حکومت اپوزیشن کی کڑکی میں پھنس گئی، نیب قوانین پر بارگین

اپوزیشن جماعتوں نے نیب کے استحصالی قوانین کو ختم کرنے کی شرط پر حکومت کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کی ہدایت کے مطابق نئی قانون سازی میں تعاون کا عندیہ دے دیا ہے۔ تاہم نیب قوانین میں تبدیلی سے متعلق حکومتی تجاویز پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات فی الحال دور نہیں ہوسکے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے معاشی مسائل کے حل اورعالمی برادری کے خدشات دور کرنے کے لئے تحریک انصاف حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بارگیننگ کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے نئی قانون سازی پر اپوزیشن نے اس شرط پر حکومت کا ساتھ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ نیب قوانین کی متنازعہ اور استحصالی شقوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے مطابق پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لئے بڑے پیمانے پر نئی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں ڈال دیا جائے گا۔ ایسے میں حکومت کے لئے بڑا چیلنج پارلیمنٹ سے نئے قوانین کی منظوری ہے تاہم اس کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔ ایسے حالات میں اپوزیشن نے صرف اس شرط پر قانون سازی میں معاونت کا یقین دلایا ہے کہ نئے نیب قوانین اپوزیشن کی مشاورت سے بنائے جائیں گئے اور ساتھ ہی نیب قانون کی متنازعہ شقوں کو بھی یکسر ختم کردیا جائے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر واقعی نیب کو خصی کرنے کا یہ معرکہ سر ہوگیا تو نہ صرف ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار بھی پاکستان کی گردن سے ہٹ جائے گی بلکہ نیب قوانین میں تبدیلیوں کے بعد سیاسی فضا خوشگوار ہونے اور معاشی سرگرمیوں میں بھی تیزی آنے کا امکان ہے۔ تاہم بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فی الحال حکومت اور اپوزشن جماعتیں نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے متفق نہیں ہوسکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بڑے معاشی اورسیاسی مقاصد کے حصول کے لئے پہلا اقدام نیا نیب قانون منظور کرنا ہے جو شاید بالکل ویسا ہی ہوگا جو پی ٹی آئی نے گزشتہ سال منظور کیا تھا لیکن یہ قانون اپنی چار ماہ کی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ختم ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ حکومت نے نیب کے ترمیمی آرڈیننس 2019 کے خاتمے کے بعد آرڈیننس 1999 میں ترمیم کرنے لے لیے بھی بل کا ایک نیا مسودہ تیار کیا تھا جسے گزشتہ سال دسمبر میں صدر عارف علوی نے پیش کیا تھا جس کا مقصد بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور تاجروں کے خلاف کارروائی سے متعلق نیب کے اختیارات میں کمی لانا ہے۔
26 اپریل کو نیب آرڈیننس 2019 کے ختم ہونے کے بعد حکومت نے نیا مسودہ تیار کرنے اور اس پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس آرڈیننس کو ناقدین نے تاجروں، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے لیے ‘تمام این آر اوز کی ماں’ قرار دیا تھا یہاں تک کہ اپوزیشن نے ابتدا میں اس کی مخالفت کی تھی لیکن بعد میں اس پر بحث کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ بیٹھنے پراتفاق کیا تھا۔ حالیہ پیشرفت میں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کے ساتھ مجوزہ قانون سازی سے متعلق رابطوں کی بھی تصدیق کی ہے، جس میں ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی شق واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے بلکہ حزب اختلاف کی تجاویز پر غور کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نیب ترامیم میں توجہ احتساب کا ایک ایسا عمل کو جاری رکھنے پر ہوگی جن سے وہ تمام شقیں خارج کی جائیں گی جن کا نیب نے انتہائی غلط استعمال کیا ہے اور انہی شقوں کی وجہ سے ہراسگی اور ناانصافی کا ماحول پیدا ہوا ہے جس سے کاروباری افراد اور بیوروکریسی نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ حکومت کے لئے دوسرا چیلنج ایف اے ٹی ایف سے جڑے 14 قوانین کی منظوری ہے جن میں سے تین پہلے ہی منظور ہو چکے ہیں، ایک سینیٹ سے منظور ہونا ہے جبکہ 10 ابھی وعدوں کی سطح پر ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام بلز، جب منظور ہو جائیں گے، ملک کو بین الاقوامی اداروں سے کیے گئے وعدوں کے معاملے پر پٹری پر لائیں گے، ملک کا مالیاتی نظام شفاف ہوگا اور اس میں منی لانڈرنگ وغیرہ نہیں ہو پائے گی۔ اس سے پاکستان پر منڈلانے والے بین عالمی برادری کی جانب سے بائیکاٹ کی شکل میں سیاہ بادل بھی چھٹ جائیں گے جس کیلئے بھارت پاکستان کیخلاف زبردست کوششوں میں مصروف ہے۔
