حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلافات کی افواہیں تیز تر

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پچھلے کئی روز سے پریشان کن افواہوں کی زد میں ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ کہ حکومت اور فوجی قیادت کے مابین ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے ایک اہم ترین فوجی عہدے پر نئی تقرری بھی کی جاسکتی ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا فیصلہ بھی واپس لیا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ قومی اسمبلی تحلیل کی جانے کی افواہیں بھی زیر گردش ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر معاملات زیادہ خراب ہوئے تو وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ بھی لینا پڑ سکتا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد ملک میں انتشار کی فضا پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں لہذا ان پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی نے روزنامہ جنگ میں لکھا ہے کہ ان تمام تر افواہوں کے باوجود حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب تک کسی حکومتی شخصیت نے اس حوالے سے کوئی وضاحت دینا مناسب نہیں سمجھا، حالانکہ صورت حال ناصرف سول حکومت کے لیے حساس ہے بلکہ ملٹری کے لیے بھی یہ حساس معاملہ ہے۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے معاونین بھی، جو عموماً جعلی خبروں بارے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے رہتے ہیں، اس معاملے پر حیرت انگیز طور پر خاموش ہیں۔ ہفتے کے روز مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کو بھی اس افواہ پر بات کرنا پڑی۔ شہباز شریف نے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے عمران خان پر الزام عائد کیا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر تحفظات کے باوجود وہ اداروں کو مضبوط اور طے کردہ نظم و ضبط کا پابند دیکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ پاکستان کے دفاع کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا نے وزیراعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ جس شخص کو یکجہتی کی علامت ہونا چاہئے ، اس نے اس ادارے کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ انہوں نے سوشل میڈیا پر دیکھا ہے۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ کہ وزیراعظم آفس سے ایک مختصر اعلامیے کے ذریعے ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا، جس سے ان افواہوں کو تقویت ملی۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس تقرریوں کے معاملے پر آرمی چیف نے وزیراعظم سے بات چیت کی تھی، جس پر عمران نے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ یہ اصرار کیا گیا تھا کہ جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے آئی ایس پی آر ہی ان تقرریوں کا اعلان کرے گا، جس میں نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری بھی شامل ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ذرائع کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ نوٹیفکیشن کے اجرا اور ٹرانسفر احکامات پر عمل درآمد میں کچھ وقت لگتا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ان کے پاس وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کے مابین ڈی جی آئی ایس آئی تقرری پر مبینہ اختلاف بارے ابھی کوئی معلومات نہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ صرف وزیر اعظم ہاوس ہی عمران خان کی جانب سے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کی منظوری بارے بتا سکتا ہے تاہم، وزیراعظم دفتر نے اس پر لب کشائی نہیں کی۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر یہ افواہیں عام ہیں کہ وزیراعظم عمران خان لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کرنا چاہتے تھے جب کہ جنرل قمر باجوا نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کا نام تجویز کیا تھا۔ انصار عباسی کے مطابق کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ مسئلہ حل ہوچکا ہے اور وزیراعظم ڈی جی آئی ایس آئی کی چند ماہ بعد تبدیلی کے خواہاں تھے۔ لہٰذا ہر بات جو کہی جا رہی ہے وہ تب تک افواہ ہے جب تک متعلقہ دفتر سے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔ انصار کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات رہے ہیں لیکن ایسے امور اور تنازعات کو نظر انداز کرنے سے صورت حال خراب ہوتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ نواز شریف دور میں کیا جانے والا ’’رسوا کن ٹوئٹ، یعنی نوٹیفکیشن مسترد‘‘، سابق ڈی جی، آئی ایس پی آر کی جانب سے کیا گیا تھا جس سے حکومت اور فوج کے مابین تعلقات کشیدہ تر ہو گے تھے۔ آئی ایس پی آر نے یہ نوٹیفکیشن واپس تو لے لیا تھا لیکن اس سے جو نقصان ہوا اس کا مداوا نہیں ہو پایا اور اس معاملے کا اختتام نواز شریف کی وزارت عظمی سے چھٹی پر ہوا لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے حوالے سے پھیلنے والی افواہوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان کا نوٹیفکیشن جاری کر دے۔
