حکومت بچانے کے لئے کپتان کا ترین سے صلح کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کو ملک کی ایک بڑی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے آٹا چینی سکینڈل کے حوالے سے جہانگیر ترین، چوہدری برادران اور کابینہ اراکین کے خلاف کارروائی سے احتراز برتنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں حکومت گرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق خفیہ ایجنسی کے اس قیمتی مشورے پر عمل کرتے ہوئے کپتان نے پہلے تو آٹا چینی سکینڈل کی فرانزک رپورٹ میں تاخیر کروائی اور بعدازاں نیب کی جانب سے اس میگا سکینڈل کی انکوائری شروع کرنے کے اعلان کے باوجود احتساب بیورو کو ایسا کرنے سے روک دیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو یہ قیمتی مشورہ ان کے حددرجہ ممدومعاون ملک کی بڑی خفیہ ایجنسی کے اس سربراہ نے دیا جس نے ماضی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنائی تھی۔ اب ان کے خیر خواہ نے انہیں یہ مشورہ دیا ہے کہ آٹے چینی سکینڈل کے حوالے سے جذباتی فیصلوں کی بجائے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں اور اپنے اتحادیوں کو ناراض کرنے کی بجائے ان کے ساتھ معاملات بہتر کیے جایئں۔ کپتانکو بتایا گیا ہے کہ بصورت دیگر مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کا قائم رہنا مشکل ہو جائے گا۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور چوہدری برادران کی جانب سے ناراضی کو مدنظر رکھتے ہوئے خفیہ ایجنسی نے کپتان پر واضح کیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے بے لاگ احتساب کے بیانیے کو درست ثابت کرنے کے لئے جہانگیر ترین، چوہدری برادران اور کابینہ میں شامل تگڑے وزیر خسرو بختیار اور منتخب مگر انتہائی بااثر مشیروں ندیم بابر اور عبدالرزاق داؤد کے خلاف کارروائی کی تو حکومت کی بنیادیں کمزور پڑنا شروع ہو جائیں گے اور پھر ایک روز حکومت گر جائے گی۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں نون لیگ چوہدری برادران اور جہانگیر ترین میں ہونے والے خفیہ رابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایجنسی نے وزیراعظم پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی حکومت بچانے کے لیے آٹا چینی سکینڈل پر تحقیقات پر مٹی پاؤ پالیسی اپنائیں ورنہ تحریک انصاف اقتدار سے بے دخل ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم عمران خان پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اگرچہ ماضی میں ان کی حکومت بنانے اور گزشتہ دو سال میں پیش آنے والے کئی چیلنجز سے حکومت کو نکالنے میں کامیابی رہی ہے لیکن موجودہ حالات میں حالات اس قدر پیچیدہ ہو ہیں کہ ایجنسی اپنا جادوئی کردار ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم سے ناراضی کے بعد جہانگیر ترین ان دنوں مسلم لیگ نون اور قاف لیگ سے رابطے میں ہیں اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے منتخب اراکین اسمبلی سے بھی مشورے کر رہے ہیں۔ دوسری جانب آٹا جینی سکینڈل میں مونس الٰہی کا نام آنے اور اس کے بعد چوہدری برادران کے خلاف انیس برس پرانے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کو نیب کی جانب سے دوبارہ کھولے جانے پر چوہدری برادران کپتان سے سخت ناراض ہیں۔ اسلام آباد کی سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے نیب کے ذریعے جہانگیر ترین اور چوہدری برادران کو سخت پیغام بھجوا دیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف حکومت کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاہم بہت سے تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں میں خفیہ ایجنسی کے حکومت کے ساتھ تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آٹا جینی سکینڈل کی وجہ سے یہ سیاسی راہنما کوئی بڑا اپ سیٹ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران آئندہ انتخابات کی تیاری میں ہیں اس لیے وہ کسی طرح حکومت کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب جہانگیرترین اپنے کاروباری مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پر دباؤ بھی ڈال رہے ہیں تاہم کسی بڑی محاذرائی کے لئے آمادہ نظر نہیں آتے۔
یہ بھی خبریں ہیں کہ وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے جہانگیر ترین سے ایک اہم ملاقات کی ہے جس میں انہیں وزیراعظم کی پوزیشن سے آگاہ کیا گیا یے۔ تاہم جہانگیرترین نے پرویز خٹک کے سامنے قائل ہونے کی بجائے شکایات کے انبار لگاتے ہوئے گلہ کیا کہ وزیراعظم نے آٹا چینی سکینڈل میں ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا حالانکہ حکومت سازی کے معاملے میں انہوں نے کنگ میکر کا کردار ادا کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک نے بھی جہانگیر ترین کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اپنا دل کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ انہوں نے کپتان کی زیرقیادت خیبر پختونخوا میں بطور وزیراعلی بہترین دور گزارا تاہم موجودہ سیٹ اپ میں انہیں وزیردفاع بنا کر نہ تو اختیارات دیئے گئے ہیں بلکہ خیبرپختونخوا کی سیاست میں بھی انہیں وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کے حقدار ہیں ۔علاوہ ازیں کپتان کی وفاقی کابینہ میں شامل غیر منتخب چہرے اب حاوی ہو چکے ہیں۔
آٹا چینی سکینڈل کی وجہ سے کپتان کے سابق ساتھی اور اتحادی اب کیا حکمت عملی اختیار کریں گے اس حوالے سے تو کچھ کہنا مشکل ہے تاہم ایک بات طے ہے کہ کپتان نے اپنی حکومت بچانے کے لیے خفیہ ایجنسی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے احتساب کے بیانیے پر ایک بڑا یوٹرن لینے کو تیار ہیں اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ آٹا چینی سکینڈل کی تحقیقات کو مزید لٹکایا جائے گا تاکہ یہ معاملہ وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جائے۔ لیکن دوسری طرف کپتان کے قریبی ساتھی شیخ رشید کا یہ موقف ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت آٹا اور چینی سکینڈل پر یوٹرن نہیں لیں گے کیونکہ اس طرح ان کا احتساب کا بیانیہ ہوا ہو جائے گا اور وہ عوام کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button