ایف اے ٹی ایف اور نیب قوانین کے علاوہ حکومت کے لئے تیسرا چیلنج این ایف سی ایوارڈ ہے جس پر کام ہو رہا ہے تاکہ قرضوں اور دفاعی اخراجات کا بوجھ صوبوں کے ساتھ شیئر کیا جا سکے۔ ذریعے کے مطابق، یہ کام ایسے طریقے سے کیا جائے گا کہ جس میں 18ویں ترمیم کو نہیں چھیڑا جائے گا اور اگر ضرورت ہوئی تو اس میں تھوڑی تبدیلیاں کی جائیں گی۔اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وفاقی حکومت کیلئے باعث تشویش معاملات حل ہوں اور سیاسی بحران بھی پیدا نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق ان تینوں معاملات کو دیکھیں تو اس پیکیج ڈیل میں ملک کے اُس سیاسی اور معاشی بحران کو بڑی حد تک حل کرنے کی صلاحیت ہے جس نے حکومت کو اس کے دو سال کے دوران پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔
پہلے مرحلے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب ترامیم کے حوالے سے خلیج کو دور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم اب تک حکومت اور اپوزیشن کی نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے تجاویز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اپوزیشن کے 15 صفحات پر مشتمل مسودہ میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں تاکہ کسی کو بلا جواز ہراساں اور ٹھوس ثبوت کے بغیر گرفتار نہ کیا جا سکے۔ حکومت نے اپنے مسودے میں اختصار سے کام لیا ہے اور گذشتہ برس جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس سے کچھ مختلف ترامیم بھی متعارف کرائی ہیں۔ حکومت نے اپنے مسودے میں چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز دی ہے۔واضح رہے کہ نیب قانون کے تحت چیئرمین کی مدت ملازمت چار سال ہوتی ہے اور اس میں توسیع نہیں دی جا سکتی جبکہ دیگر دو عہدوں کی مدت تین، تین سال رکھی گئی ہے۔اس مسودے کے مطابق نیب کسی ایسے شخص کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز نہیں ہو گا جس کا کسی عوامی عہدیدار سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق نہ ہو اور اگر عوامی عہدے دار کے خلاف حکومتی منصوبے یا سکیم سے مالی فائدہ اٹھانے کا ثبوت نہیں تو قواعد و ضوابط کی بے قاعدگی ہونے پر نیب قانون لاگو نہیں ہو گا۔عوامی عہدیدار کے زیر کفالت یا بے نامی دار نے فائدہ اٹھایا تو نیب قانون لگے گا، اس کے علاوہ عوامی عہدے دار کے اثاثے اس کے ذرائع آمدن سے میل نہیں کھاتے تو اصل قیمت کا تعین ڈسٹرکٹ کلیکٹر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کرے گا۔ اس میں سے جس کی قیمت زیادہ ہو گی، اسے درست مانا جائے گا۔ عوامی عہدیدار اور اس کے زیر کفالت کے ناجائز فائدہ اٹھانے سے متعلق ٹھوس ثبوت دینے ہوں گے جبکہ عوامی عہدیدار کے اچھی نیت سے کیے گئے کسی فیصلے پر نیب قانون کا اطلاق نہیں ہو سکے گا۔
یہ تجویز بھی رکھی گئی ہے کہ سات سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد نیب کوئی ریفرنس یا تحقیقات دائر نہیں کرے گا۔ ایسا معاملہ جس میں قومی دولت ملوث نہ ہو ،جس کا تعلق سرکاری یا پرائیویٹ لمیٹڈ یا دیگر کمپنیوں سے تعلق ہو جس کے لئے ریگولیٹری ضوابط پہلے ہی سے موجود ہوں۔ اس کے علاوہ وزارتی سطح پر سرکاری کمیٹی کے فیصلے جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہوں ۔رضاکارانہ واپسی کے حوالے سے نیب کی دفعہ کو پلی بارگین کی صورت ختم کر دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔ایسا شخص سرکاری منصب پر برقرار رہنے کا اہل نہیں ہو گا اور دس سال کے لئے اسے نا اہل قرار دے دیا جائے گا ۔نیب ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت اسی صوبے میں ہو گی جہاں سے وہ منتخب ہوا یا خدمات انجام دی ہوں ۔مجوزہ ترامیم میں فیڈرل سروس کمیشن کے تحت نیب میں تازہ تقرریوں کی تجویز دی گئی ہے ۔نیب کوتفتیش اور تحقیقات سے متعلق عام اور میڈیا کو بیانات جاری کر نے سے روکا جائے ۔جو نیب افسر اس کی خلاف ورزی کو مرتکب ہو وہ سزا کا مستحق ہو گا ۔جو ایک ماہ سے کم نہ اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو۔ مجوزہ قانون میں کسی بھی نیب افسر کے خلاف شکایت یا مقدمہ دائر کر نے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے ۔جو تشدد یا ہراساں کر نے کا مرتکب پایا گیا ہو ۔
