حکومت شدت پسند مولوی سے لال مسجد کا قبضہ لینے میں ناکام

وفاقی حکومت تین ہفتوں سے اسلام آباد کے مرکز میں واقع لال مسجد پر قابض شدت پسند مولانا عبدالعزیز سے مسجد کا قبضہ چھڑوانے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور حالات اسی سمت جاتے نظر آتے ہیں جن میں بالآخر فوج کو جولائی 2007 میں ایک خونی آپریشن کرنا پڑا تھا۔
لال مسجد کا خطیب بننے پر بضد شر پسند مولانا عبدالعزیز نے ایک طے شدہ معاہدے کو توڑتے ہوئے علمائے کرام کی سفارشات اور وزارت داخلہ کے انتباہ کو مسترد کردیا ہے اور لال مسجد کا قبضہ چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں لال مسجد پر مولانا عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں کا قبضہ اور بیرونی اطراف میں سیکیورٹی فورسز کا محاصرہ برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی انتظامیہ نے وزارت داخلہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان حالات میں اب مولانا سے لال مسجد کا قبضہ چھڑانے کا آخری راستہ کمانڈو ایکشن ہے لیکن ایسی صورت میں مولانا اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے مسلح مزاحمت کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ ماضی میں بھی ہو چکا یے۔
یاد رہے کہ جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں خون خرابہ کروانے والے مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسام 200 کے قریب خاتون طالب علموں کے ہمراہ مسجد پر قابض ہیں۔ مولانا کا مطالبہ ہے کہ انہیں لال مسجد کا خطیب اور ان کے بھتیجے اور مولانا عبدالرشید غازی کے صاحبزادے ہارون رشید کو نائب خطیب مقرر کیا جائے۔ مولانا کے ضدی رویہ کی وجہ سے صورتحال کشیدہ صورت اختیارکر چکی ہے. مولانا عبدالعزیز اب تین ہفتوں سے زبردستی مسجد پر قابض ہیں اورانھوں نے خود کو خود ساختہ خطیب ڈیکلیئر کردیا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ مسجد میں نماز جمعہ کی امامت بھی کروایئں گے۔۔
دوسری طرف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے لال مسجد کے محاصرے کے بعد کشیدگی بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر علمائے کرام نے بھی لال مسجد کا تنازع طے کرنے کی کوششیں کیں جو بے ثمر رہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے اپنے مطالبات کے حوالے سے حکومت کے بھجوائے گئے قانونی نکات قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق لال مسجد میں قانونی ہتھیاروں سے مسلح 4 افراد موجود ہیں جو مولانا عبدالعزیز کے باڈی گارڈز ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کا ایک دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ اسلام آباد سیکٹر ایچ 11 میں منسوخ کئے گئے جامعہ خفصہ کے پلاٹ کے متبادل نہ صرف پلاٹ فراہم کیا جائے بلکہ ایچ 11 میں تعمیرات پر اٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی بھی یقینی بنائی جائے۔ تاہم حکومتی ذمہ داران نے مولانا کے مطالبات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ مولانا ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور کسی ریٹائرڈ شخص کو قانون کے مطابق محکمہ اوقاف کی مساجد میں خطیب مقرر کرنےکی گنجائش نہیں۔ مولانا عبدالعزیز سرکاری ملکیت کی لال مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دینے کے مجاز نہیں۔ مولانا عبدالعزیز پر یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ صرف ایک شخص کے لیے قانون کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے مولانا قانون کی پاسداری کرتے ہوئے مسجد کا قبضہ چھوڑ دیں۔
واضح رہے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے لال مسجد کے امام کے تقرر کا نوٹفیکیشن جاری کرنے میں تاخیر کے بعد مولانا عبدالعزیزطالبات کے ساتھ آکر لال مسجد پر قابض ہوگئے تھے اور حکام کا ردِ عمل جانچنے کے لیے نماز جمعہ کا خطبہ بھی دیا تھا جس میں اشتعال انگیز باتیں کی گئیں تھیں۔ تاہم حکام نے اسے نظر انداز کردیا تھا البتہ صورت حال اس وقت کشیدہ ہوگئی تھی جب سینکڑوں طالبات نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 11 میں قائم جامعہ حفصہ میں داخل ہو کر اس کی سیل توڑ دی تھی۔ بعدازاں انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد خالی کرنے کا انتباہ دینے کے بعد مسجد کے باہر کے علاقے کا محاصرہ کرلیا تھا اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے 20 کنال زمین الاٹ کرنے کے وعدے پر مولانا عبدالعزیز لال مسجد چھوڑنے پر رضامند ہوگئے تھے تاہم بعد ازاں انھوں نے لال مسجد کے خطیب اور امام کے عہدے دئیے جانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button