حکومت اورFPCCIکےمابین مفاہمتی یاداشت پردستخط

حکومت اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان اڑان پاکستان پروگرام کے تحت معاشی اہداف کے حصول کے لیے تعاون کے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرلیے گئے۔
ایم او یو پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے دستخط کیے۔
معاہدے کی تقریب میں صدر اسلام آباد چیمبر سردار طاہر، نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارو جدون، چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین سمیت دیگر شرکا موجود تھے۔
ایم او یو کے تحت 2047 تک پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے حکومتی ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت اور صنعت مل کر کام کریں گے۔
اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کے فروغ کے لیے حکومت اور انڈسٹری کے مابین تعاون بڑھایا جائے گا، جبکہ حکومتی معاشی ویژن پر عملدرآمد اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے بھی باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا اور عدم استحکام کے باعث ملک 10 روز قبل ہی انٹرنل ڈیفالٹ کر چکا تھا۔اگر مزید چند ہفتے گزر جاتے تو ملک ایکسٹرنل طور پر بھی ڈیفالٹ کر جاتا۔
احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکال کر استحکام کی طرف لے آئی ہے اور آج دنیا کے تمام بڑے ادارے پاکستان کی معاشی بحالی کا اعتراف کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کو سراہا جا رہا ہے، تاہم ملک کے اندر سیاسی مقاصد کے لیے تنقید کی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے اور ہمیں اپنی معیشت کو ایکسپورٹ پر مبنی معیشت بنانا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے ہر ضلع کے لیے الگ الگ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ پلان تشکیل دیا جائے گا۔
