حکومت آئی ایم ایف کا قرضہ عوام پر کیسے ڈالے گی؟

پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کے لیے پالیسی سطح کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، تجزیہ کاروں اور وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن ہے اور قسط کی ادائیگی آئندہ ماہ دسمبر تک ہوجائے گی۔ تاہم قرض کی قسط کی ادائیگی کیلئے آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈومین کا مطالبہ کر دیا ہے جس پر نگراں حکومت سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے جس سے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کا رگڑا نکل جائے گا۔

تاہم عوامی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے سے عام آدمی کو کیا ریلیف ملے گا اور کیا کسی صورت مہنگائی میں بھی کمی واقع ہوگی؟ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق 70 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے کے بعد آئی ایم ایف کی شرائط کو بھی پورا کرنا ہوگا یعنی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا جس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قسط ملنے سے ڈالر کی قدر میں کمی ہوگی جس سے مہنگائی میں بھی کمی واقع ہوگی۔

سینیئر صحافی و معاشی تجزیہ کار مہتاب حیدر کے مطابق آئی ایم ایف ڈیل کا سب سے بڑا نقصان پاکستانی عوام کو یہ ہے کہ حکومت کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا، قیمتیں مزید بڑھانے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا، اگر عالمی منڈی میں خام تیل اور پاکستان میں زیادہ استعمال ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات سے بھی مہنگائی بڑھے گی، حکومت پاکستان اور عوام کے ریلیف کے لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر مہنگائی کم ہو، دوسرا یہ کہ پاکستان اپنی زراعت کو بہتر کرکے اشیائے خورونوش کا امپورٹ بل کم کرلے، تیسرا یہ کہ ہم اپنے ایکسچینج ریٹ کو نیچے رکھیں، اگر یہ 3 کام ہم کر لیں تو مہنگائی میں کمی واقع ہوگی۔

مہتاب حیدر نے کہا کہ چونکہ حکومت نے ابھی گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانی ہے تو ایک مرتبہ پھر سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا لیکن نیا سال شروع ہونے کے بعد توقع ہے کہ ڈالر کی قیمت بھی نیچے آئے گی اور مہنگائی میں بھی ہو سکتا ہے کچھ کمی واقع ہو۔

دوسری جانب ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان کے لیے ایک انتہائی ضروری ادارہ بن گیا ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے ملنے والی 700 ملین ڈالر کی قسط بیرون ملک سے بائلیٹرل فلوز، کمرشل فلوز اور جنیوا میں پاکستان کے لیے اعلان کردہ فنڈز سمیت تمام رقوم کو پاکستان لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ آئی ایم ایف کی قرض کی قسط کی منظوری سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اصلاحات کے رستے پر ہیں۔

ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ جہاں تک عام لوگوں کا اس قرض کی قسط سےتعلق ہے تو آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں قیمتوں کے بڑھنے کی شرح کم ہوگی، بیرونی شعبہ سے ڈالر آنے سے پاکستانی روپے کو بھی تقویت ملے گی جس سے امپورٹڈ انفلیشن کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، پاکستان کے معاشی حالات کو استحکام دینا ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں اور ملک میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوسکیں۔

تاہم معاشی تجزیہ کار شعیب نظامی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی قسط کے ملنے سے عام آدمی کو نہیں بلکہ حکومت کو فائدہ ہو گا کیونکہ حکومت کو جو قرض واپسی کے لیے ادائیگیاں کرنی ہیں، اسے اس میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قسط ملنے کے بعد ڈالر کی قدر نہیں بڑھے گی البتہ اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی موجودہ شرح کسی حد تک کم ہو جائے گی لیکن ایک 2 ماہ بعد زیادہ مہنگائی ہو جائے گی جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔شعیب نظامی نے کہا کہ جنوری میں ایک مرتبہ پھر سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، اس کی وجہ سے صنعتی پیداوار کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ 70 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے سے فوری طور پر کچھ عرصہ کے لیے مہنگائی کی شرح کم ہوجائے، کچھ اشیا سستی ہو جائیں، لیکن لانگ ٹرم میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

Back to top button