حکومت سپریم کورٹ کو سیاست میں ملوث کرنے سے باز رہے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ پی ڈی ایم کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
مردان میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول کا کہنا تھاکہ معاشی مسائل کا حل پیپلزپارٹی کےپاس ہے، آزادکشمیر الیکشن کے بائیکاٹ کی غلطی نہیں کریں گے جبکہ ہمارے اتحادی بھی آج ہمارے فیصلے کو مان رہےہیں، استعفا دیتے تو پی ٹی آئی کو کھلا میدان مل جاتا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سیاسی اتحاد ہے، سیاسی اختلاف ہوسکتے ہیں، پارلیمان میں ہم ایک ہیں اور ہم نےقائدحزب اختلاف کو اختیار دیا ہے۔پی ڈی ایم پر تنقید کرتے ہوئے پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ ہم نے پی ڈی ایم میں واپس جانے کی نہ خواہش ظاہر کی نہ درخواست دی، ہم پی ڈی ایم کا نوٹس پھاڑ چکے اور آپ بار بار کیوں کہہ رہے ہو ان کو نہیں لیں گے؟ ہم آنا بھی نہیں چاہتے ، آپ کی مہربانی، اگرپی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی اور اے این پی نہیں تواحتجاج کے بغیرسیدھا استعفے دیتے۔بلاول کا مزید کہنا تھاکہ معاملہ صرف استعفے کا تھا، ایک سال تک استعفیٰ استعفیٰ کرتے رہے تو اب استعفے دیں، آپ استعفیٰ بھی نہیں دے رہے اور الیکشن بھی لڑ رہے ہیں، جب پیپلز پارٹی کے ہی مؤقف پر چلنا ہے تو پیپلز پارٹی ہی جوائن کرلیں۔ان کا کہنا ہے کہ انقلابیوں کو یہی سمجھا رہاہوں کہ عمران خان کیلئے میدان نہ چھوڑيں، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے بغیر پی ڈی ایم جمہوری تحریک ہی نہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سینئر پی پی خورشید شاہ کے بیٹے ایم پی اے فرخ شاہ گرفتاری پر انتباہی انداز میں کہا ہے کہ جو پی پی کارکنوں کے بیٹوں کو پکڑے گا،اس کے بیٹے بھی پکڑے جائیں گے۔ جگہ جگہ پیپلز پارٹی کی حکومت آرہی ہے، ہم اصلی احتساب کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری ایم این اے خورشید شاہ کے بیٹے فرخ کی گرفتاری برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کی ہمارے جیالوں ڈرا دھمکا کے نیب کے کیسز بنائیں گے، ہمارے امیدوار گھبرانے والا نہیں ہے ہم پیچھے نہیں ہٹنے والے ہے، یاد رکھیں میرے کارکنوں کے بیٹوں کوگرفتارتومیں بھی آپ کے بیٹوں کوگرفتارکرونگا، ایسی سیاست کوختم ہونا چاہیے، انشااللہ جگہ،جگہ پیپلزپارٹی کی حکومت آرہی ہے، ہم صیحح احتساب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان کی تبدیلی کا اصل چہرہ، پاکستان میں اس وقت تاریخ کی سب سے زیادہ بے روزگاری ہے، جتنی بے روزگاری عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت میں ہے، اتنی ماضی میں کبھی نہیں رہی۔ یہ بے روزگاری وزیراعظم کی تبدیلی کی اصل شکل ہے، جس نہج پر غربت پہنچ چکی ہے وہ بھی تاریخی ہے، عمران خان اور ان کے وزیر اتنے شرمندہ ہیں کہ وہ غربت اور بے روزگاری کے اعداد و شمار کو اپنے معاشی سروے سے بالکل غائب کردیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام سے اصل اعداد و شمار چھپا سکتے ہیں، وہ عوام سے یہ اعداد وشمار چھپانا چاہتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری تاریخی سطح پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے وزیر خزانہ جو باتیں کررہے تھے، اس سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور ملک کے بجٹ اور معیشت کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ ملک جہاں عوام تاریخی، بیروزگاری اور مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں، اسی ملک کا وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خزانہ معاشی ترقی کی جو بات کرتے ہیں، اس میں کوئی وزن نہیں ہے اور وہ مصائب سے دوچار عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی بنیاد پیپلزپارٹی نے رکھی، اگرہم نے جمہوریت کوبحال کرنا ہے توپھرشفاف انتخاب ہونا چاہیے، اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اختلافات ہو سکتے لیکن پارلیمنٹ میں ایک پیج پرہے، پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے، قبائلی علاقوں کوضم کرلیا گیا لیکن ان سے وعدوں کوپورا نہیں کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کا سیاسی معاملات میں سپریم کورٹ کو ملوث کرنا خطرناک ہے حکومت ایسی حرکتوں سے باز آ جائے.
بلاول نے کہا کہ تحت بھائی آنے کا مقصدپیپلزپارٹی کے کارکنان سے کچھ وقت گزار سکوں، کل عوام دشمن بجٹ پیش ہوا ہے، مہنگائی تاریخی سطح پر پہنچ گئی، مہنگائی کی شرح افغانستان سے بھی بڑھ گئی ہے،ان حکمرانوں نے عوام کی غربت فگرز چھپانے کی کوشش کی ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، پینشن اور تنخواہوں میں 150 فیصد اضافہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہوا ہے، سرحدوں کی دفاع کرنے والے سپاہیوں تنخواہوں میں اضافہ پیپلز پارٹی نے کیا تھا، مہنگائی کی مناسبت سے تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔
پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں ہمارے امیدوار الیکشن جیتیں گے، مستقبل پیپلزپارٹی کا ہے اورجیت پیپلزپارٹی کی ہوگی۔ اگرہم سینیٹ میں بائیکاٹ کرتے توآج پی ٹی آئی کے پاس سپرمیجورٹی ہوتی، ہمارے اتحادیوں نے استعفے، بائیکاٹ کی غلطی کوتسلیم کیا ہے۔
