حکومت سپریم کورٹ ڈیم فنڈ سے 13 ارب نکال کر کھا گئی


پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین چیف جسٹس ثاقب نثار کے ایما پر ’ڈیم فنڈ‘ کے نام سے جو 12 ارب 93 کروڑ روپے کی رقم اکٹھی کی گئی تھی اس میں سے ڈیم کی تعمیر پر ایک روپیہ بھی خرچ نہ کیے جانے کے باوجود اس وقت ڈیم فنڈ میں صرف سات لاکھ 93 ہزار روپے کا بیلنس موجود ہے یعنی 12 ارب غائب ہو چکے ہیں کیوں کہ یہ رقم موجودہ حکومت نکلوانے کر کھا چکی ہے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی میں سرکاری طور پر ایک سوال کے جواب میں کیا گیا ہے۔
حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسلم خان نے وزارت آبی وسائل سے پوچھا تھا کہ سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈ میں کتنی رقم جمع ہوئی تھی اور اس کا کیا استعمال کیا گیا ہے؟
اپنے تحریری جواب میں وزیر آبی وسائل مونس الہی نے بتایا کہ ’ڈیم فنڈ میں کل تقریباً 13 ارب روپے کی رقم جمع ہوئی تھی جس میں سے اب صرف قریباً آٹھ لاکھ اس اکاؤنٹ میں باقی بچی ہے جبکہ باقی رقم حکومت نے بطور قرض حاصل کر لی ہے یعنی اس رقم کی ٹریژری بل میں سرمایہ کاری کر دی گئی ہے۔‘ قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ’18 جون 2020 کو ڈیم فنڈ سے آٹھ کروڑ روپے نکال کر حکومتی قرضے میں ادا کیے گئے۔ اس کے بعد دو جولائی 2020 کو 13 کروڑ روپے، 16 جولائی کو آٹھ کروڑ روپے، تیس جولائی کو 12 کروڑ روپے، اور 13 اگست 2020 کو بارہ ارب روپے کی رقم نکال لی گئی۔‘ حکومت نے اسمبلی میں تسلیم کیا ہے کہ ’ڈیم فنڈ کی رقم ٹریژری بل میں سرمایہ کاری کے طور پر لگا دی گئی ہے۔‘ یاد رہے کہ ’ٹریژری بل بنیادی طور پر حکومت کا قرضہ ہوتا ہے جو ایک خاص شرح سود پر خاص وقت کے لیے لیا جاتا ہے۔ گویا حکومت اپنی ضمانت پر جو مقامی بینکوں یا مالیاتی اداروں سے قرض لیتی ہے اسے ٹریژری بل کہتے ہیں۔‘
ناقدین نے حکومت کی اس حرکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں اور حکومت سے پوچھیں کہ اس نے کس قانون کے تحت ڈیم فنڈ کو اپنی جیب میں ڈالا ہے؟
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار عرف بابا رحمتے نے 10 جولائی 2018 کو دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کیا تھا جس میں عوام سے چندہ دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ تمام بڑے بینکوں نے اس حوالے سے رقوم کی کٹوتی بھی کی تھی اور چیف جسٹس کو مختلف سرکاری اور پرائیویٹ شخصیات نے بھی اس فنڈ کے لیے عطیات دیے تھے جن میں ملازمین کی ایک یا زیادہ دن کی تنخواہوں کی کٹوتی بھی شامل تھی۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے سات ستمبر 2018 کو چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے اس مہم کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اسی دن اس فنڈ کا نام بدل کر ’وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ‘ رکھ دیا گیا تھا۔ اس دوران ثاقب نثار نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ اس ڈیم فنڈ کی پائی پائی کا حساب رکھیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو ڈیم پر ایک جھونپڑی تعمیر کرکے اس میں قیام پذیر ہو جائیں گے تاکہ ڈیم کی نگرانی کر سکیں۔ تاہم اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی عوام کی جیبوں سے ڈیم کے نام پر پیسہ نکلوانے کے بعد حکومت اسے اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں ہونے والے اس انکشاف کے بعد کپتان حکومت شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ لوگوں نے جو پیسے ڈیم تعمیر کرنے کے لیے دیے تھے انکو حکومت اپنے تصرف میں کیسے لے آئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لیں۔

Back to top button