کہ انسداد منشیات اور نیب دونوں ادارے وفاق کے زیر سایہ ہیں، ایک ہی وقت میں دونوں ادارے کیسے تحقیقات کر سکتے ہیں۔
نیب رانا ثناء اللہ کے اثاثوں سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے جبکہ انسداد منشیات عدالت نے بھی اثاثے منجمند کرنے کا حکم دے رکھا ہے،، لیگی رہنما کے مطابق نیب نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرکے انہیں شامل تفتیش کیا ہے۔آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب نے لیگی ممبر قومی اسمبلی کو اثاثہ جات فارم مکمل کر کہ پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔نیب نے تحریری جواب طلب کیا ہے کہ جائیدادوں کو بنانے کے لیے پیسے کہاں سے آئے، کاروبار کیسے شروع کیا، کاوربار کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا، خاندان کے دیگر افراد کے اثاثے کتنے ہیں اور ان میں کتنا اضافہ ہوا۔انسداد منشیات فورس نے راناثنا اللہ کیخلاف 1997ء کی دفعات 9 سی، 15 اور 17 کے تحت منشیات اسمگلنگ کا مقدمہ درج کیا ہے۔ انسداد منشیات فورس نے(اے این ایف) نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کو یکم جولائی کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔راناثنا کا موقف ہے کہ ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ منشیات برآمدگی کے ثبوت بھی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے تاہم وہ مذکورہ کیس میں ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button